ادبی مضامین

سہیل عظیم آبادی۔دبستان عظیم آباد کانمائندہ افسانہ نگار

اس خاکدان گیتی پر کتنے لوگ عدم سے وجود میں آئے اور پھر عدم میں چلے گئے لیکن ان میں بعض لوگ اپنے اہم کارناموں کی وجہ سے تاریخ کے اوراق میں زندہ و جاوید ہیں ۔کوئی علم منطق ،کوئی فلسفہ ،کوئی فقہ توکوئی حدیث وتفسیراورکوئی سائنس وریاضی میں اپنی نمایاںخدمات کی وجہ سے تو کوئی زبان و ادب میں اپنے گراں قدرکارناموںکے باعث تاریخ کے اوراق میںتابندہ ہیں۔ان لوگوں نے ایسے ایسے نقوش چھوڑے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔انہی زندہ و جاوید لوگوں میں سے ایک نام سہیل عظیم آبادی کا بھی ہے جو اردو ادب میں اپنی بے بہاخدمات کے سبب حیات ابدی حاصل کرگئے۔آج وہ دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کےافسانے ان کو زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں ۔
مختصر تعارف
سہیل عظیم آبادی کی ولادت جولائی ۱۹۱۱ء میں پٹنہ میں ہوئی ۔اصل نام سید مجیب الرحمٰن ہے ۔سہیل ان کاتخلص تھا ۔زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ابھی ایک سال کے ہی تھے کہ ماں کی ممتا سے محروم ہوگئے ۔نانیہال کا گھرانہ خوشحال تھا ،نانیہال ہی میں ابتدائی تعلیم وتربیت ہوئی ۔اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے گھر بار کو خیر آباد کہہ کر مظفر پور کے لئے روانہ ہوئے ۔ضلع اسکول مظفر پور میں اس وقت علامہ جمیل مظہری کے والد سید خورشید حسین استاد کی حیثیت سے مامور تھے جو ایک بہترین ادیب کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر بھی تھے ۔ان ہی کے زیر نگرانی سہیل عظیم آبادی کی تعلیم و تربیت ہوئی۔چونکہ اکثر مشاعرے میں شریک ہوا کرتے تھے اسلئے شاعری کا شوق پروان چڑھا ۔ان کی اعلی تعلیم سے محرومی کا سبب بھی شاید یہی شاعری کا شوق تھا یاپھر آزادانہ طبیعت۔بہر حال وہ شاعری کرنے لگے چونکہ ان کے استاد سید خورشید حسین خود ایک بہترین شاعر تھے اسلئے انہی سے اپنے کلام کی اصلاح لی۔پھر جمیل مظہری سے بھی کلام کی اصلاح لینے لگے ۔اس کے بعد سہیل عظیم آبادی کلکتہ چلے آئے ۔کلکتہ میں دوران قیام انھوں نے ایک افسانہ لکھا جو ایک مؤقر میگزین میں شایع ہوا۔جمیل مظہری نے افسانہ پڑھنے کے بعد سہیل عظیم آبادی کو افسانہ لکھنے کا مشورہ دیا۔اس کے بعد انہوں نے شاعری کو ترک کرکے افسانہ لکھنا شروع کیا جو آگے چل کر ان کی شہرت کا ذریعہ بنا ۔
پریم چند اسکول کا نمائندہ افسانہ نگار
سہیل عظیم آبادی پریم چند اسکول کے ایک اہم اور مستند افسانہ نگار تسلیم کیے جاتے ہیں ۔نقادوں نے بھی انھیں پریم چند اسکول کا نمائندہ افسانہ نگار کہاہے ۔خود سہیل عظیم آبادی کہتے ہیں کہ’’میں جن افسانہ نگار وں سے متاثر ہوا ان میں سب سے پہلا نام منشی پریم چند کاہے ‘‘۔سہیل عظیم آبادی کی زبان سے نکلا یہ جملہ صرف زبانی جمع خرچ نہیں ہے بلکہ پریم چند اور سہیل عظیم آبادی کے افسانوں کو پڑھ کر دونوں کا موازانہ کریں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ سہیل عظیم آبادی کا یہ قول کہ میں پریم چند سے متاثر ہوں حرف بہ حرف درست ہے ۔سہیل عظیم آبادی کے اس قول کے تناظر میں میں صرف ایک مثا ل پیش کرتاہوں۔
