کالمز

سلطان الہند رحمتہ اللہ علیہ

ریاض فردوسی
دی اذانیں کبھی یورپ کے کلیسائو ںمیں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے سحرائو ں میں
اجمیرصوبہ راجستان کا چھوٹا سا شہر ۔ہندستان کی دارالسلطنت دہلی سے چند گھنٹے کی دوری ہے ،دہلی جو دارالسلطنت ہونے کے باوجود اتنی شہرت نہیں رکھتا جتنی اس چھوٹے سے شہر کو حاصل ہے۔اس شہر کی شہرت سے ہرکس اور ناکس واقف ہے۔کیا وجہ ہے ؟اس لئے کہ صدیوں پہلے ایک مرد مومن نے اس شہر میں اللہ وحدہ لا شریک کی کبرائی کا اعلان کیا تھا۔اس کفرستان میں اللہ وحدہ لا شریک کی توحید بے خوف خطرپیش کیا تھا ۔کفر لرز اٹھا،بت خانوں کی دیواریں تھرا گئی،ابلیس رجیم اللہ کی مشیت دیکھ کر محو حیرت تھا ،ملعون کی تمام چالیں ناکام ہو گئی۔اجمیر کی فضا ذکر اللہ اور ذکر رسول ﷺ سے معطر ہوچکی تھی۔قال اللہ اور قال رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوچکی تھی۔مرد مومن قلندرانہ طریقے سے عوام و خواص کو توحیدکی دعوت پیش کر رہا تھا۔
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی ،
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
اس مرد مومن کا نام سلطان الہند معین الدین چشتی ہے ۔معین الدین چشتی اجمیری کی پیدائش 14رجب المرجب 536ھ بمطابق 1141 عیسوی بروز پیر (ایک اندازے کے مطابق) ایران میں خراسان کے نزدیک سنجر نامی گاؤں میں ہوئی۔یہی مشہور ہے لیکن حقیقت اس سے الگ ہے۔
آپ کی اصل نسبت سجزی ہے، جو کاتبوں کی غلطی اور بولنے والوں کی غلط فہمی سے سنجری بن گیا۔ قدیم مسودات و اشعار سے پتا چلتا ہے کہ ابتدا میں سجزی ہی لکھا اور بولا جاتا تھا۔ سجزی نسبت سجستان کی طرف ہے۔ قدیم جغرافیہ نویس عام طور پر اس کو خراسان کا ایک حصہ مانتے ہیں، موجودہ زمانے میں اس کا اکثر حصہ ایران میں شامل ہے اور باقی افغانستان میں۔(حاشیہ تاریخِ دعوت و عزیمت)
دوسری روایت کے مطابق بروز پیر 14 رجب ۵۳۰ھ مطابق 1135ء کو ہوئی۔والد کا نام غیاث الدین حسین اور والدہ کا نام بی بی ماہ نور تھا۔والد گرامی بہت امیر و کبیر تاجر تھے۔بچپن میں آپ کا اسم گرامی حسن تھا۔آپ کا سلسلہ نصب یہ ہے۔معین الدین بن سید غیاث الدین بن سید کمال الدین بن سید احمد حسین بن سید طاہر بن سید عبد العزیز بن سید ابراہیم بن سید محمد بن امام حسن اصغر بن امام علی نقی بن محمد تقی ابن علي موسی رضا بن موسی کاظم ابن جعفر صادق ابن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی کرم اللہ وجہ کریم۔۔
والدہ ماجدہ کی شجرہ نسب۔(رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین،ورحمہ اللہ تعالیٰ)
بی بی ام الورع موسوم بہ بی بی ماہ نور بنت سید داود بن سید عبداللہ حنبلی بن سید یحییٰ زاہد بن سید محمد روحی بن سید داود بن سید موسیٰ ثانی بن سید عبداللہ ثانی بن سید موسیٰ اخوند بن سید عبداللہ بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن سیدنا علیِ مرتضیٰ (رضوان اللہ علیھم اجمعین و رحمہ اللہ تعالیٰ)
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی پرورش اور تعلیم و تربیت خراسان میں ہوئی، ابتدائی تعلیم والدِ گرامی کے زیرِ سایا ہوئی جو بہت بڑے عالم تھے۔15سال کی عمر میں آپ شفقت پدری سے محروم ہو گئے۔گھر کی تعلیم تربیت کا ذمہ والدہ محترمہ نے بحسن خوبی ادا کیا۔والدہ ماجدہ نے ان خوبصورت الفاظ میں آپ کو نصیحت کی۔
’’فرزند! زندگی کے سفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اگر تم ابھی سے اپنی تکلیفوں کا ماتم کرنے بیٹھ گئے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کیسے طے کرو گے۔ تمہارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کے لیے ہی صرف کر دینی چاہئیں‘‘۔۔یہ ان ہی لفظوں کا اثر ہے کہ آپ کے اندر صبر و استقامت،حلم اور بردباری جلوہ فرما ہے۔
