ہندوستان

سکھ مخالف فسادات معاملہ: سجن کمار کوعمر قید کی سزا

نئی دہلی:دلی میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ایک معاملے میں دلی ہائی کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کانگریس لیڈر سجن کمار کو قصوروار قرار دی عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ سجن کمار پر پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود گوئل کی بنچ نے پیر کے روز سجن کمار کو فساد بھڑکانے اور سازش رچنے کا قصوروار قرار دیا ۔ اس کے لئے اسے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس معاملے میں سجن کمار کو نچلی عدالت نے بری کردیا تھا جس کے خلاف متاثرہ فریق اور مرکزی جانچ بیورو نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔
سجن کمار کو 31 دسمبر تک خودسپردگی کرنی ہوگی تب تک انہیں دہلی سے باہر کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔سجن کمار کے علاوہ بحریہ کے ریٹائرڈافسر کیپٹن بھاگمل، کانگریس کے سابق کونسلر بلوان کھوکھر اور گردھاری لال کو بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ان تینوں کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان کے علاوہ سابق ممبر اسمبلی مہندر یادو اور کشن کھوکھر بھی قصوروار قرار پائے گئے، انہیں نچلی عدالت نے تین سال کی سزا سنائی تھی۔ اب ہائی کورٹ نے ان سبھی پانچوں قصورواروں کو 10-10 سال کی سزا سنائی ہے۔فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’یہ آزادی کے بعد، سب سے بڑا تشدد تھا۔ اس دوران پورا نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔ یہ تشدد سیاسی مفاد کے لیے کروایا گیا تھا۔ سجن کمار نے فساد کو ہوا دی۔واضح رہے کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کا یہ معاملہ پانچ لوگوں کی موت سے متعلق ہے۔
دہلی کینٹ علاقے کے راج پور میں یکم نومبر 1984 کو ہزاروں لوگوں کے ہجوم نے دہلی کینٹ علاقے میں سکھ برادری کے لوگوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں ایک خاندان کے تین بھائی نریندر پال سنگھ، کلدیپ اور راگھویندر سنگھ کو قتل کر دیا گیا تھا جبکہ ان فسادات میں دیگر خاندان کے گرپريت اور ان کے بیٹے کیہر سنگھ بھی مارے گئے تھے۔دہلی پولیس نے سال 1994 میں یہ کیس بند کر دیا تھا، لیکن ناناوتی کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر 2005 میں اس معاملے میں کیس درج کیا گیا۔ مئی 2013 میں نچلی عدالت نے اس معاملے میں سابق کانگریس کونسلر بلوان کھوکھر، بحریہ کے ریٹائرڈ افسر کیپٹن بھاگمل، گردھاری لال اور دو دیگر افراد کو مجرم قرار دیا،لیکن کانگریس لیڈر سجن کمار کو ثبوتوں کی عدم دستیابی پر بری کر دیا تھا۔ اس کے بعد متاثرہ فریق اور قصورواروں نے ہائی کورٹ کی پناہ لی تھی۔ اسی سال 29 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔سجن کمار کے خلاف 1984 سکھ فسادات سے متعلق کل پانچ معاملات چل رہے ہیں جن کی جانچ 2014 میں قائم خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کر رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close