پٹنہ

سی ڈی آر نے ثابت کر دیا کہ ملزمان کو بچا رہی ہے نتیش حکومت: انل کمار

نتیش کمار - منجو ورما دیں استعفی، تبھی غیر جانبدارانہ جانچ ممکن: انل کمار مظفر پور شیلٹرہوم آبروریزی سانحہ بہار کی روح پر گہرازخم: انل کمار

پٹنہ:مظفر پور شیلٹریم ہوم میں 34 لڑکیوں کے ساتھ بدفعلی معاملے میں جن تانترک پارٹی نے وزیر اعلی نتیش کمار اور سماجی بہبود وزیر منجو ورما کے استعفی کی مانگ کو لے کر پٹنہ کے گردنی باغ میں ایک روزہ دھرنا دیا۔ دھرنے کی قیادت قومی صدر انل کمار نے كکی اور نظامت بہار ریاستی صدر سنجے منڈل نے کی۔ اس دوران انل کمار نے کہا کہ منجو ورما کے شوہر چندرشیکھر پرساد ورما کی کال ڈیٹیلس سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ مظفر پورشیلٹر ہوم آبروریزی سانحہ کے اہم ملزم برجیش ٹھاکر سے مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے 17 بار برجیش ٹھاکر سے بات کی تھی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار گھناؤنے اسکینڈل میں مجرموں کو بچانے میں لگے ہیں۔ ایسے میں انہیں حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لوگوں نے انہیں بڑے اعتماد کے ساتھ ریاست کی کمان سونپی تھی، مگر وہ بہار کی بیٹیوں کی عصمت لوٹنے والوں کو بچا رہے ہیں۔
انل کمار نے کہا کہ 28 مئی کو ٹس کی اطلاع آتی ہے، جسے سماجی بہبود محکمہ کی طرف سے دو ماہ تک دبا کر رکھا جاتا ہے۔ پھر معاملہ سامنے آنے کے بعد 30 مئی کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ہوتا اور 31 کو ایف آئی آر درج بھی ہوتی ہے۔ مگر اس سے پہلے ہی 28 مئی کو جن 40 لڑکیوں سے عصمت دری ہوئی تھی، اس کو مدھوبنی، مکاما اور پٹنہ شفٹ کر دیا گیا۔ پھر 8 جون کو 40 لڑکیوں کہ طبی جانچ ہوتی ہے، مگر میڈیکل رپورٹ تقریبا ڈیڑھ ماہ بعد 20 جولائی کو مظفر پور پولیس کو سونپی جاتی ہے۔ اس رپورٹ میں بھی عصمت دری کی تصدیق ہوتی ہے۔ اتنا ہی نہیں معاملہ کھلنے کے بعد سی بی آئی کے حکم کے پہلے ہی مین گواہ کو مدھوبنی سے غائب کر دیا گیا۔یہ بات مدھوبنی میں شیلٹر ہوم چلانے والی این جی او نے بھی كکہی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے شیلٹر ہوم سے بھی 11 خواتین اور 4 بچیاں غائب ہیں۔ یہ کہیں عکاسی کرتا ہے ریاستی حکومت نے اس معاملے کو سی بی آئی جانچ سے پہلے ہی دبانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی ریاستی حکومت کئ طریقہ کار پر سوال اٹھایااور پوچھا ہے کہ بغیر تصدیق کے بہار حکومت شیلٹرہوم چلانے والے این جی اوز کو فنڈنگ کس طرح کی۔ جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس کے ایم جوزف کی بینچ نے کہا ہے کہ اس صورت میں شامل این جی او کو اگر بغیر توثیق کے فنڈ دیا گیا ہے، تو یہ ایک طرح سے اس معاملے میں ریاستی حکومت کے شامل ہونے جیسا ہے۔ ایسا لگے گا کہ تمام غلط کام حکومت کی طرف سے اسپانسر کیا جاتا ہے۔ لہذا حکومت کو ذمہ داری لینی پڑے گی۔ انل کمار نے کہا کہ مظفر پور سانحہ بہار کی روح پر گہرا زخم ہے۔ مگر اس کی کراہ اور درد نہ تو ریاست کے حکمرانوں کو محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو۔ ایک طرف اپوزیشن اس مسئلے کے سہارے دہلی کے جنتر منتر پر ہنس – ہنس کر دھرنے کی سیاست کرتے ہیں، تو دوسری طرف وزیر اعلی نتیش کمار خود اس مسئلے پر اپنی مسکراہٹ کے ساتھ پریس مذاکرات کر اس وزیر کو کلین چٹ دیتے ہیں، جن کے شوہر کا اس کیس کے ملزم سے ك کنکشن واضح طور پر ظاہر ہو چکا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ نتیش کمار کے ضمیر کی بھی اپنی ٹائمنگ ہے، جس میں صرف کرسی کے لئے جگتا ہے۔ تبھی تو بہار کی بیٹیوں کی عصمت ان کے وزیر، افسر اور سفید پوش لوٹتے ہیں اور وہ اس پر سیاست کرتے ہیں۔ مگر یہاں سوال بہار کی غریب اور بے سہارا بیٹیوں کا ہے، جنہیں ایسے ہوم میں رہنا پڑتا ہے۔ لہذا اس سانحہ کے خلاف لوک تانترک پارٹی نے آج ایک روسہ دھرنا دیا۔انل کمار نے سریجن گھوٹالے کے بھی سی بی آئی کی طریقہ کار پر بھی سوال کھڑے کئے اور یہ کہاکہ اسکینڈل کے انکشاف کے ایک سال پورے ہو گئے، مگر آج تک سی بی آئی اس معاملے میں کوئی تسلی بخش کارروائی نہیں کر پائی ہے۔ وہیں، گھوٹالے میں اقتصادی مشیر رہے امت اور پریا کمار غائب ہیں، جن کا پتا لگانے میں بھی سی بی آئی ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ مظفر پور کے نورونا اسکینڈل میں بھی سی بی آئی چارج شیٹ تک داخل نہیں کر سکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے میں بھی چار اہم متاثرین کے غائب ہونے کی خبر ہے۔ تو کیا یہ مان نہیں لیا جانا چاہئے کہ کیس میں شامل رہنماؤں، حکام اور سفید پوشو ںکو بچانے کے لئے اہم گواہ کو ہی غائب کر دیا گیا ہے، جیسے سریجن گھوٹالے میں ہوا ہے۔ انہوں نے مظفر پور کیس میں بی جے پی رہنماؤں کی طرف سے منجو ورما کے دفاع پر کہا کہ برجیش ٹھاکر این ڈی اے کے لئے الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ لہذا این ڈی اے کی جانب سے برجیش ٹھاکر سمیت اس معاملے میں ملوث ہونےکی بات سامنے آچکی ہے وزیر منجو ورما کے شوہر کا دفاع کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں جتنی لڑکیاں غائب ہیں، انہیں حکومت سامنے لائے اور ان کی نگرانی سپریم کورٹ کی طرف سے ہو۔ تبھی اسم معاملے میں بہار کی بیٹیوں کو انصاف مل پائے گا۔ تو ہم آبروریزی کے معاملے میں وزیر اعلی نتیش کمار اور ان کی وزیر منجو ورما سےاستعفی کا مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ جب تک یہ استعفی نہیں دیتے تب تک غیر جانبدارانہ جانچ ممکن نہیں ہے۔ سنجے منڈل نے کہا کہ یہ کتنی شرم کی بات ہے کہ سب کچھ نتیش حکومت کے ناک تلے ہوتا رہا ہے اور وہ ایسے راکشسوں کو فائدہ پہنچاتے رہے۔ آج بھی نتیش حکومت کہیں اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر لوک تانترک پارٹی کبھی ایسا ہونے نہیں دے گی۔ لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بہار کے تمام شیلٹرہوم کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو اور حقائق سے چھیڑ چھاڑ کرنے والوں اور بیٹیوں کی عصمت لوٹنے والوں کو پھانسی کی سزا ملے۔
دھرنا میں لوک تانترک پارٹی کے ریاستی نائب صدر جے نارائن سنگھ، پریہ درشی، روندر منڈل، منوج اجالا، سکھدیو یادو، كرشنی نندن شرما، ریاستی جنرل سکریٹری اجے یادو، كشاوتی دیوی، چکرورتی چودھری، روندر رام، اکھلیش راوت، ترجمان پریم پرکاش، سیکریٹری رام ملن ، اوم پرکاش یادو، رام بلی مہتو سمیت بڑی تعداد میں ضلع صدر اور عام لوگ شامل ہوئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close