تھوڑے ہی عرصے میں وہ بھی اس دار فانی سے رخصت ہو گئی۔والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثے میں ملی۔ آپ نے ابراہیم قندوزی کی بہترین مہمان نوازی کی اور انگور کے طبق پیش کئے، رخصت کے وقت ابراہیم قندوزی نے ان الفاظ میں آپ کے سامنے روٹی کا ٹکڑا پیش کیا، ـــ’’وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے‘‘۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ یہ دنیا بے رنگ ہو گئی۔شیخ ابراہیم قندوزی سے ملاقات کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی کا نقشہ ہی بدل گیا۔تحصیل علم کے لیے خراساں کو خیرباد کہہ دیا اور آپ نے بخارا کا رُخ کیاجواس وقت علوم و فنون کے اہم مراکز تصور کیے جاتے تھے۔ یہاں پہلے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیر‘ فقہ‘حدیث اور دوسرے علوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔خداداد ذہانت و ذکاوت، بلا کی قوتِ یادداشت اور غیر معمولی فہم وفراست کی وجہ انتہائی کم مدت میں بہت زیادہ علم حاصل کرلیا۔اساتذہ میں خواجہ ابو اسحاق شامی کا نام صف اول میں شامل ہے۔ابھی دل کی تشنگی ختم نہیں ہوئی تھی۔پیر باعمل کی تلاش حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں مکمل ہوئی۔مرشد گرامی کااسم مبارک عثمان ہے۔ آپ کے مبارک وطن قصبہ ”ہارون” کی طرف نسبت کرتے ہوئے آپ کو ہارونی کہا جاتا ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب گیارہویں پشت میں شیر خدا سیدنا مرشدنا مولاناحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتا ہے۔حضرت خواجہ شریف زندنی چشتی قدس سرہ القوی سے آپ کو بیعت و خلافت حاصل ہے۔صاحب مرآۃ الاسرار حضرت علامہ عبد الرحمن بن عبد الرسول علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ خواجہ عثمان ہارونی کا گذر ایسی جگہ سے ہوا جہاں آتش پرست آباد تھے۔ ان کا ایک بہت بڑا آتش کدہ تھا، جس پر انھوں نے گنبد بنا رکھا تھا۔ اس میں شب و روز آگ جلتی رہتی تھی۔ روزانہ بے شمار لکڑیاں جلائی جاتی تھیں اور ہر وقت آتش پرستوں اور مجوسیوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ حضرت خواجہ نے وہاں سے دور ایک درخت کے نیچے ندی کے کنارے قیام فرمایا۔ آپ نے اپنے خادم فخر الدین کو حکم دیا کہ افطار کا وقت قریب ہے لہذا افطاری تیار کرو۔ خادم آگ لینے گیا تو آتش پرستوں نے آگ دینے سے انکار کر دیا۔ خادم نے جا کر ماجرا بیان کیا تو خواجہ صاحب خود آتش کدے کے پاس تشریف لائے، جہاں آتش پرستوں کا سردار اپنے سات سالہ بچے کو گود میں لے کر تخت پر بیٹھا تھا اور اس کے ارد گرد تمام مجوسی بیٹھ کر آگ کی پوجا کر رہے تھے۔ حضرت خواجہ نے مجوسیوں کے سردار سے فرمایا: جو آگ تھوڑے سے پانی سے ختم ہو جاتی ہے اسے پوجنے کا کیا فائدہ؟ اس خالق و مالک کی عبادت کیوں نہیں کرتے جس نے آگ اور ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے؟ آگ کو پوجتے ہو جو ایک مخلوق ہے۔ مجوسیوں کے سردار نے جواب دیا: ہمارے مذہب میں آگ کا بڑا درجہ ہے۔ آگ ہمارا معبود ہے، اس لیے ہم اس کی پوجا کرتے ہیں تا کہ مرنے کے بعد ہمیں نہ جلائے۔
