بہارسیمانچل

شان وشوکت کے ساتھ یاد کئے گئے امام حسینؓ

لوگ امام حسینؓ کی تعلیمات کو بھلا کر لغووفضول کاموں میںلگ گئے:مولانا اظہار

ارریہ:، محرم کی رونق یوں تو یکم محرم سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور لوگ اپنے اپنے انداز میں غم حسین مناتے ہیں گھر کے بوڑھے بچے سب کے اند ر ایک توانائی سی آجاتی ہے۔ ڈھول تاشے اور تعزیہ کا دور چلنے لگتاہے۔ اس بار دس محرم الحرام جمعہ کو پڑنے کی وجہ سے عام طور سے شہر اور اطراف کربلا میں جلوس اور میلا دس کے بجائے 11محرم بروز سنیچر کو لگایا گیا۔ ستمبر کے ایٹم گراؤنڈ میں کھلاڑیوں نے جم کر کرتب دکھایا اور تعزیہ کے ساتھ جلوس لے کر میدان میں جمع ہوئے اور مختلف انداز میں تماشہ بینوں کو لطف اندوز کیا۔شہراور اطراف شہرگیاری ، سیسونا، کھریا بستی وغیرہ سے بھاری تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور میلہ دیکھ کر دیر رات اپنے گھروں کو پہنچے اور کسی طرح کاکوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس طرح ضلع ارریہ کا معروف مشہور کربلا بیرگاچھی کا نظارہ بیان سے باہر رہا، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے اپنے گاؤں سے تعزیہ اورجلوس کے ساتھ بیر گاچھی میں جمع ہوئے خبر لکھے جانے تک مسوریا ، بھونا، مچھیلا، محلگاؤں بارا ، ٹکنی ، چوکتا، ڈومریا،گھوڑا مارا، بھنسیا، جوگیندر، دولت پور، عظمت پور، تارن ، کاکن، بھنگیا، رامپور، بوچی، بٹر باڑی، جسے دوردراز گاؤں سے تقریبا 50ہزارلوگ جمع ہوچکے تھے اور دیر رات تک جشن کا ماحول رہا۔ اور لوگوں نے جم کر خریداری بھی کی۔ یہاں بھی دس کے بجائے 11محرم الحرام کو میلہ لگا، ایک اچھی بات یہ رہی ہے کہ جوکی ہاٹ کے ایم ایل اے شہنواز عالم کی پوری نگرانی کے ساتھ علاقے میں موجود رہے۔
وہیں دوسری طرف دین کے جانکار لوگوں نے بے چینی کا بھی اظہار کیا۔ معروف عالم دین مولانا اظہار عالم قاسمی مچھیلا نے کہا کہ یہ لوگ امام حسینؓ کی تعلیمات کو بھلا کر لغووفضول کاموں میںلگ گئے ، انہیں امام حسین کی صحیح تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنی چاہئے اسی میں کامیابی ہے۔ اس طرح معروف سماجی و ملی رہنما ماسٹر ظفر عالم صاحب مصدریہ نے بھی قوم کے اس رویہ پر کافی درد کا اظہار کیا، اور کہا لعنت تقریبا اس علاقے سے ختم ہوچکی تھی لیکن پچھلے ایک دوسال سے یہ وبا ایک بار پھر پھیل رہی ہے۔ اور اچھے اچھے دیندار اور جماعت میں وقت لگائے ہوئے ساتھی مرثیہ خوانی کرتے ہوئے نظر آئے جو تشویشناک بات ہے۔ ایسے خیالات کا اظہار معروف قومی رہنما ڈاکٹر سیف الاسلام صاحب نے بھی کیا۔
مولانا فیض الاسلام ندوی نےکہا سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے، اساس اسلام کے تحفظ کے لئے اپنے جان کی قربانی، اللہ کی راہ میں پیش کردی،اہل کوفہ کی غداری، اور خلیفہ وقت کے لشکر نے جسکا سپہ سالار ابن زیاد تھا، میدان کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرلیا،اور آپے بہتر ساتھیوں کے ساتھ جس میں ۲۲/ کے قریب شہدا، اہل بیت میں سے، انکو ظالمانہ طریقہ سے شہید کردیا. اہل کوفہ نے امام حسین کی جانب قاصد اور خطوط بھیجے کہ آپ کوفہ آجائیں، ہم آپکے ہاتھ پر بیعت، کرنے کوتیار ہیں،”اہل مکہ اور اہل مدینہ نے آپکو عراق جانے سے روکا، اس بناء پر کہ وہ اس وقت کے حالات سے واقف تھے،مگر سیدنا امام حسین، اہل کوفہ، پر اعتبار کرتے ہوئے، سفر کے لئے تیار ہوگئے، مگر آپ جب کوفہ پہونچے تو وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ غداری کردی، اور صاف کہا کہ ہم نے آپکے پاس کوئی خطوط اور کوئی قاصد نہیں بھیجا. خلیفہ وقت یزید کےلشکر نے، امام حسین، اور تمام ساتھیوں کو شہید کردیا۔
مولانا ابونصر ہاشم ندوی نے کہاحضرت امام حسینؓ کی سیرت اور شہادت قابل رشک ہے، مگر ایک طویل سے عرصہ سے اہل روافض، محرم الحرام کے مہینہ کو ماتم والا مہینہ خیال کرتے ہیں، اور امام حسین کی شہادت، پر روتے اور سینہ پیٹتے ہیں،حالانکہ شہادت فخر کی بات ہے، اگر شہادت ماتم کرنے کی چیز ہوتی، تو تقریباً ۲۷۰۰۰/ صحابہ اسلامی تاریخ میں شہید ہوئے، حسین ابن علی کی شہادت پر ماتم کرنے والے لوگ، امام حسین کے والد محترم، داماد رسول شیر خدا، علی ابن ابی طالب کی شہادت پر ماتم نہیں کرتے، جنہوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں، شہادت پائی،سیدنا حضرت حمزہ، عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنکی کربناک شہادت کو دیکھ کر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تاب نہ لاسکے، اور آنکھوں، سے اشک مبارک جاری ہوگئے، بلا شبہ امام حسینؓ نے اسلام کے تحفظ کے لئے، بڑی قربانی دی ہے، اور آپ پر بڑا ظلم کیا،گیا لیکن اسکا یہ مطلب نہیں، کہ باقی شہدائے اسلام جنہوں نے امام حسین سے پہلے شہادت پائی، انکی تاریخ کو فراموش کردیا جائے۔
مولانا نیاز احمدندوی نے کہا کہ امام حسینؓ اور اہل بیت سے محبت ہے، تو اسلام پر عمل پیراں ہوجاؤ، سنت و شریعت کو، مضبوطی سے تھام لو،جلسہ کی صدارت فرمارہے مولانا مشتاق احمد قاسمی ناظم مدرسہ نے کہا، کہ انسان اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے، جب وہ سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والا بنے،جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، ارشاد فرمایا کہ جسنے میری سنت کو زندہ کیا، میری امت میں فساد کے وقت اسکو سو شہیدوں کو ثواب دیا جائےگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close