اتر پردیش

سرکار کی نظر میں اقلیتی طبقہ دوسرے نمبر کا شہری۔۔۔ پچھڑا سماج مہا سبھا

اقلیتوںکو اعلیٰ تعلیم اور سرکاری نوکریوں سے دور ر کھنا گھنونی سازش!

سہارنپور: ہر بار الیکشن کے موقع پر ہندو مسلم کے درمیان کھائی پیدا کرنے کی کوششیں اس ملک میں لمبے عرصہ سے جاری ہیں شاندار آئین اور قانون موجود ہونیکے بعد بھی ایسے تحزیب کاروں پر آج تک بھی سختی سے ایکشن نہی لیا آخر کمزوری کہاں ہے اسکا جواب تلاش کرنا بیحد ضروری ہے ان دنوں ملک میں عدم رواداری ، زہر آلودہ بیان بازی اور تعصب سے لبریز وارداتیں عام ہیں، تعجب کی بات ہے کہ تین دن قبل شیو سینا نے خد ہی قبول کیاہے کہ ہم نے صرف ۱۷ منٹ میں بابری مسجد شہد کی ہے اس صاف شفاف اقبالیہ بیان کے بعد بھی اس لیڈر کیخلاف ابھی بھی کسی تھانہ میں ایف آئی آر درج نہی کیگئی آخر کیوں کیا سبھی قائدے قانون صرف مسلم طبقہ کو جانی اور بمالی خسارہ پہنچانیکے لئے ہی ہیں کیوں ان ظالموں اور مجرموں کو سرکار پناہ دئے ہوئے ہے ؟ صحافیوں سے آج گفتگو کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پچھڑا سماج قائدین نے سرکاری نظریات پر سوال کھڑے کرتے ہوئے مسلم طبقہ کی جان ومال اور عزت کی مکمل حفاظت کے بہتر بندوبست کئے جانیکی مانگ پھر سے دہرائی پچھڑا سماج کے سینئر قائد احسان الحق ملک نے کہا کہ۱۹۹۰ میں اس وقت کی مرکزی سرکار نے مسلم فرقہ کی فلاح بہبودگی، ترقی ا ور تعلیمی ترقی کیلئے پندرہ نکاتی پروگرام تیار کیا گیاتھا سبھی خوش تھے کہ اب مسلم قوم کا بھلا ہوگا مگر زمینی سطح پر جاکر اگر آپ غور کریں توا ن پندرہ نکاتکا نفاذ پورے ملک میں آجتک ساٹھ فیصد بھی ایمانداری سے لاگو نہی ہواہے اس سچائی سے سبھی سیاسی جماعتیں خوب واقف ہیں قابل احترام سچر کمیٹی کی سفارشات پر مبنی یہ عملی کام شروع کیا جاناتھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا رہا سرکار کا جوش ٹھنڈا پڑتاگیا ! موجودہ وقت میں ۲۰۱۸ کے ماہ ستمبر تک بھاجپائی سرکاروں نے نوکریوں میں مسلم طبقہ کو پچھاڑ کر نیا ریکارڈ بنا دیا ہے خاص طور سے یوپی میں قریب ۴ ہزار اردو ٹیچرس کی اسامیاں رد کردی گئی ہیں یعنی کے مسلم امیدواروں کو نوکریوں سے کلعدم کرنیکا ستر سال پرانہ آر ایس ایس کا نظریہ آج بھاجپائی سرکاریں پورے ملک میں بڑی ہوشیاری اور مکاری سے جاری کئے ہوئے ہیں سرکاری نوکریوں سے جان بوجھ کر اقلیتی فرقہ کے قابل افراد کو دور رکھنے کی سازش لگاتار کیجا جارہی ہے اردو تعلیم یافتہ نوجوانوں کی آگے بڑھنے کی بنیادی امیدوں کو سرے سے ختم کیا جا رہاہیاتنا دیکھتے ہوئے بھی دستور ہند کے محافظ خاموش ہیں!
سوشل قائد احسان الحق نے بتایا کہ مرزا پور، بارا بنکی ، بستی ، بلیا،گونڈا، بہرائچ ، گورکھ پور اور فیض آباد کے پچھڑے علاقوں میں اقلیتی فرقہ کے افراد کو تعلیمی، سماجی اور اقتصادی طور پر بیدار کرنیکے لئے پچھڑا سماج مہا سبھا لگاتار پچھلے ۳۰ سالوں سے سخت جدوجہد میں مشغول ہیں یہاں یہ بھی اہم ہے کہ پچھڑا سماج کیلئے جو لوگ کام کرتے ہیں انمیں ہندو ،مسلم، عیسائی اور دلت فرقہ سے جڑے افرا د بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اس ٹیم کا مقصد پچھڑے اور دبے کچلے عوام کو ترقی کی دوڑ سے جوڑنا ہے اگر دیکھا جائے تو یہ بہت اونچا عملی کام ہے اس کارکردگی کی تعریف اور حوصلہ افزائی بیحد ضروری ہے ! سیاسی مفاد پرستوں نے۱۹۹۲ کے بعدسے ہی ایک سازش کے تحت مسلم فرقہ کوہزاروں مصائب سے دوچار کر کے رکھ دیاہے آج بھی فرقہ پرستی، ملک دشمنی، دہشت گردی، جہالت، بیروزگاری اور فسادات کا بھوت اس مظلوم قوم کا پیچھا چھوڑ نیکو کسی بھی صورت راضی نہی ہے اس قوم کے ووٹ ہتھیانے کیلئے اس قوم کو طرح طرح کے مسائل میں الجھایا اور ستایا جارہاہے کوئی ہمدرد نہی سبھی کچھ چھلاوے جیساہے !پچھڑا سماج مہا سبھا کے قائد ایچ ملک نے اپنے بیان میں واضع کیا ہے کہ ملک میں موجودہ سرکاریں اقلیتی فرقہ کو روزگار اور اعلیٰ تعلیم سے دور رکھنے کیلئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے جو غیر جمہوری عمل ہے آج ضرورت ہے کہ قوم خد بیدار ہوکر اپنی کامیابی کے راستہ خد تلاش کرے!
(رپورٹ:احمد رضا)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close