بلاگمضامین

سیاست کا عظیم باب… اٹل بھی اختتام پذیر ہوا

سابقہ وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہار ی واجپئی جو کہ گزشتہ 16 اگست کو دہلی کے ایمس ہسپتال میں لمبی بیماری کے بعد آخر کار 93 سال کی عمر انتقال کر گئے . یقیناً ان کی موت سے اٹل سیاست کا ایک عظیم باب اختتام پذیر ہو گیا اور ان کی موت کی شکل میں بے شک بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک لبرل سلجھا ہوا دور اندیش رہنما کھو دیا ہے. جس کی تلافی کر پانا پارٹی کے لیے نا ممکن ہے.
جب اٹل جی کی شروعاتی زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کے دادا شری شیام لال واجپائی آگرہ کے مشہور بٹیشور کے رہنے والے تھے اور وہ سنسکرت کے عالم فاضل تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور بٹیشور سے باہر گوالیار کی ریاست میں ملازمت کرنے کی صلاح دی۔ شری کرشن بہاری واجپائی نے گوالیار جاکر بطور استاد ملازمت شروع کردی اور وہاں شندے کی چھاؤنی میں رہنے لگے۔ وہاں ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تولد ہوئیں۔ اٹل جی کا جنم کرسمس کے مبارک دن25 دسمبر 1924 کو ہوا. آپ نے مقامی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گوالیار ہی میں وکٹوریہ کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد کانپور کے ڈی اے وی کالج سے پولیٹیکل سائنس میں فرسٹ کلاس میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون پڑھنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔اٹل جی آغازِ جوان ہی سے سماجی سرگرمیوں میں مشغول رہنے لگے تھے۔ وہ شارٹایہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرگرم کارکن بھی رہے اور اسٹوڈنٹ یونین کے سکریٹری اور صدر بھی رہے ۔ انہوں نے 1942ء کی ”بھارت چھوڑو“ تحریک میں پرجوش حصہ لیا تھا۔ تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا اور اٹل جی بھی گرفتار ہو گئے اور انھیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔ان کے مخالفین کا اس بھارت چھوڑ و تحریک کے متعلق یہی کہنا تھا کہ انھوں نے اس گوالیار کے آندولن کے دوران لکھ کر معافی مانگی تھی کہ انکا اس تحریک سے کوئی واسطہ نہیں تھا اس لیے انھیں چھوڑ دیا گیا تھا.
دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی جو کہ آر ایس ایس کی سیاسی بازو جن سنگھ کی موجودہ شکل ہی ہے۔1977ء میں جن سنگھ کی حمایت سے جنتا پارٹی زیرِ اقتدار آئی۔اس کابینہ میں آپ وزیر برائے امور خارجہ (بھارت) تھے۔ اسی دوران آپ نے پہلی بار اقوام متحدہ میں کے ایوان کے اجلاس میں ہندی میں تقریر کرتے ہوئے سب کا دل جیت لیا. جنتا پارٹی حکومت کے گرنے کے بعد اٹل جی نے 1980ء میں جن سنگھ کی تعمیر نو کی اوراس کا نام بدل کر بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ دیا۔
1980ء میں اٹل بہاری واجپائی، لال کرشن ایڈوانی اور بھیرون سنگھ شیکھاوت نے مل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کو تشکیل دی۔ اس کا پہلا صدر ہونے کا شرف بھی اٹل بہاری واجپائی کو ہی حاصل ہے. 1984 کے پارلیمانی الیکشن میں دو نشستوں پر جیت درج کرنے والی اس پارٹی نے، اسی زمانے میں آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے ساتھ مل کر رام جنم بھومی تنازعہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس کے بل بوتے پر 1989 کے الیکشن میں 85کے قریب نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی اسی دوران ایک بار پھر لال کرشن ایڈوانی نے رام مندر تنازعہ کو اپنی رتھ یاترا کے ذریعے پھر سے اچھالا.. بالآخر 6 دسمبر 1992 کو ہزاروں کارسیوکوں کی مدد سے بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا یقیناً یہ سانحہ ہندوستان کی تاریخ میں 1947 کی تقسیم کے دوران دونوں ملکوں میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں ہوئے قتل عام کے بعد ایک عظیم حادثہ تھا جس کے چلتے ملک کے مختلف حصّوں میں فرقہ وارانہ فسادات واقع ہوئے اور ان میں جہاں ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے وہیں کروڑوں کی جائیداد کو نقصان پہنچا. اس موقع پر آنجہانی وزیراعظم نرسماراؤ نے بھی ایک خاموش تماشائی کا ہی رول نبھا یا تھا جس کے چلتے سیاسی ماہرین بابری مسجد کی شہادت میں نرسمہاراؤ کو بھی برابر کا قصور وار مانتے ہیں.