خواجہ صاحب نے فرمایا: برسوں سے تم اس کی پوجا کرتے چلے آ رہے ہو۔ ذرا اس میں ہاتھ ڈال کر دکھاؤ! یہ تمھیں جلاتی ہے یا چھوڑ دیتی ہے؟ اس نے کہا: جلانا آگ کا کام ہے۔ کس کی مجال جو اس کے قریب جا سکے؟ یہ سن کر خواجہ صاحب نے اس کی گود سے اس کے سات سالہ بچے کو لیا اور آگ کی طرف بڑھے، ”” ینارکونی برداوسلاما علی ابراہیم””پڑھ کر دہکتے ہوئے آتش کدے میں چلے گئے۔ ادھر مجوسیوں میں شور شور و غل مچ گیا۔ کچھ دیر تک خواجہ صاحب نگاہوں سے اوجھل رہے، پھر آپ آگ سے اس حال میں نکلے کہ آپ کے اور اس بچے کے کپڑوں پر آگ تو کیا اس کے دھوئیں کا اثر بھی نہ تھا۔ اس دوران ہزاروں آتش پرست جمع ہو گئیتھے۔ یہ کرامت دیکھ کر سب حیران و ششدر رہ گئے۔ انھوں نے بچے سے پوچھا: تو نے آگ کے اندر کیا دیکھا؟ بچے نے کہا: گل و گل زار کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آئی۔خواجہ صاحب کی یہ کرامت دیکھ کر تمام آتش پرست مجوسیوں نے آپ کے قدموں پر سر رکھ دیا اور سب کے سب مسلمان ہو گئے۔ آپ نے ان کے سردار کا نام عبد اللہ اور بیٹے کا نام ابراہیم رکھا۔ آپ نے دونوں کی تربیت فرمائی۔ یہاں تک کہ دونوں منصب ولایت پر فائز ہوئے اور آتش کدے کی جگہ مسجد تعمیر کی گئی۔
کلام؛ حضرت عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ
نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم
(مجھے نہیں معلوم کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں رقصاں ھوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے رقصاں ھوں)
تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم
(توہر وقت جب بھی مجھے نغمہ سناتا ہے، میں ہر بار رقصاں ھوں، اور جس طرز پر بھی تو رقص کراتا ہے، اے یار میں رقصاں ھوں)
سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان
بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم
(سر سے پاؤں تک جو میرا حال ہے اس بیخودی پر میں قربان جاؤں،کہ پرکار کی طرح اپنے ہی گرد رقصاں ھوں)
خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم
(واہ! مے نوشی کہ جس کے لیے میں نے سینکڑوں پارسائیوں کو پامال کر دیا، خوب! تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ رقصاں ھوں)
مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں
منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم
(اے ظاہر دیکھنے والے مدعی!مجھے طعنہ مت مار،میں تو شراب خانے کا مے نوش ہوں کہ سرِ بازار رقصاں ھوں)
تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم
(تُو وہ قاتل ہے کہ تماشے کے لیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خونخوار خنجر کے نیچے رقصاں ھوں)
بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم
(آہ، اے محبوب! اورتماشا دیکھ کہ جانبازوں کی بھِیڑ میں، میں سینکڑوں رسوائیوں کے سامان کیساتھ،سر بازار رقصاں ھوں)
اگرچہ قطرہ شبنم نپوئید بر سرِ خارے
منم آں قطرہ شبنم بنوکِ خار می رقصم
(اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں پڑتا لیکن میں شبنم کا وہ قطرہ ہوں کہ کانٹے کی نوک پر رقصاں ھوں)
کہ عشقِ دوست ہر ساعت دروں نار می رقصم
گاہیبر خاک می غلتم, گاہے بر خار می رقصم
(عشق کا دوست تو ہر گھڑی آگ میں ناچتا ہے،کبھی تو میں خاک میں مل جاتا ہوں،کبھی کانٹے پر رقصاں ھوں)
منم عثمانِ ھارونی کہ یارے شیخِ منصورم
ملامت می کند خلقے و من برَ،دار می رقصم
(میں عثمان ھارونی،شیخ حسین بن منصور حلاج کا دوست ہوں، مجھے خلق ملامت کرتی ہے اور میں سولی پررقصاں ھوں)
سلطان الہند رحمتہ اللہ علیہ شروعاتی دور میں خواجہ عثمان ہارونی کی خدمت میں تقریباً ۲سال اور چندماہ رہے۔ آپ پیرو مرشد کی خدمت کے لیے ساری ساری رات جاگتے رہتے کہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔عثمان ہارونی کرامات کو عیاں نہ ہونے دیتے،اپنی بزرگی کو پردہ میں رکھتے،آپ کی اس خاکساری کو نہ سمجھتے ہوئے تمام مریدوں نے خانقاہ کو خیر آباد کر دیا۔آپ نے فرمایا معین یہاں کچھ نہیں ہے،سب چلے گے تم بھی خانقاہ کو خیر آباد کہو،خواجہ معین الدین چشتی نے کہا حضور میرے پاس اس کے علاوہ کوئی در نہیں،اب زندہ رہوں یا مروں آپ کے قدموں میں ہی زندگی گزرے گی۔