بہارسیاستسیمانچل

سیاسی وسماجی انقلاب کے لئے نئی نسل کا آگے آنا ضروری

سیاسی لیڈر منظر عالم خان نے کئے سیمانچل کی ترقی کے کئی وعدے ۔

ارریہ۔ 5/جولائی:اگر ہم ملکی سطح پر اپنے سیاسی وسماجی مفادات کا تحفظ اور اپنے حلقے کی ترقی وخوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں نہ صرف اپنے اندر کے سیاسی شعور کو بیدار کرکے علاقہ کے مسائل سے جڑے ہر پہلو پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا بلکہ ہماری نئی نسل کو بھی اس سمت میں پوری خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی یہ باتیں ارریہ پارلیمانی حلقہ کے سرگرم سیاسی لیڈر منظر عالم خان نے آج اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران اخباری نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہیں جب کہ اس موقع پر ان کے ساتھ المعہد الشفیق للعلوم الاسلامیہ کے مہتمم مولانا محمد نسیم سالک قاسمی،ماسٹر برش کمپنی کے مالک محمد غیاث الدین،پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر مولانا محمد ارشد فیضی اور مولانا راشد الخیر مظاہری کے علاوہ کئی بڑی شخصیات موجود تھیں منظر عالم خان نے اپنی پریس کانفرنس میں نہ صرف مسلمانوں کے سیاسی وسماجی حالات کے ساتھ سیمانچل کے مسائل پر کھل کر گفتگو کی بلکہ انہوں نے کہا کہ اگر تمام تر سیاسی اور سماجی کوششوں کے باوجود سیمانچل کی ترقی آج تک ممکن نہیں ہو سکی تو ہمیں تنہائی میں بیٹھ کر اس کے پیچھے کی کمزوری کو سمجھنا اور یہ سوچنا ہوگا کہ آخر سیمانچل کی ترقی کا خواب اب تک ادھورا کیوں ہے اور آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ آج تک یہ علاقہ پسماندگی اور تعلیمی واقتصادی بحران سے نہیں نکل سکا یاد رکھئے جب تک ہم ان تمام موضوعات پرکسی بھی جانب داری کے بغیر نہیں سوچیں گے تب تک آگے کا سفر ممکن نہیں ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی سیاست سے دوری اور سیاسی سفر میں ان کے غیر شعوری طرز عمل کا بھی سیمانچل کی پسماندگی میں بڑا دخل رہا ہے اس لئے ہمیں نوجوانوں میں سیاسی شعور لانے کی ہر ممکن جد وجہد کے ساتھ انہیں مذہبی تفریق کے بغیر علاقہ کی تعمیر وترقی میں حصہ دار بننے کے لئے آمادہ کرنا ہوگا منظر عالم خان نے کہا کہ صرف وعدوں اور بڑے بڑے منصوبوں سے کسی علاقے کی ترقی کے سپنے پورے نہیں ہوتے بلکہ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے عوام سے الیکشن کے وقت میں کئے گئت وعدوں کو پوری ایمانداری وجوابدہی کے ساتھ عملی میدان میں لانا ہوتا ہے لیکن اگر سیمانچل کی سرزمین سے جڑی سچائیوں کے حوالے سے گفتگو کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ مختلف سیاسی رہنماوں کے ذریعہ اس علاقہ کی ترقی وخوشحالی کے حوالے کے سلسلے میں کئے جانے والے نہ جانے ایسے کتنے وعدے اپنی تکمیل کا راستہ دیکھ رہے ہیں جن کا سیدھا رشتہ عوامی مفادات سے ہے انہوں نے کہا کہ یہ ساری صورت حال شاید اس لئے ہے کہ یہاں کے لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھانے کا یاتو موقع نہیں دیا گیا یا ان کے مطالبے جھوٹے وعدوں کی تہ میں دبا دیئے گئے منظر عالم خان نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے جس طرح ارریہ پارلیمانی حلقہ کی عوام کے حالات دن بدن خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں وہ ایک افسوسناک پہلو ہے بات چاہے ایک گاوں کو دوسرے گاوں سے جوڑنے والی سڑکوں کی کریں یا سیلاب کا خطرہ پیدا کرنے والے ندی نالوں کی خستہ حالی کی معاملہ چاہے اسکول وکالج کی کمی کا ہو یا سرکاری محکموں کی بدعنوانی کا یا پھر بات کی جائے کسانوں کے مسائل کی ہر سطح پر یہاں کی عوام بس سیاسی نمائندوں کے وعدوں اور بھروسے کے سہارے زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں زمینی سطح سے جڑ کر سیمانچل کے لوگوں کی خدمت کرنا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا چاہتا ہوں لیکن اس کے لئے ایک بار یہاں کی عوام کو میرے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close