1996ء میں انتخابات کے بعد بی جے پی کو 161 نشستیں ملیں اور گٹھ جوڑ کے توسّط سے 13 دن تک واجپائی نے وزیرِ اعظم کے عہدہ سنبھالا۔ لیکن اکثریت ثابت نہ کر سکے تو استعفا دینا پڑا۔ 1998ء کے انتخابات میں بی جے بی کا محاذ 182 نشستیں حاصل کر کے واجپائی دوبارہ عہدۂ وزیرِ اعظم پر فائز رہے۔ لیکن جیا للیتا کی قیادت والی جماعت نے انحراف کیا تو واجپئ حکومت ایک بار پھر گر گئ.
آپ کو ہندوستان کا تین بار وزیر اعظم بننے کا سوبھاگیہ حاصل ہوا. آپ کا پہلا دور 1996ء میں صرف 13 دن کا تھا، دوسری مرتبہ آپ 1998ء سے 1999ء تک 13 ماہ تک وزیر اعظم رہے اور تیسری دفعہ 1999ء سے 2004ء تک انہوں نے اپنی میعاد مکمل کی۔
ہندوستان کی سرگرم سیاست میں قریب چھ دہاکوں تک اپنی گہری چھاپ چھوڑ نے والے اٹل دس مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور دو مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے چنے گئے۔ اس دوران وہ ایک مرتبہ 1984 میں گوالیار سے کانگرس سندھیا سے قریب دولاکھ ووٹ کے فرق سے شکست کھا گئے تھے.
سرگرم سیاست میں واجپئی 2009ء تک لکھنؤ سے بطور پارلیمانی ممبر (ایم. پی) رہے اور اس کے بعد خراب صحت کے مسائل کے چلتے سیاست سے یکدم کنارہ کشی اختیار کر لی.
ان پر حزب مخالف لیڈران کی طرف سے اکثر کئی طرح کے الزامات بھی لگاتے رہے کہ بھارت چھوڑو تحریک کے دوران جب گوالیار میں انگریزوں نے اس سلسلے پکڑ دھکڑ شروع کی تو انھوں نے لکھتی معافی مانگ لی تھی. جس کے بعد وہ قید سے رہا ہو گئے.
اسی طرح انکے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 5دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی شہادت سے قبل انھوں نے وہاں پر موجود رام جنم بھومی کے کارسیوکوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ نوکیلے پتھر کھڑے ہیں زمیں سمتل(ہموار ) کرنی ہوگی کیونکہ کہ نوکیلے پتھروں پہ کوئی بیٹھ نہیں سکتا یعنی جب یہ نوکیلے پتھر ہٹا دیئے جائیں گے تبھی عمارت کا نرمان (تعمیر) ہو پا ئیگا.
ان سب باتوں کے باوجود وہ پھر بھی اپنی پارٹی کے دوسرے لیڈروں کے مقابلے میں کافی لبرل سوچ رکھتے تھے تھے اپنے اسی لبرل عکس کے چلتے انھوں نے 1999 سے 2004تک 26 پارٹیوں کے مشترکہ گھٹجوڑ کے ساتھ حکومت چلائی اورملک کی تاریخ میں پہلی بار کسی غیر کانگرس وزیراعظم کے طور پر اپنی ٹرم کے پانچ سال پورے کرنے والے وہ پہلے وزیر اعظم بنے.
انھیں 1992میں پدم بھوشن، ڈی. لٹ کانپور یونیورسٹی، 1994 بہترین رکن پارلیمانی ایوارڈ، وغیرہ ایوارڈ سے سرفراز کیے گئے. آخر میں انھیں حکومت
ہندوستان کی طرف سے صدر بھارت نے 2015ء میں بھارت کے سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن سے نوازا.
واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ وہ ہندی کے عمدہ شاعر بھی تھے ۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی عکاسی و ترجمانی کی ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں لکھیں.
انھوں نے بھارت و پاکستان کے رشتوں کو لیکر ایک خوبصورت نظم لکھی تھی جو آج بھی انکے امن و یکجہتی کا پیمبر ہونے کی شہادت دیتی ہے. قارئین بھی ملاحظہ فرمائیں کہ:
نظم
(جنگ نہ ہونے دیں گے)
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
انکی ایک اور بہت خاص نظم کی کچھ سطور ملاحظہ فرمائیں.
آؤ پھر سے دیا جلائیں…
بھری دوپہری میں اندھیارا
سورج پرچھائیں سے ہارا
انترتم کا نیہ نچوڑیں بجھی ہوئی باقی سلگائیں
آؤ پھر سے دیا جلائیں
ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل
لکچھ ہوا آنکھوں سے اوجھل
ورتمان کے موہ جال میں آنے والا کل نہ بھلائیں
آؤ پھر سے دیا جلائیں
آہوتی باقی یگیہ ادھورا
اپنوں کے وگھنوں نے گھیرا
انتم جے کا وجر بنانے نو ددھیچی ہڈیاں گلائیں
آؤ پھر سے دیا جلائیں
ایک اور نظم موت سے ٹھن گئ میں زندگی و موت کے بیچ کے ایک بحث اس انداز میں پیش کر تے ہوئے نظر آتے ہیں. کہ
ٹھن گئ!