اتنا سنتے ہی فتح جذبات سے سیدنا عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو گلے لگا لیا،اور چند ہی روز میں راہ سلوک کی بہت سی منزل طئے کرادی۔آپ نے ایک اندازے کے مطانق 20 سال تک پیر کے ساتھ سفر کیا، اور انکی خدمت کی ان کو کبھی کوئی سامان اٹھانے نہ دیا۔ہمیشہ ان کا سامان سر پر رکھ کر چلتے۔پھر حکم پیر کے کئی سفر کئے۔سفر بغداد کے دوران آپ کی ملاقات شیخ نجم الدین کبریٰ سے ہوئی۔ایک ماہ تک شیخ نجم الدین کبریٰ کے ہاں قیام پزیر رہے،اور ان کی محبتوں اور شفقتوں سے فیض یاب ہوتے رہے،پھرآپ کی حاضری بڑے پیرسیدنا عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ہوئی۔وہاں سے فیضیاب ہو کر آپ ابو سعید تبریزی کی خدمت عالیہ میں حاضری ہو کر شر ف ِفیضیاب ہوئے۔شیخ محمود اصفہانی کے دیدار شوق نے ان کی بارگاہ اصفہان میں حاضری دی۔ایران کے شہر استرآباد تشریف لے آئے ایک مرد کامل حضرت شیخ ناصر الدین قیام پزیر تھے۔ جن کا دو واسطوں سے سلسلہ سیدنا شیخ سلطان المشائخ بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے چند ماہ حضرت شیخ ناصرالدین سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔الغرض مختلف سلاسل کے مشائخ عظام رحمہ اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے آپ فیض یاب ہوئے۔ہندوستان کے سفر میں سیدنا شیخ علی احمد ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں چلہ کیااور انہیں داتاگنج بخش کہ کر پکارا۔یہ نام تاریخ میںدرج ہوکر آب حیات پا گیا۔سو ائے اہل علم کے شائد ہی داتاگنج بخش کا کوئی اصلی نام سے واقف ہے۔
گنج بخش فیضِ عالَم مَظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما
علی ہجویری سارے جہان کو خزانے بخشنے والے اور نور خدا کا مظہر ہیں۔
عوام کیلئے کامل رہنما تو ہیں ہی، کاملوں کیلئے بھی رہبر ہیں۔
آپ اپنے پیر و مرشد کے ساتھ دوران حج میں تھے۔حضرت عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ معین الدین چشتی کو حکم دیا۔
’’معین الدین! آقائے کائنات ﷺکے حضور سلام پیش کرو۔
خواجہ معین الدین چشتی نے گداز قلب کے ساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’السلام علیکم یا سید المرسلین ﷺ۔‘‘ وہاں موجود تمام لوگوں نے سنا۔ روضہ رسول ﷺسے جواب آیا۔
’’وعلیکم السلام یا سلطان الہند‘‘۔ بارگاہ بیکس پناہ آقا دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے ہند کی بادشاہی عطاہوئی۔
آپ کی اہم تصنیفات میں انیس الارواح: یا انیس دولت، جو ملفوظات خواجہ عثمان ہاروَنی ؒ تحریر کیے
گنج اسرار، مجموعہ دیگر از ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی اور شرح مناجات خواجہ عبد اللہ انصاری ہیں
دلیل العارفین،یہ کتاب مسائل طہارت ، نماز، ذکر، محبت، وحدت و آداب سالکین ہیں
بحرالحقائق ، ملفوظات خواجہ معین الدین چشتی خطاب ہے خواجہ قطب الدین بختیار
اسرارالواصلین، اس میں شامل آٹھ خطوط جو خواجہ قطب الدین اوشي بختیار کو لکھے
رسالہ وجودیہ۔
کلمات خواجہ معین الدین چشتی۔ؒ
دیوان مُعین الدین چشتی ،اس میں شامل غزلیات فارسی زبان میں ہے۔
آپ کے مشہورخلفاء میں یہ ہیں۔
قطب الدین بختیار کاکی (خلیفہ و جانشین)
فریدالدین مسعود گنج شکر
فخر الدین چشتی(آپ کے فرزند)
خواجہ ابو سعید چشتی(آپ کے فرزند)
عطاء حسین فانی
شاہ جمال بابا
شیخ حمد االدین صوفی سعيد ناگوری
شیخ فخرالدين اجمیری
بی بی حافظہ جمال دختر شان
خواجہ محمد يادگار سبزواری
شمس الدین ا لتمش بادشاہ ہندوستان
شاہ فخرالدین گردیزی
مولانا ضیاالدین بلخی
شہاب الد ین محمد بن سام غوری فاتح دہلی
