دہلیہندوستان

سپریم کورٹ سے رافیل ڈیل سے متعلق عرضیاں خارج،مودی حکومت کو راحت

نئی دہلی: رافیل جنگی طیارے کی مبینہ بد عنوانی کے تعلق سے مسلسل ہدفِ تنقید بننے والی مودی حکومت کو سپریم کورٹ سے جمعہ کے روز اس وقت بڑی راحت ملی، جب اس نے تمام چھ عرضیوں کو خارج کر دیا ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے سودے کے عمل کو قانونی طور پر چیلنج کرنے والی تمام چھ عرضیاں یہ کہتے ہوئے خارج کر دیں کہ اسے سودے میں ضابطے کی کوئی خلاف ورزی نظر نہیں آئی۔ سپریم کورٹ نے رافیل جنگی طیارے کو ملک کی ضرورت قرار دیتے ہوئے، تمام عرضیاں خارج کر دی۔چیف جسٹس گوگوئی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ستمبر 2016 میں جب رافیل سودے کو حتمی شکل دی گئی تھی ، اس وقت کسی نے خریداری کے عمل پر سوال نہیں اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا،’ ہمیں فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خرید کے عمل میں دخل دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے۔‘ ‘عدالت نے کہا کہ رافیل جنگی طیاروں کی قیمت پر فیصلہ کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے مانا کہ ہندوستانی فضائیہ میں رافیل کی طرح چوتھی اور پانچویں جنریشن کے جنگی جہازوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے کہا،’ ملک کو چوتھی اور پانچویں جنریشن کی جنگی جہازوں کی ضرورت ہے، جو ہمارے پاس نہیں ہیں اور ملک جنگی طیاروں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔‘‘عدالت نے کہا کہ اسے رافیل سودے میں فیصلہ کرنے کے عمل پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کے دور اقتدار میں 126 رافیل طیاروں کو خریدنے کے بجائے مودی حکومت نے محض 36 جنگی طیارے کے خریدے جانے پر اٹھنے والے سوالات پر عدالت نے کہا کہ وہ حکومت کو 126 یا 36 طیارے خریدنے کے لیے پابند نہیں کر سکتی۔طیاروں کے قیمت کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے کہا کہ رافیل جنگی طیاروں کی قیمت پر فیصلہ کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔
بنچ نے کہا ،’ہمیں فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خرید کے عمل میں دخل دینے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو سودے کے عمل میں کلین چٹ دیتے ہوئے کہاکہ وہ طیاروں کی خریداری کے سلسلے میں دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ آفسیٹ پارٹنر کے معاملے میں چیف جسٹس نے کہا،’ پسندیدہ آفسیٹ پارٹنر کےانتخاب میں دخل دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ساتھ ہی ذاتی سوچ کی بنیاد پر دفاعی خرید جیسے حساس معاملات میں تفتیش نہیں کروائی جا سکتی ‘۔ چیف جسٹس گوگوئی نے یہ بھی کہا کہ فیصلہ لکھتے وقت بنچ نے قومی سلامتی اور سودے کے ضابطے دونوں کاخیال کیا ہے۔ انہوں نے کہا،’ہمیں ایسی کوئی بات نہیں ملی، جس سے یہ لگے کہ تجارتی طریقے سے کسی خاص کمپنی کو فائدہ پہنچایا گیا۔ ہم اس بات سے مطمئن ہیں کہ خریداری کے عمل پر شک کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے‘۔ایڈووکیٹ لال شرما نے سب سے پہلے رافیل سودے میں مبینہ بے ضابطگی سے متعلق ایس آئی ٹی سے تفتیش کے لیے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ اس کے بعد نامور وکیل پرشانت بھوشن، ونیت ڈھانڈا، مرکزی وزیر ارون شوری ، یشونت سنہا اور عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے عرضیاں دائر کی تھیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close