مگدھ

زہریلی شراب معاملے میں14کو عمر قید

بہار شریف 81 فساد معاملے میں 6افراد کو عمر قید ، 21ملزمین ناکافی ثبوت کی بنیاد پر رہا

آرہ ؍بہار شریف: بھوجپورزہریلی شراب معاملے میں ایڈیشنل ضلع اور سیشن جج نے 14 افراد کو عمر قید اور ایک کو دو سال کی سزا سنائی ہے۔ 14 کو غیر ارادی قتل ،ایس سی ایس ٹی ایکٹ اور آبکاری قانون کے تحت قصوروار پایا گیا تھا۔ جبکہ ایک کو آبکاری ایکٹ اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت قصوروار پایا گیا تھا۔ گذشتہ منگل کو عدالت نے سبھی 15ملزمین کو اس معاملے میں قصوروار قرار دیا تھا اور سزا کا فیصلہ سنانے کیلئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔ قصوروار قرار دیئے جانے کے ساتھ ہی سبھی ملزمین کو حراست میں لے لیاگیا تھا۔ خیال رہے کہ 7دسمبر 2012 کو زہریلی شراب پینے سے شہر میں 21 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ شہر میں تین دنوں تک موت کا رقص چلتا رہا تھا۔ اس خوفناک رات کو یاد کرکے آج بھی لوگ سحر جاتے ہیں۔دوسری طرف بہار شریف کی ایک عدالت نے 1981میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادسے متعلق ایک معاملے میں6افراد کو عمر قید اورمالی جرمانہ کی سزاسنائی ہے۔یہ فساد شہر کے علی نگر محلے میں رونما ہوا تھا جس میں ایک معصوم لڑکے کی بھی شہادت عمل میں آئی تھی ۔لیکن رام پرتاپ استھانا کی عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنیاد پر 21؍ ملزمین کو رہا کر دیا ۔جن لوگوں کو سزا سنائی گئی ان کے نام سنیل عرف سونین سائو کو عمر قید کی سزا اور پانچ ہزار جرمانہ اسکے علاوہ ایک دیگردفعہ میں سات سال کی قید اور پانچ ہزار روپیہ جرمانہ سنایا ۔جرمانہ نہیں دینے پر مزید ایک سال کی سزا بھگتنی ہوگی ۔چھوٹے کمہار کو بھی عمر قید اور دوسرےدفعہ میں سات سال قید اور پانچ ہزار کا جرمانہ لگایاگیا ہے۔اسی طرح کسٹو پٹوا ،اشوری بند ،اجئے سنگھ ،نند لال یادو کو بھی عمر قید اور بیس ہزار روپئے مالی جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے ۔جرمانہ نہیں ادا کرنے کی صورت میں مزید تین سال قید بھگتنی ہوگی ۔اسکے علاوہ مزید دودفعات میں سات سات سال کی سزا اور پانچ پانچ ہزار روپیہ کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔جرمانہ نہیں ادا کرنے کی صورت میں مزید ایک سال سزا بھگتنی ہوگی ۔سبھی مجرمین کی تمام سزائیںساتھ ساتھ چلیں گی ۔لچھمن رام اور کسٹو پٹوا کو دس سال کی قید اور دس ہزار کا مالی جرمانہ سنایا گیا ۔ اس مقدمہ میں کل 32؍لوگوں کے خلاف ٹرائل چلا تھا اور اس میں کامیابی اور فتح کا سہرا انجمن مفید الاسلام کے اراکین و عہدے داران کے سر جاتا ہے ۔عدالت کے اس فیصلے سے فساد متاثرین کے ورثا پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ انہیں حیرت ہے کہ معاملے کے 21 ملزمین کیسے رہا ہوگئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close