سہیل عظیم آبادی کا افسانہ الاؤ ایک اہم افسانہ ہے اور بہت مشہور و معروف بھی۔اس میں دیہات کی زندگی اور وہاں بسنے والوں کی سوچ و فکر کی جس طرح عکاسی کی گئی ہے دوسرے افسانہ نگاروں بلکہ خود سہیل عظیم آبادی کے دوسرے افسانوں میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ایک مختصر سی کہانی میں دیہات میں رہنے والوں کی زندگی کا نقشہ ایسے منظم طریقے سے کھینچ دیاگیاہے کہ لوگوں کی توجہ خود بہ خود اس جانب مبذول ہوجاتی ہے ۔اسی طرح پریم چند کا افسانہ پنچایت ہے جس میں دیہات کی زندگی کے پہلوؤں کو نمایاں طریقے سے بیان کیاگیاہے ۔جس طرح پریم چند کا افسانہ حقیقی زمین سے جڑا ہوا پنچایت ہے اسی طرح سہیل عظیم آبادی کا افسانہ الاؤ حقیقت پر مبنی ہے اور دونوں افسانوں میں جو ایک خاص بات ہے وہ دیہات کی زندگی کا موضوع ہے جو دونوں کوایک صف میں لاکھڑا کرتاہے ۔دونوں افسانوں کے مطالعے کے بعد جو قدر مشترک باتیں میری سمجھ میں آتی ہیں وہ یہ کہ دونوں زمینی حقائق کو اجاگر کرنے میں یقین رکھتے ہیں ۔دیہات میں رہنے والوں کی زندگی ،کسانوں کی زندگی ،غریبوں ،مزدروں وغیرہ کی زندگی کو اپنے افسانے کا موضوع بناتے ہیں اور حقائق کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں ۔رومانوی باتیں اور ادھر اُدھر کی باتیں کرکے افسانے کو دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بناتے بلکہ اسے ایک پیغام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔کسان کسی بھی ملک کی معاشی حالت کو استحکام بخشنے میں اہم کردار نبھاتا ہے لیکن خود ان کی معاشی حالت ناگفتہ بہ رہتی ہے اور اس کی جانب زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ۔پریم چند نے کسانوں پر بہت سارے افسانے لکھے ہیں اور ان کی حقیقتوں سے خاص و عام کو روشنا س کرایا ہے۔ یہی صورت حال سہیل عظیم آبادی کے یہاں بھی موجود ہے ۔افسانہ الاؤ میں جہاں کسانوں کی زندگی اور ان کے خیالات کو قلمبند کیاگیا ہے وہیں افسانہ’ جینے کے لیے ‘میں بھی کسانوں کے خد و خال کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے ۔
سہیل کا ایک نمائندہ افسانہ
ا ب آیئے سہیل عظیم آبادی کے ایک اہم افسانہ پرجو خودہمارے نصاب میں شامل ہے ،کچھ باتیں کرتے ہیں ۔افسانہ ’بد صورت لڑکی ‘ایک ایسی کم نصیب لڑکی کی کہانی جوبے حس انسانوں کی مردہ ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔سہیل عظیم آبادی نے اس افسانہ میں چندرا کے کردار کو اتنے موثر طریقے سے پیش کیا ہے جس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔اس افسانے میں سہیل عظیم آبادی کی تخلیقی صلاحیت نکھر کر سامنے آئی ہے ۔چندرا ایک وکیل کی لڑکی ہے جو بہت ہی بد صورت ہے۔ کالی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے پر چیچک کا نہ مٹنے والا بد نما داغ بھی ہے ۔ان وجوہات کے سبب اس کی شادی نہیں ہوپاتی ہے ۔لوگ بھی چندرا کی بدصورتی دیکھ کرپھبتیاں کستے ہیں ۔