بہارمگدھ

سیلاب:مشرقی چمپارن کا رابطہ سیتامڑھی و شیوہر سے ٹوٹا

موتیہاری: مانسون کی پہلی بارش اور لگاتار تین دنوں سے ہورہی جھماجھم بارش کی وجہ سے مشرقی چمپارن کا تعلق پڑوسی اضلاع سیتامرھی اور شیوہر سے ختم ہوگیاہے۔جس سے لوگوں میں خوف ودھشت کاماحول پیدا ہوگیا۔پیچھلے سال آئی سیلاب نے ڈھاکہ بلاک میں دس کیپومیٹر کے اندر ہی تین جگہ بلوا گواباری،پھلوریااور جھٹکاہی پنچایت کے سپہی گاوں میں ر پشتہ ٹوٹ گیا تھا۔جس سے کروڑوں کامالی نقصان اور درجنوں انسانوں اموات ہوئی تھی۔اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ پڑوسی ملک نیپال نے پانی کو چھوڑا ہے اور ایک بار نیپال نےپانی چھورا ہے۔معلوم ہوکہ ڈھاکہ بلاک کے تحت آنے والی لال بقیہ ندی کاتعلق نیپال لے پہاڑوں سے ہیں جس کی وجہ سے ہلکی بارش میں بھی لال بقیہ ندی میں پانی زیادہ ہوجاتا ہے۔سیتامڑھی اور شیوپر کو جوڑنے والے پھلوریا اور بیلوا گھاٹ پوری طرح سے پانی میں تبدیل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے دونوں طرف کے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔اب مشرقی چمپارن اور سیتامڑھی کے عوام کو جوڑنے والا صرف مہواوا گھاٹ ہے جہاں پر لوگ جان کو خطرے میں ڈال کر ریلوے پارتے ہیں۔جس پر ہمیشہ خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔بتادیں کہ 2011 میں پھلوریا گھاٹ پر ندی پار کرتے کشتی کے پلٹنے کی وجہ سے درجنوں کی موت ہوگئی تھی جس کے بعد پل کی تعمیر کا معاملہ اٹھاتھا لیکن سیاسی رہنماوں کی عدم توجہی کی وجہ سے 07 سال گزرجانے کے بعد بھی پل کی تعمیر نہیں ہوسکی ہے۔ڈھاکہ بلاک ترقیاتی افسر گیان پرکاش نے موقع پر پہونچ کر جائزہ لیا اور لوگوں کو ہنگامائی حالت میں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close