پیر حاجی سیدعلی شاہ بخاری۔اور اس کے علاوہ بھی کئی نام ہیں،طوالت کی وجہ سے درج نہیں کئے جا رہے ہیں۔مولانا عبد الحلیم شررؔ نے لکھا ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ عقیدت و ارادت ساتویں درجے میں حضرت اسحاق شامیؒ چشتی تک پہنچتا ہے، جو گویا خاندان چشتیہ کے بانی اور اس متبرک و مقدس لقب کے موجد تھے۔ گیارھویں درجے میں حضرت ابراہیم ادھم تک پہنچتا ہے، جو دنیا کے مشہور و معروف اور نمایاں اولیاء اللہ میں تھے۔ پندرھویں درجے میں جناب صاحبِ ولایت علی ابن ابی طالب تک اور سولھویں میں خاص اس نقطہ رسالت و ولایت سے مل جاتا ہے جو دنیا کی ہدایتِ عاملہ اور شریعت و طریقت حقیقت و معرفت اور علومِ ظاہر و باطن کا سرچشمہ ہے۔(خواجہ معین الدین چشتی)۔سلسلہ چشتیہ حضرت ابواسحاق شامی کی طرف منسوب ہے۔ہرات کے قریب چشت نامی ایک گاوئں ہے اور چشتی اسی کی طرف منسوب ہے۔
آپ کا شجرہ جو سلسلہ چشتیہ کے نام سے موسوم ہے یہ ہے۔
حضرت محمد ﷺ
علی کرم اللہ وجہہ
خواجہ حسن بصری
خواجہ عبدالواحد بن زید
خواجہ فضیل ابن عیاض
خواجہ ابراہیم بن ادہم البلخی
خواجہ حذیفہ مرعشی
خواجہ ابو ہبیرہ بصری
خواجہ ممشاد علوی دینوریؒ
خواجہ ابو اسحاق شامی
خواجہ ابو احمد ابدال
خواجہ ابو محمد چشتی
خواجہ ابو یوسف چشتی
خواجہ قطب الدین مودود چشتی
خواجہ شریف زندانی
خواجہ عثمان ہارونی
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری
آپ نے دو شادیاں کیں ایک بیوی کا نام عصمت اللہ ہے جبکہ دوسری بیوی کا نام امت اللہ ہے۔
آپ کے تین فر زند اور ایک بیٹی تھی۔ حضرت خواجہ فخر الدین جن کا مزار اجمیر سے ساٹھ کلو میڑ دور درواڑ میں ہے۔(مشہور سلوار شریف)
حضرت خواجہ ابو سعید چشتی جن کا مزار احاطہ درگاہ شاہی گھاٹ پر ہے۔ خواجہ حسام الدین ایام جوانی میں ہی مردان غیب میں شامل ہو گئے تھے۔
آپ کی صاحبزادی کانام بی بی حافظ جمال ہے۔
ایک روایت کے مطابق تاریخ الوفات: 6 رجب 627 ھ بمطابق 1230 ء اس حساب سے آپ کی عمر شریف اس وقت97سال کی تھی۔ جبکہ دوسری روایت میں 103 سال کی عمر میں آپ کا وصال 633ھ ْ 1236ء میں اجمیر میں ہوا۔بعض لوگوں نے تیس ذی الحجہ بھی کہی ہے، مگر صحیح پہلا ہی قول ہے۔ لیکن سنِ وفات میں سخت اختلاف ہے۔ 632، 33، 36، 37ھ اتنے اقوال ہیں۔(دیکھیے تاریخ مشائخِ چشت للکاندھلوی)جس ماحول میں آپ کی پیدائش ہوئی۔اس وقت منگولوں کی تاراجی عام تھی، مسلم ممالک میں کشت وخون کا بازار گرم تھا۔ خانہ جنگی اور تخت وتاج کے لئے بھی لڑائیاں جاری تھیں۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر فرقہ بندیاں چل رہی تھیں نیز مذہب، مسلک و مشرب کے نام پر برادر کشی ہورہی تھی۔جہاں ایک طرف ملاحدہ اور باطنیوں نے اودھم مچا رکھی تھی وہیں تاتاریوں کے وحشی گروہ خون خرابے پر آمادہ تھے۔ایسے عالم میں دین کی تبلیغ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔خواجہ صاحب نے پر خطر ماحول میں دینی تبلیغ بڑے پیار و محبت سے عین سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کی۔
تبلیغ دین کے لیے ہندوستان تشریف لائے۔دلّی میں دین کی تبلیغ کی۔دلّی والوں کے لئے اسلام ایک اجنبی مذہب ضرور تھا مگر آپ کی خوش خلقی اور خدمت خلق نے جلد ہی لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنا لیا اور انھیں اسلام کے ساتھ تصوف روحانیت کی تعلیم دی جانے لگی۔ مرید وخلیفہ اور تربیت یافتہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو دلی کی تاجداری سونپتے ہوئے مذہب اسلام کی خاطر اجمیر کا رخ کیا۔ہندوستانی سماج جن رسموں، رواجوں کا عادی تھااس کے برعکس انسانیت کی تعلیم آپ دے رہے تھے۔ ذات پات کے بنائے ہوئے قلعے ٹوٹ رہے تھے۔مساوات کا پیغام عام ہورہا تھا۔سماج کے دبے کچلے طبقات میں آپ کی تعلیمات کی پیروی کو لے کر زیادہ جوش وجذبہ تھا۔