بہارپٹنہ

سر خم تسلیم کرنے کا نام حج ہے : شبلی قاسمی

پٹنہ:ریاست بہارسے جانے والے عازمین حج کے اعزاز میں حج بھون ،پٹنہ میں دعائیہ مجلس کے انعقادکاسلسلہ بدستور جاری ہے ۔ آج کی دعائیہ مجلس میں عازمین حج کو خطاب فرماتے ہوئے حضرت مولانا شبلی قاسمی ، نائب ناظم امارت شرعیہ ، پھلواری شریف نے کہا کہ اللہ نے یہ سفر آپ کی مالداری ،آپ کی شہرت کی وجہ سے آپ کے لئے مقدر نہیں کیا ہے بلکہ آپ کو اللہ کے فضل و کرم سے یہ موقع عنایت ہوا ہے۔ آپ اُس سر زمین پر جا رہے ہیں جہاں جبرئیل امین بھی سلامی بجا لانے کے لئے آیا کرتے تھے۔ جہاںحضرت ابو بکر صدیق ؓ اکبر بنے جہاں حضرت عمرؓ کی عدالت کی شہرت ہوئی جہاں حضرت عثمان غنی ؓ کی شخاوت سے لوگوں نے فائدہ اُٹھایا اور جہاں حضرت علی ؓ کی شجاعت سے اسلام کو بلندی ملی۔ آپ اُس سر زمین پر جار ہے ہیں جہاں سیدہ فاطمہ زہرا ؓ نے اپنی کفایت شعاری ، فاقہ کشی کے ذریعہ دین اسلام کو زندہ کیا۔ ہماری ماں بہنیں حضرت فاطمہ زہرا ؓ جیسی عبادت گذار ، پاک باز اور شرم و حیا کی پیکر کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔ اُنہوں نے فرمایا حج کے سفر میں شیطان مقید نہیں کیا جاتا بلکہ ہر قدم پر آپ کو بہکانے کی کوشش کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے جس پر زندگی بھر اپنا روڑا ڈالا آج وہ اپنی بخشش کروانے کے لئے جا رہا ہے ۔ اس لئے آپ ہوشیار رہیں شیطان ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا کہ آپ کو آپ کے کام سے روک دے اس میں منافرت پیدا کر دے اور آپس میں ایک دوسرے سے عداوت پیدا کردے۔ لیکن آپ ہر گز ہر گز اس کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے اور اپنے آپ کو اللہ کی رضاء کے لئے وقف کر دیں گے تو اللہ کی رحمت اور نصرت آپ کے ساتھ شامل حال ہوگی۔ اُنہوں نے مزید فرمایا کہ مر دو خواتین یہ بات اچھی طرح یاد رکھ لیں کہ جو شہر رسول ؐ میں جا کر سنت نبوی کو اپنی زندگی میں داخل نہ کر سکا اور جو خواتین بی بی فاطمہ کی قناعت ، حیا اور پردہ کو حاصل نہ کر سکیں پھر اسکی مدینہ کی حاضری کا کوئی معنیٰ نہیں ہے۔ مدینہ منورہ میں یہ لازم کر لیجے کہ ہمارے نبی ؐ کس طرح چلتے تھے، کس طرح سوتے تھے، کس طرح جاگتے تھے،کیسے اُٹھتے تھے، کیسے بیٹھتے تھے۔ ہم بھی اُسی نبی ؐ کی سنتوں کے مطابق ہر حال میںاپنی زندگی گذاریں گے اگر یہ عہد لیکر لوٹے تبھی آپ نبی ؐ کی شفاعت کے صحیح حقدار ہونگے۔ وہاں مسجد نبوی ؐ میں ایک وقت کی بھی آپ کی نماز ضائع نہ ہونے پائے۔ مہمان خصوصی حضرت مولانا سید شاہ سیف الدین فردوسی،سجادہ نشیں ،خانقاہ معظم بہار شریف نے اپنی کلیدی خطاب میں فرمایا کہ پہلے میں آپ کو مبارکباد پیش کر تا ہوں۔ حج کے فرائض اورواجبات کے بارے میں بہت کچھ سن چکے ہیں۔ حج کی روح کیا ہے وہاں جا کر آپ کو کیا کرنا ہے یہ جاننا آپ کے لئے بہت ضروری ہے۔ اُنہوںنے مخدوم جہاں ؒکے حوالے سے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں سچی طلب بڑی چیز ہوتی ہے اور اللہ اُسے انعا مات سے نوازتا ہے اگر آپ کو نیکیوں کی توفیق مل رہی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے محبت کرتا ہے۔ اس سفر میں ہر مومن کو چاہئے کہ یک رنگ، یک زبان ہو کر اللہ کی رضاء کے لئے اپنے اوقات کے ایک ایک لمحہ کو ذکر و تلاوت، تسبیح و کلمہ ، استغفار و دعاء میں لگائے رکھے۔ عرفات ،مزدلفہ ، منیٰ کے قیام کو غنیمت جان کر بخشش کی دعائیں کریں۔ ریاستی حج کمیٹی کے معزز چیئر مین الحاج حافظ محمد الیاس عرف سونو بابو نے خطب صدارت پیش کر تے ہوئے فرمایاکہ میں سب سے پہلے آپ تمام عازمین و عازمات کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو اپنے گھر کی زیارت اور اپنے رسول ؐ کے دیار کی زیارت کے لئے بلایا ہے۔ اُنہوں نے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں حکومت کی طرف سے ہونے والے انتظامات سے فائدہ اُٹھانے کا مشورہ دیتے ہوئے بتایا کہ برانچ آفس اور طبی سہولتوں سے فائدہ اُٹھائیں۔ اگر خدا نا خواستہ آپ کا سامان آپ کی رہائشی بلڈنگ سے علہدہ کہیں اور چلا جائے تو آپ ہر گز پریشان نہیں ہونگے بلکہ وہاں کے برانچ آفس سے رابطہ قائم کرینگے۔ آپ کے ساتھ آپ کی رہنمائی کے لئے ریاست بہار سے خادم الحجاج بھی جا رہے ہیں جن سے آپ رابطہ کر مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اقلیتی فلاح ، حکومت بہار جناب خورشید عرف فیروز احمد گاہے بگاہے حج بھون کے انتظام و انصرام پر گہری نظر رکھتے ہیں اور حج بھون کے افسران اور عملہ کو ضروری ہدایت دیتے رہتے ہیں۔ دعائیہ مجلس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اُس کے بعد نعتیہ کلام پیش کیا گیا۔ نظامت کے فرائض مولانا ایوب نظامی قاسمی ،مدرسہ صوت القرآن ،داناپور نے انجام دئے۔ مڈیا انچارج صغیر احمد نے بتایا کہ گیا ائیر پورٹ سے مدینہ کے لئے روانہ ہونے والی آج کی پہلی اور دوسری فلائٹ سے جانے والے عازمین کی کل تعدادبالترتیب 150,150ہے ۔ مجلس میںبڑی تعداد میں اہل ایمان نے شرکت کی ۔آج کی پہلی فلائٹ سے جانے والے خادم الحجاج محمد ضیاء الدین اور دوسری فلائٹ سے جانے والے خادم الحجاج سید عرفان احمد ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close