اتر پردیش

ریاستی سرکار اور وزارت صحت وائرل امراض کی روک تھام میں ناکام

سہارنپور : پچھلے چند سالوںسے ضلع اسپتال کے علاوہ مختلف اسپتالوں اور نرسنگ ہومس میں ہر روز سو سے زائد مریض وائرل اور مختلف بخاروں سے متاثر ہو کرعلاج کے لئے آتے دیکھے گئے یہ مہلک بخار اخبار کی سرخیاں اس لئے نہی بن سکا کیوں کہ اس بار ان بخاروں کا حملہ پچھڑے اور پسماندہ علاقوںزیادہ ہے جبکہ پاش علاقہ محفوظ ہیں سرکاری اسپتالوں میں ان امراض کے لئے اطمینان بخش علاج ہی دستیاب نہیں ہو سکاہے سیکڑوں لوگوں کو ہر ماہ ہائر سینٹر ریفر کیا جاتاہے جہاں مریضوں نے موٹی رقم خرچ کرکے اپنا علاج کرایا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ سات برسوں سے مختلف قسم کے بخاروں نے ضلع کے چاروں جانب اپنے پائوں پھیلا رکھے ہیں اور ان سالوں میں وائرل بخاروں نے قریب ایک ہزار سے زائدافراد کو اپناشکار بنا لیاہے ہنگامی حالات کے مد نظر چار سال قبل دہلی اور لکھنئو سے بھی مہلک مچھروں کی جانچ اور بخاروں کی جانچ کے لئے خون کے نمونہ جمع کرنے کے لئے کئی ٹیمیں ہمارے سہارنپور میں آئیں انھوں نے مچھروں اور بخار سے متاثر مریضو ںکے خون کے نمونے جانچ کے لئے جمع کئے بہت سے مچھروں کو جانچ کے لئے ٹیمیں اپنے ساتھ لیں گئیں چار سال چھہ ماہ کا عرصہ گزر گیا مگر آ ج تک دہلی اور لکھنئو کی جانچ ٹیموں نے اپنی جانچ رپورٹ پیش کر کے یہ ثابت نہیں کیا کہ یہ بخار کونسا ہے اور اس بخار میں کون سی دوائی کارگر ثابت ہوگی ؟سابق وزیراعلیٰ مایاوتی نے مئی۲۰۱۱ سے دسمبر ۲۰۱۲ تک ضلع سہارنپور کے مختلف اسپتالوںکو کروڑوں روپئے کی دوائی بھجوائی بہت سی سوشل تنظیموں نے بخاروں کی روکتھام کے ئے مریضوں کے ساتھ تعاون بھی کیا اس کے باوجود بھی ہزار سے زائد افراد لوگ لقمہ اجل بن گئے لکھنئو سے لے کر سہارنپور تک کسی بھی سیاست دانوں کو بخار سے مارے گئے لوگوں کا درد نہیں ستایا آجکل یوپی میں بھاجپاکی یوگی سرکار سرگرم عمل ہے دیکھناہے کہ آ گے آگے کیا ہوگا ؟
مغربی یوپی کے سہارنپور دیہات ، دیوبندتحصیل، کیرانہ تحصیل ، شاملی ، کھتولی اور تحصیل رام پور کے بیشتر علاقوں میں گزشتہ آٹھ سالوںسے جاری خطرناک گمنام وائرل بخاروں جیسے ، ملیریا ، ٹائفائڈ اور ڈینگو کے حملوں سے اب تک ہماری کمشنری کے ان علاقوں میںسیکڑوں افراد موت کے منھ میں پہنچ چکے ہیں بخار سے سب سے زیادہ جانی نقصان تحصیل نکوڑ کے گائوں کنڈاکلاں، تحصیل رام پور منیہاران کے چھہ سے زائد گائوں اور تحصیل بہٹ کے بیشتر دیہاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ امسال دیوبند، شاملی اور کیرانہ کے اہم علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملا ویسے تو اس بخار نے پوری کمشنری میں ہی تباہی مچائی مگر زیادہ نقصان پچھڑے اور پسماندہ علاقوں میں ہی دیکھنے کو ملا افسوس کی بات تو یہ ہے کہ موجودہ سرکار سب کچھ جانکر اور دیکھ کر بھی تماشائی بنی رہی اسپتال میں مریضوں کی بھیڑ نے سبھی کو متعجب کر دیا مگر ایسی نازک پوزیشن میں بھی ہمارا محکمہ صحت اور ضلع انتظامیہ لاکھ جدوجہد کے باوجود بھی ان جان لیوا بخاروں پرقابو پانے میں بریی طرح سے ناکام بنا رہاہے گزشتہ تین ماہ سے اس طرح کے بخاروں نے دیہاتی علاقہ میں پھر سے پائوں پسارنے شروع کردئے تھے مگر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ سب کچھ دیکھ کر بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا نظر آیاسرکاری مشینری مکمل طور سے ناکام دیکھی گئی! گزشتہ آٹھ سالوں سے ریاستی محکمہ ہیلتھ اور ہمارے طاقتور سرکار ی نمائندے اس جانب قابل اطمینان بندوبست کرانے میں مکمل طور سے ناکامدیکھے گئے سنا جارہاہے کہ گائوں کنڈاکلاں میں اس عرصہ کے دوران بخاروں ( بیماری )نے درجن بھر بچوں کو اپنا شکار بنا لیاہے وہیں کرشنا ندی کے کناری بسے درجن بھر افراد بھی موت کا نوالہ بن چکے ہیںپچھلے ۸ سالوں سے اسی طرح کے بخاروں( امراض) نے ضلع بھر سے ایک ہزار سے زائد افراد کو اپنا شکار بناکر دنیاسے رخصت کر دیاہے آج بھی یہاں بخار کا اور گمنام امراض کا اثر جاری ہے مگر سرکار اور محکمہ ہیلتھ تماشائی بناہواہے؟
