بین الاقوامی

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سی آئی اے کی سربراہ امریکی کانگریس کو بریفنگ دیں گی

واشنگٹن:امریکی میڈیا کے مطابق ملک کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی سربراہ آج کانگرس کو سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے بریفنگ دیں گی۔سی آئی اے سربراہ جینا ہیسپل گذشتہ ہفتے وزارت خارجہ اور دفاع کو دی جانے والی بریفنگ میں موجود نہیں تھیں جس پر کانگریسی اراکین نے غصے کا اظہار کیا تھا۔خیال رہے کہ خاشقجی کا قتل اکتوبر میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں ہوا تھا۔ امریکی میڈیا نے یہ رپورٹ دی تھی کہ سی آئی اے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ خاشقجی کے قتل کا حکم ممکنہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دیا تھا۔سعودی عرب نے 11 افراد پر اس قتل کا الزام تو لگایا ہے اور مقدمہ بھی درج کیا ہے، تاہم ولی عہد کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ محمد بن سلمان سعود القحطانی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ سعود القحطانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی نگرانی میں ہی جمال خاشقجی کا قتل ہوا۔وزیر خارجہ مائک پومپیؤ اور وزیر دفاع جیمز میٹس نے گذشتہ ہفتے سینیٹروں کو بتایا تھا کہ اس قتل میں شہزادہ ولی عہد کے شامل ہونے کے براہ راست شواہد نہیں ہیں۔جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شہزادہ ولی عہد کے ملوث ہونے کے متعلق سی آئی اے کی رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ انھوں نے 20 نومبر کو کہا: ‘بہت حد تک یہ ممکن ہے کہ شہزادہ ولی عہد کو اس المناک واقعے کا علم رہا ہو، ہوسکتا ہے رہا بھی ہو، ہو سکتا ہے نہیں بھی رہا ہو۔’جینا ہیسپل مبینہ طور پر سی آئی اے کی رپورٹ کے میڈیا میں لیک ہونے پر بہت زیادہ ناراض ہیں۔ جبکہ سی آئی اے نے منگل کو ہونے والی بریفنگ کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔
خاشقجی کون تھے؟
ایک زمانے میں خاشقجی سعودی عرب کے شاہی خاندان میں مشیر ہوا کرتے تھے لیکن پھر وہ تیزی سے سعودی حکومت کی نظرِ عنایت سے دور ہوتے گئے یہاں تک کہ گذشتہ سال سے وہ خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگے۔جمال خاشقجی سنہ 1958 میں مدینہ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے امریکہ کی انڈیانا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی تھی۔اس کے بعد وہ سعودی عرب لوٹ آئے اور ایک صحافی کے طور پر سنہ 1980 کی دہائی میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ایک مقامی اخبار میں سوویت روس کے افغانستان پر حملے کی رپورٹنگ سے اپنی صحافت شروع کی۔اس دوران انھوں نے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن پر قریب سے نظر رکھی اور سنہ 1980 اور 90 کی دہائیوں میں کئی بار ان سے انٹرویو کیا۔اس کے بعد سے انھوں نے خطہ عرب میں رونما ہونے والے دوسرے اہم واقعات کی رپورٹنگ بھی کی جن میں کویت کے معاملے پر ہونے والی خلیجی جنگ بھی شامل تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close