مضامین

سابق صدرجمہوریہ عبدالکلام کا ہاکر سے صدارت تک کا سفر

سابق صدر جمہوریہ ہند، ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام 15 اکتوبر 1931ء میں بھارت کے ایک جزیرے ” رامش ورم “ میں پیدا ہوئے ‘ یہ جزیرہ تامل ناڈو میں سری لنکا کے قریب واقع ہے اور یہ سری لنکا کی طرف بھارت کا پہلا اور آخری شہر ہے‘ عبدالکلام ” رامش ورم “ کے نہایت ہی غریب ترین مسلمانوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ والد کا کل اثاثہ ایک کشتی تھی‘ وہ یہ کشتی مسافروں کو کرائے پر دیتے تھے‘ کشتی کے کرایہ سے خاندان کا گذر بسر ہوتا تھا ‘ عبدالکلام کے بڑے بھائی نے بچپن میں پرچون کی دکان کھول لی تھی ‘ عبدالکلام کا بچپنہ اور جوانی تنگ دستی میں گزری‘ وہ تین چار سال کی عمر میں املی کے بیج اکٹھے کرکے فروخت کرتےتھے‘ سارے دن کی محنت کے بعد انہیں ایک آنہ ملتا تھا ‘ وہ بھائی کی دکان پر بھی بیٹھتے تھے اور لوگوں کے گھروں میں اخبار بھی پھینکتے تھے‘ وہ اناج منڈی میں بھی کام کرتے رہے‘وہ کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی کرتے تھے‘ بہت ہی ذہین اور لائق تھے چنانچہ بچپن ہی میں وظیفے ملنے لگے۔ ” رامش ورم “ میں ہندوؤں کی اکثریت تھی‘ اسکول میں بھی مسلمان طالب علم کم تھے‘ اساتذہ مسلمان طالب علموں پر سختی کر کے انہیں اسکول سے بھگا دیتے تھے‘ وہ بھی استادوں کے اس ناروا سلوک کا نشانہ بنتے رہتے تھے لیکن ثابت قدمی اور اللہ کی مدد دونوں ان کے ساتھ شامل حال تھی چنانچہ گاؤں کے مکھیا کو جب یہ اطلاع ملی تو اس نے اساتذہ کو ڈانٹ پھٹکار لگایا اور یوں استادوں نے انہیں بھی انسان سمجھنا شروع کر دیا ‘ وہ ریاضی میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے‘ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ ہوا ‘ فیس ہزار روپے تھی لیکن گھر میں اتنی بڑی رقم نہیں تھی‘ عبدالکلام نے اعلیٰ تعلیم کا خیال چھوڑ دیا لیکن پھر ان کی بڑی بہن فرشتہ بن کرسامنے آئی‘ اس نے اپنی کلائی چوڑیاں بیچ کر عبدالکلام کی فیس ادا کر دی، یوں یہ یونیورسٹی پہنچ گئے لیکن وہاں فیس معافی کےلئے پوزیشن حاصل کرنا ضروری تھا ‘ عبدالکلام اس کے بعد صرف فیس معاف کرانے کےلئے پوزیشنیں لیتے رہے‘ یہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھارت کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ ہو گئے‘ عبدالکلام نے 1974ءمیں بھارت کو ایٹمی طاقت بھی بنایا اور یہ بھارت میں میزائل پروگرام کی بنیاد رکھ کر ” میزائل مین“ بھی کہلائے‘ یہ 2000ءتک مختلف پوزیشنوں پر کام کرتے رہے یہاں تک کہ 2002ء میں انہیں بھارت کا صدر جمہوریہ بنا دیا گیا ‘ یہ 2007ءتک صدر جمہوریہ ہند رہے۔ عبدالکلام کمال کے انسان تھے‘ یہ وقت کے انتہائی پابند تھے‘ صبح ساڑھے چھ سے سات بجے کے درمیان کام شروع کرتے تھے‘ ٹی وی نہیں دیکھتے تھے‘ ان کے گھر میں ٹی وی نہیں تھا‘ اپنی تمام ای میلز خود چیک کرتے تھے اور جواب بھی خود ہی دیتے تھے‘ پوری زندگی کام کیا ‘ ان کا انتقال بھی شیلانگ میں لیکچر کے دوران ہی ہوا ‘ وہ لیکچر دے رہے تھے‘ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ‘ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں انکو مردہ قرار دیا گیا، یہ ذاتی زندگی میں انتہائی سادہ‘ ایماندار اور منکسرالمزاج تھے‘ وہ ایوان صدر میں تین بکسے لے کر آئے اور یہ تین بکسے ہی ان کے ساتھ واپس گئے‘ بھارت کے پہلے مسلمان صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کے دور سے ایوان صدر میں رمضان میں افطار پارٹی دیا جاتا تھا ‘ ڈاکٹر عبدالکلام صدر بنے‘ ان کی صدارت کا پہلا رمضان آیا ‘ مہمانوں کی فہرست دیکھی‘ اسٹاف کو بلایا اور کہا ” یہ تمام لوگ خوش حال ہیں‘ افطاری ان کا ایشو نہیں‘ ہم کیوں نہ یہ رقم یتیم خانوں میں تقسیم کر دیں“ اسٹاف نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا ‘ صدر نے پوچھا ” افطار پارٹی پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے“ جواب ملا ” ڈھائی لاکھ روپے“ ڈاکٹر عبدالکلام نے ڈھائی لاکھ روپے منگوائے‘ ایک لاکھ روپے اپنے جیب خاص سے