بین الاقوامی

’روہنگیا معاملے پر میانمار کی فوج پر فوجداری مقدمہ چلایا جائے‘

انٹرنیشل پبلک لاء اینڈ پالیسی گروپ،واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کے ایک گروپ نے پیر تین دسمبر کو کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف شدید نوعیت کے جرائم کے تناظر میں میانمار کی فوج کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔پیر کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں قانونی شعبے سے متعلق انسانی حقوق کے گروپ انٹرنیشل پبلک لاء اینڈ پالیسی گروپ نے کہا کہ میانمار کی فوج مبینہ طور پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے واقعات میں ملوث رہی ہے اور اس سلسلے میں ایک فوج داری ٹریبونل قائم کیا جانا چاہیے تاکہ ان جرائم میں ملوث افراد کو سزا دی جا سکے۔یہ رپورٹ بنگلہ دیش میں مقیم ایک ہزار سے زائد روہنگیا باشندوں کے انٹرویوز کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ اس گروپ کے مطابق ایسے کافی شواہد موجود ہیں، جو واضح کرتے ہیں کہ میانمار کی فوج ملک کی ایک اقلیت کے خلاف شدید نوعیت کے جرائم میں ملوث ہو سکتی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکومتوں کی جانب سے اپنی آبادی کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کو روکنے اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جانے کو یقینی بنائے۔‘‘اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر فوری طور پر یا توکوئی علیحدہ سے ٹریبونل قائم کیا جانا چاہیے یا پھر یہ معاملہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سپرد ہونا چاہیے۔رواں برس اگست میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ میانمار کی فوج روہنگیا کے خلاف قتل عام اور اجتماعی زیادتیوں جیسے جرائم میں ’نسل کشی کی نیت‘ کے ساتھ ملوث ہو سکتی ہے اور میانمار کی فوج کے سربراہ سمیت پانچ جرنیلوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت انصاف کا سامنا کرنا چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close