موت سے ٹھن گئ!
جوجھنےکا میرا ارادہ نہ تھا،
موڑ پر ملیں گے اس کا وعدہ نہ تھا
راستہ روک کر وہ کھڑی ہو گئی
یوں لگا زندگی سے بڑی ہو گئی
موت کی عمر کیا ہے؟ دو پل بھی نہیں
زندگی سلسلہ آج کل کی نہیں
میں جی بھر جیا، میں من سے مروں
لوٹ کر آؤں گا میں کوچ سے کیوں ڈروں
تو دبے پاؤں چوری چھپے نہ آ
سامنے وار کر پھر مجھے آزما
موت سے بے خبر زندگی کا سفر
شام ہر سرمئی، رات بنسی کا سور
بات ایسی نہیں کہ کوئی غم نہیں
درد اپنے پرائے کچھ کم نہیں
پیار اتنا پرایوں سے مجھ کو ملا
نہ اپنوں سے باقی ہے کوئی گلہ
ہر چنوتی سے دو ہاتھ میں نے کیے
آندھیوں میں جلائے بجھتے دیئے
آج جھکجھورتا تیز طوفاں ہے
ناؤ بھنور وں کی بانہوں میں مہماں ہے
پار پانے کا قائم مگر حوصلہ
دیکھ تیور طوفاں کا، تیور ی تن گئ
موت سے ٹھن گئ
اس سب کے بر عکس اگر جمہوریت پسند سیکولر ماہرین کے تاثرات پر غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اٹل منفی سوچ رکھنے والے لیڈران میں ایک مثبت افکار والے رہنما تھے لیکن افسوس خدا نے جو صفا ت و خوبیاں ان کی کرشمائی شخصیت میں جمع کی تھیں ان کا استعمال انھوں نے زندگی بھر ایسے لوگوں کے لیے کیا جن کی سوچ ان سے میل نہیں کھاتی تھی یعنی جو ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو تارتار کر دیش کو ہمیشہ تقسیم کرنے کے لیے کمر بستہ نظر آتے ہیں .
ایک شاعر نے کیا خوب ہے کہ
تنقید میں برابر اپنا ہو یا پرایا
یعنی زباں نے ہمکو سچ بولنا سکھا یا
کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہو تا اگر اٹل جی کی شخصیت میں خوبیاں تھیں تو زندگی میں کچھ فیصلے ان کے ایسے بھی رہے جن کی وجہ سے دیش کے عوام خصوصاً اقلیتوں کو بہت سی تکالیف برداشت کر نی پڑیں.
اس میں جہاں انھوں نے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر ایک خاموش تماشائی بنے رہنے کا رول ادا کیا. وہیں 2002 کے گجرات قتل عام پر بھی اپنے وزیر اعظم کے عہدے پر رہتے ہوئے اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی سرکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی. بلکہ انھیں راج دھرم کا پالن کرنے جیسے صرف زبانی کلمات کرتے ہوئے خالی نصیحت دیکر ایک طرح سے خاموش حمایت دی. اس کے ساتھ ہی 2004میں بغیر کوئی قانون بنائے صرف ایک نوٹیفکیشن جاری کر تے ہوئے ملازمین کی پنشن بند کر دی. اس کے علاوہ ساری زندگی اس فرقہ پرست پارٹی کی خدمت کرنے میں لگے رہے جس سے وابستہ لوگ آج دیش میں کبھی دھرم کبھی ذات پات اور رنگ و نسل کے نام پر تفریق ڈال کر اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں دیگر سبھی جماعتوں سے آگے نظر آتے ہیں.
اٹل جی کے شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے روشناس ہونے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس پارٹی کو انھوں نے صفر سے شروع کرتے ہوئے ہندوستان کے تخت پہ بٹھا کر حکومت کرنے کا موقع فراہم کروایا. عمر کے آخری دور میں اٹل انھیں لوگوں کے لیے ایک اجنبی کی مانند نظر آ ئے. اور اپنی زندگی کے آخری آٹھ دس سال گمنامی میں گزارے. اس سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ خود غرضی کے اس دور میں ہمیشہ اہل سیاست صرف اور صرف چڑھتے سورج کو ہی سلام کرتے ہیں. یعنی اٹل کے کاندھوں کی سواری کرنے والے لوگ آج کہاں سے کہاں پہنچ گئے. جبکہ اٹل جی نے عمر کے آخری آٹھ دس سال گمنامی کی زندگی میں بسر کیے . کیا خوب کہا ہے کسی شاعر نے کہ :
ایسے ویسے کیسے کیسے ہوگئے
کیسے کیسے ایسے ویسے ہوگئے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close