پچھلے سات سالوں میں اس وقت کے آٹھ ضلع مجسٹریٹ نے گزشتہ سال ۲۰۱۱ سے ۲۰۱۶ تک اس ضلع میں اپنا چارج سنبھالنے کے بعد بہت بارپریس میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے واضع کر چکے ہیں کہ ضلع میں وائرل بخاروں اور دیگر خطرناک بیماریوں کے پائوں پھیلانے کی بڑی وجہ آلودگی اور آ لودہ پانی استعمال کرنا ہے اسی جملہ کے بعد یہاں ہر بار ہر سال تبادلہ پر آنے والے ضلع مجسٹریٹ کی حیثیت سے ضلع میں آئے ضلع مجسٹریٹ زہیر بن صغیر، اجے سنگھ، سندھیا تیواری، اندرویر سنگھ یادو ، پون کمار، شفقت کمال ، پرمود کمار پانڈے اور موجودہ ڈی ایم آلوک کمار پانڈے نے بھی اپنی اپنی تعیناتی کے دوران اپنی پہلی کانفرنس میں یہ بات تسلیم کی تھی کہ ضلع کا پانی آلودہ ہے اور ضلع کے اطراف میں پھیلے گائوں کا دورہ کرنے کے بعد یہ احکامات جاری کئے گئے تھے کہ پینے کے صاف پانی کی سپلائی کے بہتر انتظامات ہر صورت کئے جائیں پورے ضلع کو گندگی سے پاک کیا جائیگا مگر افسوس کا مقام ہے کہ مندرجہ بالا پانچوں ضلع مجسٹریٹ اس ضلع کو گندگی سے پاک کرناتودور رہا بخاروں سے بھی عوام کی حفاظت کرانے میں بری سے ناکام رہے وجہ یہ رہی ہے مقامی سیاست دانوں، ممبران اسمبلی اور ریاستی وزرا نے شفاف پانی کی سپلائی کے لئے گزشتہ سات سالوں سے بجٹ کی مانگ ہی سرکار سے نہی کی جس وجہ سے ضلع میں مختلف وائرل بخاروں سے سیکڑوں اموات رونما ہوتی گئیں، اسی طرح کرشنا ندی کے کنارے بسے گائوں کے بھی دوسو سے زائد افراد اس بیچ کینسر کا شکار ہوچکے ہیں مگر کوئی جانچ نہی کوئی پوچھ تاچھ نہی !
قابل ذکر ہیکہ گزشتہ سال ۲۰۱۱ میں جناب زہیر بن صغیر ضلع میں کلکٹر کی حیثیت سے تشریف لائے آپنے آنے کے بعد ماہ اگست اور ستمبر ۰۱۱ ۲ میں ضلع کے ان گائوں کا دورہ کیا کہ جہاں بخار سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا تھا جناب زہیر بن صغیر نے گائوں کا دورا کرنے کے بعد کہا کہ بخار سے ہونے والی اموات کی وجہ پینے کا گندا پانی اور علاقہ میں پھیلی گندگی ہی ہے اگر علاقہ میں پینے کا صاٖف پانی سپلائی کیا جائے اور گندگی کو دور کیا جائے تو جانلیوہ بخاروں اور امراض سے عوام کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے اس وقت کے قابل کلکٹر زہیر بن صغیر نے پینے کے پانی کا صاف ستھرا انتظام کرایا اور اپنی سخت محنت کے بعد گائوں میں صفائی ملازمین کی تعیناتی کی جس کے نتیجہ میں ان گائوں میں عوام کو پینے کا صاف پانی میسر ہوا اور ہر روز ان گائوں میں گندگی دو ر کرنے کے لئے صٖفائی ملازمین تیزی کے ساتھ صفائی کا کام انجام دینے لگے زہیر بن صغیر کے ضلع سے چلے جانے کے بعد پھر سے انتظامیہ میں پھیر بدل ہوا نتیجہ کے طور پر ضلع میں زندگی پھر پہلے کی طرح اس ہی پٹری پر لوٹ آئی دس مہینہ بخار اور دیگر مھلک امراض ضلع کے عوام سے دور رہے دس ماہ بعد پھر وہی گندا پانی اور گندگی کے باعث مختلف قسم کے بخاروں اور وائرل بیماریوں نے ضلع کی عوام کو پھر سے اپنی پکڑ میں لے لیا نتیجہ کے طورپر اکتوبر ۲۰۱۲تک ہزاروں لوگ ضلع میں مختلف قسم کے بخاروں سے جکڑے رہے اور کوئی بھی دوا ضلع اسپتالوں میں ان بخاروں کو کنٹرول نہ کر پائی سیکڑوں لوگ او ربچے بخاروں اور ڈائریہ سے موت کے منھ میں چلے گئے آج بھی ضلع کے سرکاری اسپتالوں میں بخار کا علاج موجود نہیں ہے!
( خاص خبراحمد رضا)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close