بہارپٹنہ

شاعری کے بطن سے زندگی کا سچ پیدا ہوتا ہے: پروین شیر

پٹنہ :نیو یارک ،امریکہ سے تشریف لائیں معروف شاعرہ ،مصور و موسیقار پروین شیر کے اعزاز میں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ ، اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیر اہتمام بہار اردو اکادمی، پٹنہ کے کانفرنس ہال میں اعزازی محفل منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت معروف ادیب و ناقد و شاعر پروفیسر علیم اللہ حالی نے کی۔ استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی نے کہا کہ آج کی محفل محترمہ پروین شیرکے اعزاز میں منعقد ہے۔ اس اعزیزی محفل میں آپ تمام حاضرین اور مہمانان کا خیر مقدم ہے، استقبال ہے۔ اردو زبان و ادب کے فروغ میں اعزازی محفل کا انعقاد کی بڑی اہمیت ہے۔ اس طرح کی محفل کے انعقاد سے ادیب و شعراء اور خدام اردو کی حوصلہ افزائی اور ہمت افزائی ہوتی ہے۔ ان کے کارناموں اور خدمات کا اعتراف ان کی ہی زندگی میں کیا جانا اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ یقینا یہ محفلحسین اور یاد گار ہے۔یہ محفل یاد گار کیوں نہ ہو جب کہ اس محفل میں بہار کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی عظیم شاعرہ مصنفہ، مصور، اور موسیقار محترمہ پروین شیرامریکہ سے تشریف لائی ہیں۔ڈائرکٹر موصوف نے محترمہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروین شیر عالمی شہرت یافتہ شاعرہ، مصوراور موسیقار ہیں۔ عظیم آباد کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ کمسنی میں ہی کینڈا آکر نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کیں۔انہوں نے شاعری اور مصوری کی دنیا میں اونچا مقام حاصل کیا۔ ہندستان ، پاکستان اور یورپ کے ادبی رسالوں میں ان کی ادبی تخلیقات کثرت سے شائع ہوتی رہی ہیں۔انہوں نے شاعری میں نظمیں اور غزلوں کے ساتھ ساتھ نثرمیں افسانے، مضامین، مقالے اور سفر نامے وغیرہ بھی تخلیق کی ہیں۔ جناب کریمی نے کہا کہ موصوف شاعرہ کی کرچیاں‘،’نہال دل پر سہاب جیسے‘،’چند سیپیاں سمندروں سے‘اُن کے ایسے مصورانہ شعری مجموعے ہیں، جنھوں نے پوری دنیا ئے ادب اور مصوری میں بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی ۔ جناب کریمی نے پروین شیر کے استقبال اور شکریہ کے لئے یہ خوبصورت شعر پڑھا’’ آپ آئے تو بَہاروں نے لٹائی خوشبو۔ پھول تو پھول ہیں، کانٹوں نے بھی لٹائی خوشبو‘‘۔اعزازی محفل میں جناب احتشام کٹونوی ، معروف دانشور و ادیب، پٹنہ اور ڈاکٹر ارمان نجمی معروف شاعر و ادیب ، پٹنہ نے اظہار خیال فرمایا۔ جناب احتشام نے کہا کہ پروین شیر کو ہم تب سے جانتے ہیں جب وہ دلہن بن کر ہماری پھوپھی کے گھر آئیں۔ پروین شیر ایک کمپلٹ آرٹسٹ ہیں، وہ ایک شاعرہ ہیں، ایک مصور ہیں اور ایک موسیقارہیں۔ انہوں نے نظمیں، غزلیں ،افسانے او رسفر نامے لکھے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پروین شیر کی ہرنظم زخمی پرند ے کی چیخ کے مانند ہے۔
اعزازی محفل میں پروین شیر کی نئی کتاب ’بیکرانیاں ‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔پروفیسر اعجاز علی ارشد معروف ناقد و ادیب، پرنسپل پٹنہ کالج پٹنہ نے ان ک کتاب ’بیکرانیاں‘ کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروین شیر کی ذات کے وسیلے سے شاعری میں مختلف فنون کی سرحدیں ایک دوسرے سے مل گئی ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کے ذہن میں اکثر نظمیں شاید کسی تصویر یا نغمے کی صورت میں ہی ابھرتی ہیں جنہیں وہ بعد میں حسب خواہش رنگوں یا شبدوں میں ڈھال دیتی ہیں۔ یہ بات بہر حال قابل تعریف ہے کہ دونوں ہی صورتیں احساسات و جذبات کو تحریک عطا کرنے یا سیراب کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اور یہی فنون لطیفہ کا بنیادی وصف رہا ہے۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خیالات و تاثرات پیش کرتے ہوئے محترمہ پروین شیر نے کہا کہ شاعری زندگی کے پھول کی بکھری ہوئی پنکھڑیاں ہیں۔ وہ پھول جو خوشبو لٹانے کے لئے آندھیوں کے درمیان کھلا تھا۔ تاریکیوں کی خوگر آنکھوں کا یکا یک سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی کو پہلی بار دیکھ کر حیران ہو جاتا۔ تنگ دیواروں کے درمیاں رہ کر اچانک سمندر کی وسعت دیکھ کر ششدر ہوجانا ، کانٹوں کی چبھن محسوس کرتے کرتے دفعتاً مخملی پنکھڑیوں کا لمس پالینا ہی شاعری ہے۔ یہ کسی درسگاہ سے حاصل شدہ تجربہ نہیں ۔ یہ تو زندگی کی رگوں میں پانی کی جگہ تازہ خون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شاعر پانی سے علیحدہ کی گئی وہ مچھلی ہے جو تپتی ریت پر تڑپتی ہوئی آسمان کے سمندر کو تکتی رہتی ہے۔ خاموشی کی خشک رگوں کو نغمگی کا تازہ خون شاعری ہی عطا کرتی ہے۔سچی شاعری آگہی کا تنائو عطا کرتی ہے۔ شاعر وہ کوزہ گر ہے جو کچی مٹی کی لوئی سے بغیر کسی چاک کے صرف اپنے ہاتھوں سے شاہکار تخلیق کر دیتا ہے۔ شاعری کے بطن سے زندگی کا سچ پید ا ہوتا ہے۔محترمہ پروین شیر کے اعزاز میں ایک محفل سخن بھی منعقد ہوئی جس کی صدارت معروف شاعرو افسانہ نگار، سابق صدر نشیں اردو مشاورتی کمیٹی بہار ، پٹنہ نے کی۔ اس موقع پر مہمان شاعرہ پروین شیر نے اپنے خوبصورت کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ ارمان نجمی، نسیم مظفر پوری ، سرور حسین وغیرہ نے بھی اپنے خوبصورت کلام پیش کئے جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔ تقریب کی نظامت اور ابتدائی کلمات ڈاکٹر اسلم جاوداں نے پیش کئے۔ اس موقع پر شوکت حیات ،پروفیسر اسلم آزاد،فخر الدین عارفی، احسان اشرف، سید حسن نواب حسن،ڈاکٹر فرزانہ اسلم، امتیاز کریم، نجم الحسن نجمی، وجیہہ الدین ایڈووکیٹ، مشتاق احمد نوری، مکرم حسین ندوی، نور السلام ندوی، معین گریڈیہوی، انوار الہدی، زر نگار، ڈاکٹر سرور حسین، کاظم رضا سمیت متعدد شعراء ادیب و محبان اردو موجود تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close