ڈالے‘ ساڑھے تین لاکھ روپے کا آٹا ‘ دالیں‘ کمبل اور سویٹر منگوائے اور یہ سامان دہلی کے 28 یتیم خانوں میں تقسیم کرا دیا ‘ وہ جب تک صدر رہے‘ وہ افطار پارٹی کی رقم اسی طرح یتیم خانوں میں تقسیم کراتے رہے‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے مئی 2006ء میں اپنے پورے خاندان کو ایوان صدر بلایا ‘ خاندان کے 52 افراد ان کی دعوت پر دہلی آئے‘ ان میں ان کے 90 سال کے بڑے بھائی بھی شامل تھے اور انکی ڈیڑھ سال کی پوتی بھی تھی ‘ یہ لوگ آٹھ دن ایوان صدر میں رہے‘ صدر نے انہیں اجمیر شریف بھی بھجوایا ‘ یہ لوگ واپس چلے گئے تو صدر عبدالکلام نے اپنے خاندان کی رہائش‘ خوراک اور ٹرانسپورٹ کا بل منگوایا ‘ یہ تین لاکھ 52 ہزار روپے بنتے تھے‘ صدر نے ذاتی اکاؤنٹ سے یہ رقم ادا کر دی‘ انہوں نے چائے کے ایک ایک کپ کے پیسے ادا کئے‘ خاندان اجمیر شریف گیا تھا ‘ اس ” زیارت “ کےلئے بھی کوئی سرکاری گاڑی استعمال نہیں ہوئی‘ صدر نے پرائیویٹ بس کا انتظام کیا اور خاندان کو اس بس پر اجمیر شریف بھجوایا ‘ صدر نے پانچ برسوں میں صدر جمہوریہ کی حیثیت سے 176 دورے کئے لیکن ان دوروں میں غیر ملکی دورے صرف سات تھے‘ باقی 169 دورے اندرون ملک تھے‘ وہ صدر کی حیثیت سے ملک کی ہر ریاست‘ ہر بڑے شہر اور ہر کمیونٹی کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی‘ وہ ہر ہفتے دو تین سیمیناروں میں بھی شریک ہوتے تھے اور وہاں لیکچر دیتے تھے‘ سادگی کا یہ عالم تھا ‘ بھارت کے تقریباً تمام اخبارات‘ صحافیوں اور ٹیلی ویژن اینکرز نے ان کی موت پر یہ واقعہ ضرور بیان کیا ‘کہ وہ بطور صدر کسی تقریب کی صدارت کر رہے تھے‘ عبدالکلام نے صدارتی خطبہ دے دیا ‘ تقریب ختم ہو گئی‘ وہ رخصت ہونے لگے تو کسی صحافی نے ان سے سوال پوچھ لیا ‘
وہ اس وقت تک سٹیج سے اتر چکے تھے لیکن وہ واپس مڑے اور سٹیج کے ایک کونے میں زمین پر بیٹھ گئے‘ ہال میں بیٹھے لوگ فوراً کھڑے ہو گئے لیکن عبدالکلام نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھے بیٹھے صحافی کی بات کا جواب دیا ‘ یہ ان کی ذات میں چھپی ہوئی سادگی تھی‘ وہ اس سادگی کا مظاہرہ کرتے وقت پروٹوکول بھی فراموش کر دیا کرتے تھے‘ وہ کس قدر بڑے انسان تھے آپ اس کا اندازہ ان کے دورہ امریکا سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب 2011ء میں امریکا کے دورے پر گئےتھے ‘ یہ نیویارک ائیرپورٹ پہنچے تو یہ اپنے لباس‘ انداز اور نشست و برخاست‘ کسی زاویئے سے وی وی آئی پی نہیں لگتے تھے چنانچہ سیکورٹی حکام نے انہیں تلاشی کے لئے روک لیا ‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے پیشانی پر شکن ڈالے بغیر تلاشی دے دی‘ کلیئر ہوئے اور آرام سے باہر آ گئے‘ امریکی حکام کو اس واقعے کا علم ہوا تو امریکا نے اس رویئے پر بھارت سے تحریری معافی مانگی‘ امریکا میں یہ سلوک دنیا کے بے شمار حکمرانوں کے ساتھ ہو چکا ہے‘ ہمارے اپنے وزراء اور اعلی حکام امریکی ائیرپورٹس پر اس سلوک کا شکار ہو چکے ہیں لیکن امریکا نے معافی صرف عبدالکلام سے مانگی‘ دنیا میں ڈاکٹر عبدالکلام جیسے لوگ بھی بے شمار ہیں‘ مگر یہ وہ عبدالکلام ہیں جنہوں نے انتہائی غربت میں آنکھیں کھولی اور کھردری زمین پر گھٹنوں کے بل چل چل کر کامیابی کے آخری زینے تک پہنچے‘ دنیا میں کامیابی انوکھی بات‘ انوکھی چیز نہیں لیکن کامیابی کے بعد اور ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ کر اپنی سادگی‘ اپنی ایمانداری اور اپنی عاجزی کو قائم رکھنا کمال ہوتا ہے اور ڈاکٹر عبدالکلام کا یہ کمال‘ واقعی کمال قسم کا کمال تھا ‘ آپ نے درویشوں کو بادشاہ بنتے اور بادشاہوں کو درویش بنتے دیکھا ہو گا لیکن آپ نے کسی درویش کو تخت پر بیٹھ کر اپنی درویشی سنبھالتے ہوئےنہیں دیکھا ہو گا لیکن ڈاکٹر عبدالکلام‘ ایک معمولی کشتی بان کے صاحبزادے ڈاکٹر عبدالکلام نے یہ کمال کیا ‘ یہ تخت کے سامنے کھڑے ہو کر بھی درویش تھے اور یہ تخت پر بیٹھ کر بھی درویش رہے‘ یہ پانی پر چلتی کشتی کی طرح اقتدار کا سفر پورا کر کے84سال کی عمرمیں27جولائ2015کو دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close