یہ سرمایہ داروں کو ہضم نہیں ہوا کہ کل تک غریب و فقیر ہمارے ساتھ مل کر عبادت کرے،آپ نے اپنی موئثر تبلیغ،حُسنِ اَخلاق، سیرت و کردار اور باطل شکن کرامتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ اہلِ اجمیر نے جب اس بوریہ نشین فقیر کی روحانی عظمتوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔راجاپرتھوی راج چوہان نے طرح طرح کی مشکلات آپ کی راہ میں ہموار کی۔آپ کے مریدوں پر ظلم کیا،نئے مسلم بننے والوں کی زندگی محال کردی۔غرض کہ ان کے ہاتھوں کی انگلی تک کٹوادی۔پرتھوی راج کو ڈر تھا کہ رعایا باغی نہ ہو جائے کیوں کہ اس کے کچھ درباری بھی خواجہ صاحب کے مرید تھے۔خواجہ صاحب نے اسے اسلام کی خوبیوں سے آگاہ کیا لیکن عصبیت میں ہم بھول جاتے ہیں۔کہ اچھا کیا ہے برا کیا ہے۔اس نے آپ کو اجمیر چھوڑنے کا حکم دیا،یہ ایک مشکل وقت تھا اورآپ کی زبان سے جلال میں نکلا کہ’’میں نے تجھے گرفتار کرکے زندہ لشکر اسلام کو سپرد کیا۔‘‘
اللہ کی مدد شہاب الدین غوری کی شکل میں آئی،(جو متعدد بار حملہ کر کے ناکام ہو چکا تھا)پرتھوی راج ذلالت کے ساتھ ناکام ہوا۔قاسم فرشتہ کے مطابق غوری ایک لاکھ کی تعداد میں تھے، جب کہ راجگان ہند کی فوجیں تین لاکھ سے زیادہ تھیں۔اس جنگ میں کئی راجہ قتل کئے گئے اور جو باقی بچے انھوں نے میدان چھوڑ کر نکل جانے میں عافیت جانی۔ پرتھوی راج چوہان نے بھاگ کر جان بچائی مگر محمد غوری کے لشکر نے اسے گنگا کے کنارے جاپکڑا اور گرفتار کرکے سلطان کے سامنے پیش کردیا۔ سلطان نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
خواجہ صاحب کے بارے میں آپ کے مرید وخلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی نے لکھا ہے کہ آپ طویل عبادتیں کیا کرتے تھے اور مسلسل کئی کئی دن تک روزے رکھا کرتے تھے۔ افطار بہت کم مقدار میں کرتے تھے۔ جسم پر معمولی لباس ہوتا تھا اور اس پر بھی کئی کئی پیوند لگے ہوتے تھے۔
مولانا علی میاں ندوی تحریر فرماتے ہیں کہ ہندستان میں جو کچھ خدا کا نام لیا اور اسلام کا کام کیا گیا، وہ چشتیوں اور ان کے مخلص و عالی ہمت، بانی سلسلہ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حسنات اور کارناموں میں شمار کیے جانے کے قابل ہے۔(تاریخِ دعوت و عزیمت)۔مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ معین الدینؒ چشتیوں کے بادشاہ ہیں۔ چشتیت تو ہند میں وہیں سے جاری ہوئی۔ ہندستان میں تو سلطنت ہی چشتیوں کی حضرت کی وجہ سے ہے۔ایک انگریز نے ہندوستان سے انگلستان میں جا کر کہا تھا کہ ہندوستان کے تمام سفر میں ایک بات عجائبات میں سے دیکھی کہ ایک مُردہ (معاذاللہ)اجمیر کی سر زمین میں پڑا ہوا تمام ہندوستان پر حکومت کر رہا ہے۔ لوگوں کے قلوب میں حضرت خواجہ صاحب کی بڑی عظمت ہے حتی کہ ہندؤوں تک کے کے قلوب میں عظمت ہے۔ اجمیر میں تو اکثر ہندو حضرت کے نام کی قسم کھاتے ہیں۔ سلاطینِ اسلام کے قلوب میں عظمت کا یہی حال تھا۔ اکبر بادشاہ نے کئی بار دارالخلافہ سے اجمیر تک پیدل سفر کیا ہے۔ یہ عظمت نہ تھی تو اور کیا تھی؟(ملفوظات حکیم الامت)
حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے (ہند میں آکر) چھوت چھات کے بھیانک ماحول میں اسلام کا نظریہ توحید، عملی حیثیت سے پیش کیا،اور بتایا کہ
اسلام میں کوئی بڑا نہیں کوئی چھوٹا نہیں وہی اچھا ہے جو نیک ہے متقی ہے پرہیزگار ہے۔(القرآن)
