بہارسیمانچل

سیمانچل کی ترقی سے جڑے دعوے کو عملی شکل دینے کی ضرورت :منظر عالم

ارریہ :ھلے ہی سیمانچل کا اہم حصہ مانے جانے والے ارریہ پارلیمانی حلقہ کی ترقی وخوشحالی اور یہاں کی نئی نسل کے تعلیمی مستقبل کو بہتر بنانے کے دعوے کئے جاتے رہے ہوں مگر یہاں کی زمینی سچائیاں کسی بھی طرح سیاسی لیڈروں کے دعوں سے میل نہیں کھاتیں یہی وجہ ہے کہ ارریہ پارلیمانی حلقہ اب بھی نہ صرف پسماندگی کی آخری سیڑھی پر کھرا ہے بلکہ کسی ٹھوس حکمت عملی کے بغیر اس کے خوش آئند مستقبل کی امید کرنا دیوانے کے خواب کی طرح ہوگا یہ باتیں سیمانچل کی سیاست میں سرگرم رہنے والے ارریہ پارلیمانی حلقہ کے نہایت ہی متحرک وفعال لیڈر منظر عالم خان نے آج اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں انہوں نے کہا کہ یہ کتنی ہی عجیب بات ہے کہ سیمانچل آزادی کی چھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی اپنی قسمت کا ماتم کر رہا ہے یہاں نہ تو نئی نسل کے لئے روزگار کے مواقع ہیں اور نہ ہی کالج ویونیورسٹی کی شکل میں ان کی تعلیم کا کوئی خاص بند وبست حالت تو یہ ہے کہ یہاں کی نئی نسل کو اپنے بہتر مستقبل کی تلاش کے لئے در در کی ٹھو کریں کھانی پڑ رہی ہیں منظر عالم خان نے کہا کہ پورے سیمانچل کا تعلیمی نظام انتظامیہ کی لا پرواہی کی وجہ سے غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہمیں مختلف مقامات پر اسکول وکالج کے جال بچھانے ہوں گے ساتھ ہی ایک بڑی یونیورسٹی کے قیام اور اسٹڈی سینٹر کی تحریک کے تئیں بھی سنجیدہ ہونا ہوگا انہوں نے کہا کہ ارریہ کے کسانوں کی حالت نے ہر طرف ہاہا کار مچا ہوا ہے خاص طور سے مکئی کے کسانوں کا حال بد سے بد تر ہوتا جا رہا ہے مگر سیاسی نمائندے انہیں جھوٹے وعدوں کے سہارے تسلی دینے میں مصروف ہیں منظر عالم خان نے کہا کہ سیمانچل کی ترقی وخوشحالی کے دعوں کو عملی شکل میں پیش کرنے کے لئے ہمیں ایمانداری کے ساتھ زمینی سطح سے جڑ کر کام کرنا ہوگا ساتھ ہی نئی نسل کے مفادات کی حفاظت کو یقینی بنانے کی راہ ہموار کرنی ہوگی انہوں نے کہا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں سیمانچل کی تعلیمی بہتری کے لئے فوری طور پر ڈگری کالج اور ایک یونیورسٹی کے قیام پر زور دونگا تاکہ ہمارے بچے اور بچیوں کو دور دراز کے سفر کی دشواریوں سے بچاپانا ممکن ہو منظر عالم خان نے ارریہ پارلیمانی حلقہ کے سرکاری محکموں میں ہورہی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ چیزیں سماج کا حق اور سکون دونوں چھین رہی ہیں جو اپنے آپ میں تکلیف دہ بھی ہے اور غور طلب بھی جس کے حل کا ایک ہی راستہ ہے کہ افسران کو جوابدہ اور ایماندار بنایا جائے انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کی حفاظت کے لئے قومی نظریات ومفادات کو قربان نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی نفرت وتعصب کے ماحول میں کسی بھی علاقے کی ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے اس لئے میں ارریہ پارلیمانی حلقہ کی عوام سے یہ اپیل کرونگا کہ وہ اپنے اوپر ہو رہے سیاسی ظلم کا پوری اجتماعیت سے مقابلہ کریں اور اپنے کسی مقصد کی تکمیل میں مذہب یا ذات کی تفریق کو ہرگز نہ آنے دیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close