بہارپٹنہ

سی بی آئی کے سیاسی استعمال کے خلاف قانون سازیہ میں ہنگامہ

دونوں ایوانوں کی کارروائی ٹھپ،کونسل سے آرجے ڈی کے 5ارکان معطل،اپوزیشن کے احتجاجی دھرنا کے بعد معطلی واپس

پٹنہ:بہار قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے تیسرے دن بدھ کو اپوزیشن راشٹریہ جنتادل ،کانگریس اور بایاں محاذ نےسی بی آئی کے سیاسی استعمال کے خلاف زبردست ہنگامہ کیا ، جس کے نتیجے میں ایوان کی کارروائی تین منٹ بعد ہی دو بجے دن تک کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی آر جے ڈی ، کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسوادی ۔ لینن وادی ( سی پی آئی ۔ مالے ) کے اراکین اپنی اپنی نشستوں سے ہی ایک ساتھ بولنے لگے ۔ شوروغل ہونے پر اسپیکر وجئے کمار چودھری نے اراکین سے وقفہ سوالات چلنے دینے کی گذارش کی لیکن اس کا اپوزیشن اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔سی پی آئی مالے کے اراکین ہاتھوں میں پوسٹر لئے ایوان کے بیچ میں آگئے اور اس کے بعد کانگریس اور آر جے ڈی کے اراکین بھی ایوان کے بیچ میں آکر شورو غل اورنعرے بازی کرنے لگے ۔ اپوزیشن اراکین ’ سی بی آئی کا سیاسی استعمال بند کرو اور سی بی آئی کو خود مختاری دو“ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ اس پر بی جے پی کے اراکین بھی اپنی سیٹ سے نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی کی کتاب ’لالو لیلا ‘ کے کور پیج کی فوٹو کاپی لیکر نعرے بازی کرنے لگے ۔ ایوان میں شور شرابہ دیکھ کر اسپیکر نے ایوان کی کاروائی 11 بج کر تین منٹ پر دو بجے دن تک کے لئے ملتو ی کر دی ۔دو بجے جب پھر سے کارروائی شروع ہوئی تو ہنگامہ جاری رہا۔ اس پر اسپیکر وجئے کمار چودھری نے ایوان کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی۔ بعد میں کانگریس کے ممبر اسمبلی رام دیو رائے نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاکہ اب صاف ہو گیا ہے کہ آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادوکو سی بی آئی نے سیاسی وجوہات کی بناپر جھوٹے معاملات میں پھنسا یا ہے ۔ اپوزیشن سی بی آئی کے سیاسی استعمال کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کر ے گا ۔ انہوں نے کہاکہ نتیش حکومت عوامی مفادات کے سوال پر بھی حساس نہیں ہے ۔ ایوان نہیں چلنے کیلئے پوری طرح سے حکومت ذمہ دار ہے ۔ آر جے ڈی لیڈر عبد الباری صدیقی نے کہاکہ لالو پرساد یادو بی جے پی سمیت سبھی فرقہ پرست طاقتوں کے سخت مخالف ہیں اسی لئے انہیں سازش کے تحت گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ اب واضح ہوگیا ہے کہ سی بی آئی کے خصوصی ڈائریکٹر راکیش استھانا، بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی، وزیراعلیٰ نتیش کمار اور وزیراعظم (باقی صفحہ 8 پر)
دفترکی ساز باز سے لالو یادو کو جھوٹے الزامات میں پھنسایا گیا ہے ۔ اپوزیشن اس پروزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ  سے صفائی چاہتا ہے ۔ اس پر بحث کیلئے تحریک التوا پیش کی گئی تھی ۔ سی پی آئی مالے کے محبوب عالم نے کہاکہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر آلوک ورما نے واضح کر دیا ہے کہ راکیش استھانا نے سیاسی وجوہات کی بنا پر لالو پرساد یادو کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف بلند آواز کو دبانے کیلئے مرکز اور بہار کی حکومت لالو یادو کا جیل میںہی مارنے سازش رچ رہے ہیں۔ادھرقانون ساز کونسل میں بھی آج اس معاملے پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی آرجے ڈی کے ڈاکٹر رام چندر پوربے نے اس سلسلے میں پیش تحریک التوا کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ مگر کونسل کے کارگزار چیئرمین محمد ہارون رشید نے اسے نامنظور کردیا تو اپوزیشن کے ارکان مشتعل ہوگئے اور ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ کارگزار چیئرمین نے اپوزیشن کے ارکان سے پرامن ہوکر وقفہ سوالات چلنے دینے کی گذارش کی۔ لیکن اپوزیشن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور ہنگامہ شدت اختیار کرنے لگا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی ڈھائی بجے دن تک کیلئے ملتوی کردی۔ لیکن اس کے بعد بھی جب صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی تو کارگزار چیئرمین نے سختی دکھائی اور ہنگامہ کررہے آرجے ڈی کے 5 ارکان کو دو دنوں کیلئے معطل کردیا۔ صدر نشیں کی ہدایت پر معطل کئے گئے سبھی پانچوں ارکان کو ایوان سے باہر نکالا گیا۔ اس کارروائی کے بعد اپوزیشن بھڑک گیا اور اس نے کونسل کے مین گیٹ پر احتجاجاََ دھرنا شروع کردیا۔ جس میں اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو بھی شریک ہوئے۔ یہ دھرنا چیئرمین کی طرف سے آرجے ڈی ارکان کی معطلی واپس لئے جانے کے بعد ختم ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close