اسلامیاتہندوستان

سپریم کورٹ میں نکاح حلالہ اورکثرت ازدواج کی مخالفت کےلئے مرکزی حکومت پھرسے تیار

نئی دہلی: مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں نکاح حلالہ اورکثرت ازدواج کی مخالفت کرنے کے لئے ایک بار پھرتیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی امکان ہے کہ طلاق ثلاثہ پرکارروائی کے دوران لئے گئے اسٹینڈ پرحکومت قائم رہے گی۔

وزارت قانون اورانصاف کے اعلیٰ سطحی ذرائع نے بتایا کہ کچھ بھی بدلنے کا امکان نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں تین طلاق کے معاملے کی سماعت کے دوران حلالہ اور کثرت ازدواج پر بات نہیں ہوئی، لیکن حکومت کا جواب تیارہے۔ اس کیس میں بھی یہی اپنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں نکاح حلالہ اورکثرت ازدواج کی مخالفت کےلئے مرکزی حکومت پھرسے تیار
نکاح کا فائل فوٹو

اس وقت چیف جسٹس آف انڈیا رہے جے ایس کھیہر نے سماعت کے دوران مئی 2016میں کہا تھا کہ کورٹ نکاح حلالہ اورتعدد ازدواج پرنہیں، بلکہ صرف تین طلاق پرہی بحث کی سماعت کرے گا۔ اس سال مارچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکراور جسٹس چندرچوڑ کی بنچ نے کثرت ازدواج اور حلالہ کے معاملوں پربھی کچھ عرضیوں کی سماعت کی۔ یہ عرضیاں بی جے پی لیڈراشونی اپادھیائے، سمیرا بیگم، نفیسہ بیگم اورمعلم محسن بن حسین نے فائل کی تھی۔

اپنی عرضی میں اشونی اپادھیائے نے گزارش کی ہے کہ مسلم پرسنل لا (شریعت) کے سیکشن 2 ایپلی کیشن ایکٹ کوغیرآئینی قرار دیا جانا چاہئے۔ یہ آرٹیکل 14 ، 15 اور 21 کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

حکومت نے تعدد ازدواج پراپنا رخ ظاہر کیا تھا اوربتایا تھا کہ کیسے دیگر ملکوں نے تعدد ازدواج اور طلاق پر اپنے قانون کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ دھیان رکھنا بے حد اہم ہے کہ حکومت کے ذریعہ سائرہ بانومعاملے کے دوران دائرحلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ "مسلم ملکوں یا بڑی آبادی میں مسلم آبادی والے ملک جہاں اسلامی نظام ہے، نے اس معاملے میں تبدیلی کی ہے، جس کے بعد طلاق اورتعدد ازدواج کو کنٹرول کیا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے پہلے نیوز 18 کو بتایا تھا کہ نہ صرف بورڈ نکاح اورکثرت ازدواج کے معاملے میں عدالت کے ذریعہ مداخلت کے لئےبحث کرے گا، بلکہ یہ بھی سوال کرے گا کہ لوان رشتوں کو منظوری کیوں دی گئی ہے؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close