سیاستہندوستان

ریزرویشن بل پر پارلیمنٹ کی مہر

نئی دہلی:عام زمرے کے معاشی طور سے پسماندہ خاندانوں کو تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں 10 فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق تاریخی 124 ویں آئینی ترمیمی بل 2019 پر آج دیر رات پارلیمنٹ کی مہر لگ گئی۔راجیہ سبھا میں اس بل پر تقریبا آٹھ گھنٹے تک جاری بحث کے بعد اسے سات کے مقابلے 165 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ لوک سبھا اس بل کو کل ہی منظور کرچکی ہے۔برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور اپوزیشن کی تقریبا تمام جماعتوں نے بل کی حمایت کی لیکن دراوڑ منیتر كژگم (ڈی ایم کے)، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور بھارتی کمیونسٹ پارٹی نے بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز پیش کی جسے 18 کے مقابلے 155 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔کانگریس کے ساتھ ہی سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، تیلگو دیشم پارٹی اور ترنمول کانگریس نے بل کی حمایت کی جبکہ اے آئی ڈی ایم کے، راشٹریہ جنتا دل اور عام آدمی پارٹی نے اس کی مخالفت کی۔بحث کا جواب دیتے ہوئے سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر تھاور چند گہلوت نےکہا کہ حکومت نے نیک ارداے سے بل کو پیش کیا ہے جس سے عام زمرے کے لوگوں کو تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کا فائدہ مل سکے گا۔مسٹر گہلوت نے اعتماد اظہار کیا کہ اس آئینی ترمیمی بل کے قانون میں تبدیل ہونے کے بعد سے عام زمرے کے لاکھوں کروڑوں خاندانوں کو فائدہ ملے گا۔ اس میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو بھی فائدہ حاصل ہوگا۔ لنچ کے بعد شروع ہوئی بحث میں 36 لوگوں نے حصہ لیا۔
اس سے قبل ہنگامے کے درمیان ہی مسٹر گہلوت نے بل لائے جانے کی وجوہات گنواتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی عام طبقے کے لوگوں کو ریزرویشن کے دائرے میں لانے کا مطالبہ ہوتا رہا ہے اور منڈل کمیشن میں بھی کہا گیا تھا کہ اقتصادی طور پر پسماندہ لوگوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے۔ اس سے متعلق ذاتی بل بھی ایوان میں پیش کئے گئے ہیں۔پہلے بھی حکومتوں نے اقتصادی طور پر پسماندہ افراد کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آئین میں اس سلسلے ترمیم کی تجویز نہ لائے جانے کی وجہ سپریم عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ لہذا اس بار حکومت آئین میں ترمیم کر کے اقتصادی طور پر پچھڑے ہوئے لوگوں کے لئے ریزرویشن کا نظم کر رہی ہے۔اس پر مسٹر مستری نے انتظام کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایوان میں کوئی بل پیش کرنے کے لئے دو دن پہلے اطلاع دی جاتی ہے اور بل کے مسودے میں اس کے اہداف اور مقاصد کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن اس بل میں ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ اگر یہ بل عجلت میں لایا جا رہا ہے تو ہمیں تحریری طور پر اس کی وجہ بتائی جانی چاہئے۔ لہذا یہ بل نامکمل ہے اور یہ ایوان میں پیش نہیں کیا جانا چاہئے۔اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے کہا کہ آج صبح اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میٹنگ میں اس بل کو منظور کرانے کے لئے 8 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا لیکن اب کانگریس تکنیکی وجوہات پر بل کی مخالفت کر رہی ہے۔اس پر ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ کانگریس اس کی مخالفت نہیں کر رہی ہے مسٹر گوئل ہم پر مخالفت کرنے کا الزام کیوں لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پونے پانچ سال کے بعد اب حکومت نیند سے جاگی ہے اور وہ بل لا کر سیاست کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں روزگار کے ایک کروڑ 10 لاکھ موقع کم ہوئے ہیں۔ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ نے بھی بل کو قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کا مطالبہ کیا لیکن ڈپٹی چیئرمین نے ان تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے بل پر بحث شروع کرا دی۔ اس دوران اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی جاری رہی اور ڈپٹی چیئرمین نے ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی لنچ تک کے لئے ملتوی کر دی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close