کالج میں تعلیم کے دوران تو لڑکے ایسی ایسی باتیں چندرا کو کہتے ہیں کہ بدصورتی کا خوفناک احساس اس کے ذہین و دماغ میں پیوست ہوجاتاہے ۔اتنا ہی نہیں اس کی بہن موہنا کا چھوٹا بیٹا بھی اس کی گود میں جانے سے اس لئے ڈر تا ہے کہ اس کی شکل خوفناک معلوم ہوتی ہے ۔بچہ کے ڈرنے کا واقعہ چندرا کے ایک ناول پڑھنے کے دوران پیش آتاہے جو ایک جوان بیوہ کی کہانی ہے ۔اس کا تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں کہ مجھے صرف افسانے کے اصل موضوع کی بات کرنی ہے ۔چندرا یوں توں صورت سے دیکھنے میں کریہہ معلوم ہوتی ہے مگر اخلاص و محبت کا پیکر ہے ۔اس کی ہمدردی ،اخلاص و محبت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے اسکول کی ایک سہیلی کسم بہت بیمار ہوجاتی ہے اور اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ چندرا کے شہر میں علاج کے لیے آتی ہے ۔چندرا اس کے بچوں کی دیکھ ریکھ ماں کی طرح کرتی ہے ۔ادھر کسم کی حالت بھی قابل رحم ہوجاتی ہے اس دوران کسم اپنے شوہر سے چندرا کا ہمیشہ تذکرہ کرتی رہتی ہے ۔اس کااحسا س اس کے شوہر کو بھی ہے ۔اس دوران کسم کی حالت اور بگڑ جاتی ہے جب اسے احساس ہوجاتاہے کہ وہ نہیں بچے گی تو وہ اپنے شوہر کو چندرا سے شادی کرلینے کو کہتی ہے تاکہ اس کے بچے کی صحیح طریقے سے پرورش ہوسکے ۔کسم مرجاتی ہے ۔شوہر اپنے وطن واپس جانے کی تیاری کرنے لگتاہے لیکن یہاں پر کسم کے شوہر کا ایک جملہ چندرا کو شدت سے اسکی بدصورتی کا احساس دلاتاہے ۔کسم کا شوہر اپنے دونوں بچوں کوچندرا کو سونپ دیتاہے اوراپنی زبان سے جو چند جملے ادا کرتاہے ملاحظہ کیجئے :ماں بولتی ہے
’’تم نے کچھ سوچا ہے ؟بچوں کو دیکھنے والاکوئی نہیں ۔تم کو جلد ہی فیصلہ کرنا پڑے گا۔یہاں تو چندرا بیٹی نے سنبھال دیالیکن سدا تو وہ نہیں دیکھ سکے گی ‘‘۔
مراری بابو کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور بولے ۔
’’ماں !کسم دونوں بچے چندرا کو دے گئی ہے ،وہ انھیں کے ساتھ رہیں گے ۔چندرا بہن کے رہتے ہوئے مجھے بچوں کی طرف سے اطمینان ہے ‘‘۔
مراری بابو کی زبان سے نکلے ہوئے ایک لفظ ’بہن ‘ نے چندر ا کے ارمانوں کو پھر سے چکنا چور کردیا۔لفظ بہن نے کہانی کوایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیاہے جس کاکہانی کے مطالعے کے دوران کچھ اندازہ نہیں لگایاجاسکتاہے ۔سہیل عظیم آبادی نے چندرا کی کہانی کو اتنے موثر انداز میں پیش کیاہے کہ قاری بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتاہے ۔چندرا کی کہانی سماج کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتاہے۔ سماج کا یہ المیہ روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔افسانہ نگار کے طور پرسہیل کا نام آج بھی احترام سے لیاجاتاہے اور آئندہ بھی سہیل عظیم آبادی کو فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔
(مضمون کی تیاری میں’ سہیل عظیم آباری اور ان کے افسانے ‘مرتب: وہاب اشرفی سے استفادہ کیاگیاہے)

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close