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ میں ایک عرصہ تک آپ کی خدمت اقدس میں حاضر رہا، کبھی بھی خود نمائی اور ریاکاری کاہلکا سا شائبہ تک نہیں دیکھا۔اپنا کام خود کرتے ،لیکن ہم مرید ہمہ وقت آپ کی خدمت میں رہتے تو آپ کو کام نہ کرنے دیتے۔کسی سے اپنا جسم نہ دب واتے ،مسلسل تبلیغ سے اگر تھک کر بھی آتے تو تب بھی پیر نہ دب واتے،ہمیشہ چھپ کر نہاتے ،بہت شرمیلے تھے ،گفتگو میں آواززیادہ بلند نہ کرتے ،بے جابحث ومباحثہ نہ کرتے،کسی کی کوئی بری بات بھی معلوم ہوجاتی تو عیاں نہ کرتے۔کسی مریدسے ناراضگی بھی ہوتی تو کسی سے اس کا ذکر نہ کرتے۔کسی کانام لے کرنصیحت نہ کرتے۔ ا ٓپ کے لنگر خانہ میں روزانہ اتنا کھانا تیار کیا جاتا تھا کہ شہر کے تمام غرباء ومساکین خوب سیر ہوکر کھاتے، خادم حاضر بارگاہ ہوکر جب یومیہ خرچ کا مطالبہ کرتا تو آپ مصلے کا ایک گوشہ اٹھاکر فرماتے جس قدر آج کے خرچ کے لئے ضرورت ہولے لو، وہ مطلوبہ مقدار میں لے لیتا اورحسب معمول کھانا پکواکر غریبوں او رمسکینوں کے درمیان تقسیم کردیاکرتا، اس کے علاوہ حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے دربار سے درویشوں کا وظیفہ بھی مقرر تھا۔ (سیرت خواجہ غریب نواز۔264)
حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہ العزیز اپنے پڑوسیوں کے حقوق کا بڑا خیال رکھتے تھے، ان کی خبرگیری فرمایا کرتے تھے، اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازہ کے ساتھ ضرور تشریف لے جاتے، جب اس کو دفن کرنے کے بعد لوگ واپس ہوجاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہوکر اس کے حق میں مغفرت ونجات کی دعا فرماتے، اس کے پسماندگان کو صبر کی تلقین کرتے اور انہیں تسلی وتشفی دیا کرتے۔ (راحت القلوب بحوالہ معین الارواح۔ ص188)
ایک جگہ ملفوظات میں آپ نے فرمایا کہ افسوس ہے اس شخص پر جو قیامت کے دن حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں شرمندہ ہوگا‘اس کی جگہ کہاں ہوگی جو بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں شرمندہ ہوگا اور وہ کہاں جائے گا۔یہ فرمانے کے بعد ہائے ہائے کہہ کرروپڑے۔آپ کو رسول پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس درجہ عشق تھا کہ جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے یا سنتے توآپ کی آنکھیں پرنم ہوجاتیں۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نماز کے ساتھ زکوۃ، روزہ اور حج کی بھی بڑی تاکید فرمایاکرتے اور آپ خود صائم الدہر (ہمیشہ روزہ دار) رہے اور آپ نے خانہ کعبہ کی زیارت بھی بکثرت کی ہے۔(سیرت خواجہ غریب نواز‘263تا 274)
خواجہ صاحب کی چند نصیحت!
نماز دین کا رکن ہے اور رکن ستون ہوتاہے‘پس ستون قائم ہوگیاتومکان بھی قائم ہوگیا۔ (دلیل العارفین ص:9)
جوبھوکے کو کھاناکھلاتاہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کردے گا۔
قبرستان میں عمداً کھانا‘پینا گناہ کبیرہ ہے، جو عمداً کھائے وہ ملعون اور منافق ہے‘کیونکہ قبرستان مقام عبرت ہے نہ کہ جائے حرص وہوا۔(دلیل العارفین ص:16)
اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بلاوجہ ستایاجائے، اس سے خداورسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔ (دلیل العارفین ص:17)
جب اللہ تعالی کا نام سنے یا کلام اللہ سنے اور اس کادل نرم نہ ہو اور ہیبتِ الہی سے اس کا اعتقادوایمان زیادہ نہ ہوتوگناہ کبیرہ ہے۔ (دلیل العارفین ص:18)
عارف آفتاب صفت ہوتے ہیں۔ ان سے تمام عالم منور ہوتا ہے۔
راہ محبت میں عاشق وہ ہے جو دونوں جہاں سے دل اٹھا لے۔
جب تک مُرشد کی تربیت حاصل نہ ہوگی، منزل پر نہ پہنچے گا۔
عشق کی راہ ایسی ہے کہ جو اس راہ میں چلتا ہے اس کا نام و نشان نہیں ملتا۔
نیکیوں کی صُحبت نیک کام سے بہتر ہے اور بُروں کی صحبت بدکام سے بدتر ہے۔
یقین ایک نور ہے جس سے انسان منور ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں محبان و متقیان میں شامل ہو جاتا ہے۔
گناہ تمہیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا مسلمان بھائی کو خوار و ذلیل کرنا۔
