بین الاقوامی

شام کا بحران : 2018ء میں 20 ہزار افراد ہلاک

دمشق:شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق 2018 کے دوران شام میں 20 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ 2011 میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد کسی بھی ایک سال کے اندر ہونے والی سب سے کم ہلاکتیں ہیں۔روس کی سپورٹ کے ذریعے بشار کی فوج اس وقت شام کے 60 فی صد سے زیادہ رقبے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ اس کے مقابل شامی اپوزیشن گروپوں اور داعش تنظیم کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔پیر کے روز جاری بیان میں المرصد نے 2018 میں 19666 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ہلاک شدگان میں 6349 شہری ہیں جن میں 1437 بچے شامل ہیں۔المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ "شام میں مارچ 2011 کے وسط سے شروع ہونے والے واقعات کے بعد سے یہ کسی بھی سال سامنے آنے والی سب سے کم ہلاکتوں کی تعداد ہے”۔اس سے قبل 2017 میں 33 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ 2014 شام میں سب سے زیادہ خونی سال رہا جب ایک سال کے اندر 76 ہزار سے زیادہ افراد موت اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سال 2015 میں روس کی فوجی مداخلت کے بعد سے شام میں بشار کی فوج نے زمینی طور پر پے درپے کامیابیاں حاصل کیں۔ بشار کی فوج 2018 میں الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی جو دارالحکومت دمشق کے نزدیک اپوزیشن گروپوں کا اہم ترین گڑھ شمار ہوتا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close