بین الاقوامی

سفارتی کشیدگی:کینیڈا کا معافی مانگے سے انکار

ریاض :کینیڈا اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی کشیدگی میں سعودی عرب نے کہا ہے کہ ثالثی کی گنجائش نہیں اور کینیڈا کو معلوم ہے کہ ’بڑی غلطی‘ کو درست کرنے کے لیے کیا کرنا ہے جبکہ کینیڈا نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سعودی عرب کے انسانی حقوق پر تشویش کا اظہار کرنے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔
مونٹریول میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جسٹن ٹروڈو نے کہا ’کینیڈا ہمیشہ بھرپور اور واضح انداز میں نجی اور سب کے سامنے انسانی حقوق کے سوال پر بولتا رہے گا۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ خراب تعلقات نہیں چاہتے۔ کینیڈا تسلیم کرتا ہے کہ سعودی عرب نے انسانی حقوق کے معاملے پر کافی کام کیا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فریلینڈ کی منگل کو سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جا سکے۔انھوں نے مزید کہا ’سفارتی سطح پر بات چیت ہوتی رہے گی۔۔ ضروری نہیں ہے کہ ہماری سعودی عرب کے ساتھ خراب تعلقات ہوں۔ سعودی عرب دنیا کا ایک اہم ملک ہے جو انسانی حقوق کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔‘
سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کینیڈا کو معلوم ہے کہ ’اپنی بڑی غلطی‘ کی درست کرنے کے لیے کیا کرنا ہے۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ثالثی کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ ایک غلطی سرزد ہوئی ہے اور اس غلطی کو درست کرنا ہے۔‘دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہونے کا عندیہ اس بات سے ملتا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ نے کہا سعودی عرب کینیڈا کے خلاف مزید اقدامات لینے کے حوالے سے سوچ رہا ہے۔ تاہم انھوں نے تفصیلات نہیں دیں۔یاد رہے کہ کینیڈا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
سعودی عرب نے کینیڈا پر ملک کے داخلی معاملات میں ‘مداخلت’ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کینیڈا کے سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا جبکہ کینیڈا میں تعینات سعودی سفیر کو بھی واپس بلا لیا۔پریس کانفرنس میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عادل الجبیر نے کہا ان کے خلاف جو الزامات لگے ہیں ان کو منظر عام پر اس وقت لایا جائے گا جب یہ کیس عدالت پہنچیں گے۔انھوں نے ایک بار پھر ان کارکنان کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ کارکنان غیر ملکیوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔’یہ معاملہ انسانی حقوق کا نہیں ہے بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔‘

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close