ٹیکنالوجی

سائنسدانوں کا ’ نظام شمسی کی خلائی کشتی‘ میں زندگی کے آثار کی موجودگی کا دعویٰ

ہوائی: سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں دریافت ہونے والے سیارچے ’ نظام شمسی کی خلائی کشتی‘ میں زندگی کے آثار موجود ہوسکتے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں یجنسی کے مطابق ہارورڈ کے سائنسداں گزشتہ ماہ دریافت ہونے والے سیارچے ’ اومو اموآ ‘ میں زندگی کے آثار موجود ہونے کے لیے پرامید ہیں۔ یہ سیارچہ 19 اکتوبر کو دریافت ہوا تھا اور اسے ’ شمسی نظام کی خلائی کشتی‘ کا نام بھی دیا گیا۔
سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ دم دار ستارے اور سیارچہ کی مشترکہ خصوصیات رکھنے والے ’اے کے اے اومو اموآ‘ سے ایسے شواہد ملے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ یہاں زندگی کے آثار موجود ہوسکتے ہیں۔ اس حوالہ سے مثبت پیش رفت سامنے آنے کے بعد مزید ریسرچ کے لیے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ماہرین اس سیارچے کی منفرد ساخت پر بھی تحقیق کررہے ہیں جو کہ کشتی کی طرح ہے اور اس کی سطح پر ایسے ذرات موجود ہیں جن کی موجودگی زندگی کی ضامن ہے تاہم ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
سائنسدانوں کی خوش امیدی اپنی جگہ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مریخ میں زندگی کے آثار کی بنیاد پر نئی دنیا بسانے کے خواب دیکھنے والے سائنس دانوں کے لیے نو دریافت سیارچے ’ نظام شمسی کی کشتی‘ امید کی واثق کرن ثابت ہوتی ہے یا اس سے وابستہ امیدیں مایوسی میں تبدیل ہوجائیں گی اس بات کا فیصلہ آنے والے وقت پر چھوڑتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close