جس نے جھوٹی قسم کھائی گویااس نے اپنے خاندان کو ویران کردیا‘ادھرسے برکت اٹھالی جاتی ہے۔
سلطان الہند معین الدین حسن چشتی سِجزی اجمیری برصغیر ہند میں تصوف کے سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں۔ سلسلہ چشتیہ حضرت سیدنا شیخ ابواسحاق شامی کی طرف منسوب ہے۔تاریخ میں درج ہے کہ ہرات کے قریب چشت نامی ایک گاوئں ہے اور چشتی اسی کی طرف منسوب ہے،(تاریخ سلسلہ چشتیہ)
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیس سال حضرت خواجہ کی خدمت میں رہا،لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ حضرت خواجہ نے اس دوران کبھی کسی کو انکار کیا ہو،بلکہ جو شخص بھی آتا اسے آپ کچھ نہ کچھ عطا کرتے اور اس عرصے میں میں نے آپ کو غصہ ہوتے بھی نہیں دیکھا۔سلطان الہند نے پیارو محبت،رحمت ورافت،امن وخوشحالی اور روحانیت و تصوف کا جو ماحول قائم کیا اسے ان کے خلفاء اور خلفاء کے خلفاء نے پھیلایا ہے۔صوفی خانقاہیں آج بھی اسی منہج پر قائم ہیں۔ سیدنا سلطان الہندسے عقیدت کا مطلب ہے کہ ان کی محبت واخوت،امن وبھائی چارگی ،رحمت ورافت اور تصوف وروحانیت والی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔
درگاہ سلطان الہند میں اذان مغرب سے قبل اندرونِ گنبد مبارک میں روشنی کی جاتی ہے فانوسوں کو احترام کے ساتھ سر پر رکھا جاتا ہے اور یہ منقبت پڑھی جاتی ہے۔
خواجہ ئخواجگاں معین الدین
اشرف اولیائے روئے زمیں
آفتاب سپہر کون و مکاں
بادشاہ سریر ملکِ یقیں
مطلعے درصفات اوگفتم
در عبارت بود چُودرِ ثمیں
اے درت قبلہ گاہِ اہل یقیں
بردرت مہر ماہ سودہ جبیں
روئے بردرگہت ہمی سایند
صدہزاراں ملک، چو خسرو چیں
ذرّہ خاکِ اُوعبیر سرشت
قطرہ آبِ اوچو ماہِ معیں
خادمانِ درت ہمہ رضواں
درصفا روضہ ات چوخلدِ بریں
الٰہی تابود خورشید و ماہی
چراغ چشتیاں را روشنائی
یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ منقبت کس کی لکھی ہوئی ہے۔ یہی اشعار قبر مبارک میں دیوار پر چاروں طرف تحریر ہیں۔(واللہ اعلم باصواب)
کہاں تک پھرے در در کی ٹھوکریں کھاتا
تمہارے در کا تمھارا گدا غریب نواز
سُنی ہے آپ کی بندہ نوازیوں کی دھوم
کبھی ادھر بھی نگاہ عطا غریب نواز
تمہارا ہوں میں تمہیں سے ہی التجا میری
تمہارے ہوتے کہوں کس سے یا غریب نواز
لحد میں روز قیامت میں دین دنیا میں
تمھارے نام کا ہے آسرا غریب نواز
تمہارے در کی گدائی ہے آبرو میری
تھماری دید مرا مدعا غریب نواز
ضیائے مجلس عرفاں نگار عالم قُدس
فضائے گلشنِ اِنی انا غریب نواز
کچھ اپنے بیدم خستہ کو بھی عطا کیجیے
سخی ہے آپ کی سرکار یا غریب نواز
از۔بیدم وارثی

( ماخوذ ۔۔۔۔(مرآۃ الاسرار، ص: 559، از: علامہ عبد الرحمن بن عبد الرسول، مطبوعہ: رضوی کتاب گھر، دہلی،۔سیرالاولیا، ص: 53، از: شیخ محمد مبارک علوی، مطبوعہ: رضوی کتاب گھر، دہلی۔انیس الارواح مشمولہ ہشت بہشت، ص: 9، از: خواجگان چشت علیہم الرحمہ، مطبوعہ: ادبی دنیا، دہلی۔سلطان الہند غریب نواز، ص: 77، از: مولانا ڈاکٹر عاصم اعظمی۔سیرت خواجہ غریب نواز، ص: 42، از: مولانا شاہد علی مصباحی، مطبوعہ: مکتبہ فقیہ ملت، دہلی، ایڈیشن: 2012ء۔سبع سنابل شریف، ص: 434، از: میر عبد الواحد بلگرامی، مطبوعہ: رضوی کتاب گھر، دہلی۔شیخ عبدالحق دہلوی کی کتاب۔ اخبارالاخیار ۔آزاد دائرہ المعارف۔مراۃ الاسرار۔تاریخِ ولادت۔معین الاولیاء ص38،37۔۔سلطان الہند خواجہ غریب نوازمحمد آصف حسین انصاری صفحہ3۔۔سلطان الہند خواجہ غریب، مصنف نواز محمد آصف حسین انصاری صفحہ۔4سیرالاولیاء، سفینۃ الاولیاء،انوار اصفیاء، تاریخ فیروز شاہی،تاریخ فرشتہ، آئین اکبری، انیس الارواح، سوانح غوث وخواجہ اور رودِ کوثر۔شعری اداری اور دیگر مضامین سے اخذ)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close