ہندوستان

سب کا ساتھ ۔ سب کا وکاس کے نعرے کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں :مودی

سلطان پور؍ہریانہ: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے کے ساتھ ان کی حکومت نے قوم کی ترقی کا جو عزم کیا تھا وہ کامیابی میں تبدیل ہونے لگا ہے اور اس کے نتائج سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔مسٹر مودی نے پیر کے روز ہریانہ میں گروگاوں کے سلطان پور میں عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کے ساڑھے چار سال کے دوران ترقی کے کاموں کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے ملک کے ترقی کے لئے جو عزم کیا تھا اس کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔انہوں نے اس دوران کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کی پالیسیاں ’لٹکانے، بھٹکانے اور اٹکانے‘ والی رہی ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پورے عزم کے ساتھ کام کرتی ہے جو کہ ترقی کی شکل میں عوام تک پہنچتی ہے۔ وزیر اعظم نے ریلی سے خطاب کرنے سے پہلے ڈیجیٹل ریموٹ کے ذریعے ہریانہ کے كونڈلي مانیسر ڈویژن پر 135 کلو میٹر طویل ویسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے کا افتتاح کیا اور مجیسر سے بلبھ گڑھ تک میٹرو ریل کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پلول میں ملک کے پہلی کوشل وکاس یونیورسٹی کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ویسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے منصوبہ04۔ 2003 میں بنا تھا اور اسے دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد تک مکمل ہو جانا چاہئے تھا لیکن کانگریس حکومت کی بدعنوانی کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ کام وقت پر مکمل نہیں ہو سکا۔ اس میں ڈیڑھ دہائی کا وقت لگ گیا اور اس کی تعمیر کا خرچ بھی کئی گنا بڑھ گیا۔ بی جے پی حکومت نے عوام کے مفاد کے پیش نظر اس کام کو دو مراحل میں مکمل کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایسٹرن پیریفیرل ایکسپریس وے کا کام پہلے ہی مکمل کر چکی ہے۔ مشرقی اور مغربی ایکسپریس وے کی تعمیر کا کام مکمل ہونے کے بعد دہلی کے چاروں طرف 270 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے کی تعمیر ہو چکی ہے۔ اس سے بڑی تعداد میں گاڑیوں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے دہلی نہیں جانا پڑے گا اور دہلی میں آلودگی میں 35 سے 40 فیصد کمی آ سکتی ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ملک کو بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے طور پر مضبوط کرنے کی رہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں 27 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر روزانہ ہو رہی ہے جبکہ 2014 تک ہر دن 12 کلومیٹر سڑکیں ہی بن رہی تھیں۔ سابق حکومت کبھی بھی ترقی میں یقین نہیں رکھتی تھی اس لئے ترقیاتی کاموں پر اثر پڑا ہے اور ویسٹرن پیرفیرل وے کام لٹکتا رہا۔ سابق حکومت کام کی تہذیب سے کبھی آشنا نہیں تھی، اس لیے وہاں ترقیاتی کام متاثر ہوئے اور ویسٹرن پیریفیلرل وے کا کام لٹکتا رہا۔
بھارت مالا پروگرام کے تحت 35000 کلو میٹر قومی شاہراہ کی تعمیر کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے آبی راستوں کی سمت میں بڑا کام کیا ہے۔ حکومت نے 100 سے زیادہ آبی گزرگاہوں کی ترقی کا کام کیا ہے۔ اسی طرح ریلوے کو بھی جدید بنایا جارہا ہے جس سے میک ان انڈیا کے کام کو رفتار مل رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close