پٹنہہندوستان

شراب بندی سےآپسی تنازعات جیسے معاملوں میں کمی آئی :وزیر اعلیٰ

پٹنہ :وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار نے آج ادھیویشن بھون میں منعقد یوم انسداد نشہ پروگرام کا شمع روشن کر کے افتتاح کیا۔ شراب بندی آبکاری اور رجسٹری محکمہ کے اڈیشنل چیف سیکریٹری جناب عامر سبحانی نے وزیر کو پودا دے کر استقبال کیا ۔بین اقوامی شہرت یافتہ سینڈآرٹسٹ جناب مانس کمار ساہو نے انسداد نشہ سے متعلق بالو کندہ کاری کر کے لوگوں کو بیدار کیا ۔ عوامی تعلیمی محکمہ کلکاربی بہار بال بھون کے بچوں نے انسداد نشہ سے متعلق عوامی بیداری کے گیت پیش کیے۔ وہیں کلکاری بہار بال بھون کی دو طالبات پونم اور خوشی نے شراب بندی کے بارے میں اپنے تجربات شیئر کیا ۔ یوم انسداد نشہ میں شراب بندی پر مشتمل ڈیکو منٹری کی نمائش کی گئی ۔ اس پروگرام میں تمام پنچایتوں کے مکھیاکو ارسال کیے گئے پیغامات کی کشائی وزیر اعلیٰ نے ریمورٹ کے توسط سے کیا ۔ موبائل پر عوام کے نام بھیجے گئے اپنے آڈیو پیغام کا اجر ا وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے موبائل کا بٹن دبا کر کیا ۔ مکمل شراب بندی کو مستقل طور پر موثر بنانے کی سمت میں چلائے جارہی مسلسل مہم اور کارروائی میں مصروف لوگوں اور شراب بندی سیل کے پولیس اہلکاروں کو وزیر اعلیٰ نے اعزاز سے نوازا ۔ ادھیویشن بھون میں منعقد یوم انسداد نشہ پروگرام کا ویب کاسٹنگ کے توسط سے بہار کے تمام38اضلاع میں راست طور پر نشر کیا گیا ۔ اس سے قبل ادھیویشن بھون احاطہ میں شراب بندی سے متعلق نمائش کا وزیر اعلیٰ نے نقاب کشائی کی ۔پروگرام کو خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج یوم انسداد نشہ ہے اور 2011 سے ہی ہم لؤگ 26نومبر کو بہار میں یوم شراب بندی کے طور پر مناناشروع کیا ۔ ہم لوگ چاہتے تھے کہ لوگ شراب کا استعمال کم کریں ۔ اس کے لیے مسلسل سماجی مہم چلائی گئی ساتھ ہی شراب سے آزاد سماج بنا نے کی سمت میں لگے لوگوں کو ہم لوگوں نے انعام بھی دیاہے ۔انہوں نے کہا کہ 9جولائی 2015کو پٹنہ کے ک کرشن میموریل ہال میں خواتین کے ایک پروگرام کے دوران بہار میں شراب بندیی لاگو کر نے کا مطالبہ کیا گیا اور ہم لوگوں نے 2015 کے آخر میں ہی اس سمت میں کام شروع کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسی سال 26نومبر 2015 کو یوم شراب بندی کو ہم نے یکم اپریل 2016 سے بہار میں مرحلہ وار طریقہ سے شراب بندی لاگو کر نے کا اعلان کیا ۔ اس کے بعد مسلسل سماجی مہم چلائی گئی ، مہم کا نام بدل کر شراب بندی پہلے کیاگیا ، پالیسی میں تبدیلی کی گئی ، شراب نہیں پینے اور اس طرف دوسروں کو رغبت دینے کا عہد کیا گیا ، نعرے لکھے گئے اور جگہ جگہ پروگرام منعقد کیا گیا ۔1ایک کروڑ سے زیادہ بچوں کے سرپرستوں نے یکم اپریل 2016 سے بہار میں دیسی شراب پر پابندی لگائی گئی ۔لوگوں پر اس کا انتااثر ہوا کہ 4دنوں کے اندر ہی پورے بہار میں مکمل شراب بندی نافد کر نے کا اعلان کر ناپڑا ۔ 5اپریل 2016 سے بہار میں مکمل شراب بندی نافذ ہوئی ۔ اس کے بعد شراب بندی سے انسداد نشہ کے حق میں 21جنوری 2017 کو انسانی زنجیر بنائی گئی ، جس میں 4کروڑو لوگوں نے حصہ لیا جو بہار کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے ۔ یہ انسانی زنجیر دینا کے لیے نیا ریکارڈبنی ۔اس کے بعد اسی سال 21جنوری 2018 کو کمسن بچوں کی شادی اور جہیز رسم کے خلاف 14ہزار کیلو میٹر طویل انسانی زنجیر بنائی گئی ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سات عزائم منصوبہ پر کام ہو رہا ہے اور نشہ سے آزادی ،جہیر کی روایت اور کمسن کی شادی پر روک ہمارے عزائم کا حصہ ہے ۔ ہماری اپیل ہے کہ اس مہم کو کبھی بھی کند نہیں ہونے دیں ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صرف سرکاری مشنری اور قانون کے بھروسے ہمیں مکمل شراب بندی میں کامیابی نہیں ملے کی بلکہ اس کے لیے مسلسل سماجی مہم چلاکر لوگوں کو بیدار اور ہوشیار کر نا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ مکمل شراب بندی کے بعد بھی چوری چھپے چنددھندہ باز اور منفی ذہنیت کے لوگ چھوٹے بچوں کا استعمال کر کے شراب کی سپلائی میں لگے ہیں جن پر کارروائی ہو رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اڑیسہ سے آئے سینڈ آرٹسٹ جناب مانس کمار ساہو نے اپنے فن کے توسط سے لوگوں کو بیدار کر نے میں لگے ہیں یہ قابل ستائش ہے ۔ کلکاری بہار بال بھون کے بچوں کا میں شکریہ ادا کر تا ہوں جہوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں شراب بندی سے متعلق گیت پیش کیا ۔ شراب بندی آبکارییاور رجسٹری محکمہ کے اڈیشنل چیف سکریٹری جناب عامر سبحانی کو ہدایت دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ گاندھی جی کے کتھا واچن کی طرح تمام اسکولوں میں اس گیت کو سنوائیں تاکہ لوگ بیدار ہو سکیں ۔
شراب کے استعمال سے سماج اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں عالمی ہیلتھ تنظیم کی رپورٹ کے ایک جسٹ کا ذکر کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تحقیق کے مطابق سال 2016 میں پوری دنیا میں جتنی موت ہوئی ہے اس میں 5.3فیصد موت شراب کے استعمال سے ہوئی ہے۔ شراب کے سبب بوڑھوں کی بنسبت نوجوانوں کی موت کی شرح زیادہ ہے ۔شراب کے استعمال کر نے والے 20-39 عمر کے لوگوں کی موت کی شرح 13.5فیصد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی ، ایچ آئی وی اور شوگر سے ہونے والی موت کے مقابلہ میں شراب کے استعمال سے زیادہ موت ہو رہی ہے ۔عالمی ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کی رپورٹ کے مطابق شراب 200 سے زیادہ بیماریوں کو بڑھا تی ہے ۔ شراب کے استعمال سے کینسر ، اے ای ایس ، ٹی وی ، لیور ، دل کی بیماری ، دماغی بیماری ، والدین سے متعلق بیماریوں کے ساتھ ہی انسان تشدد کے رجحان کا شکار ہو جاتا ہے ۔ پوری دنیا میں جو خود کشی کے واقعات ہو رہے ہیں اس میں 18فیصد کے واقعات شراب کے سبب ہو رہے ہیں ۔ پوری دنیا میں 18 فیصد آپسی تنازعات میں موت ، 27 فیصد سڑک حادثات اور 13 فیصد مرگی کے سبب موت کے واقعات شراب کے سبب ہی ہو سکتے ہیں ۔شراب بندی محکمہ اور آئی جی پروبیشن ڈبلیو ایچ او کی ایفکٹیو رپورٹ کی ایک جسٹ بہار کے ایک ایک گائوں تک لوگوں کے درمیان پہنچا دیں تاکہ لوگ شراب استعمال سے ہو نے والی موت اور بیماریوں سے آگاہ ہوسکیں اور اپنے آس پڑوس کے لوگوں سے شراکت کریں ۔ جیویکا دیدیاں کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کو لوگو تک پہنچائیں کیونکہ انہی کی مانگ پر بہار میں شراب بندی لاگو کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں شراب بندی لاگو ہو نے کے بعد خانگی تشدد ، خواتین اذیت ، سڑک حادثات ، آپسی تنازع جیسے کئی معاملوں میں کمی آئی ہے ۔اس لیے لوگوں کو بھٹکنے نہیں دیجئے ۔ شراب بندی سے سب سے زیادہ غریب غربا کو فائدہ ہوا ہے اور پورے بہار میں امن و شانتی کا ماحول قائم ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ وکالت کر کے لوگوں کو بھٹکانے میں لگے ہیں جسے جانکر ہمیں تعجب ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شراب بندی محکمہ کا دودن پہلے ہی ہم نے جائزہ میٹنگ کر کے کہا ہے کہ شراب کے غیر قانونی دھندے میں لگے لوگ کہا ں اور کتنے اور کیسے پکڑ ے جارہے ہیں اسکا جائزہ لیجئے۔انہوں نے کہا کہ جائزہ کے دوران ہدایت دیاتھا کہ ڈرائیور ، خلاصی سے لے کر سپلائی کر نے والے لوگوں تک کو پکڑئے ۔انہوں نے کہا کہ آئی جی پروبیشن مشنرن ڈیولپ کرتقریبا ڈیڑھ سو ملازمین کی تعینانی بھی کی گئی ہے،یومیہ اچھی خاصی تعداد میں شکایتیں درج ہورہی ہیں اور فوری کارروائی بھی کی جارہی ہے ۔ آئی جی پروبیشن کو اتنی طاقت دے دی گئی ہے کہ کہ اگر کسی بھی تھانہ کی ذریعہ معاملہ کی انکوائری صحیح طریقہ سے نہیں ہو رہی ہے تو اس معاملہ کو وہ خود اپنے ہاتھ میں لے کر کارروائی کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بہار کے ہر گھر میں اس سال 25اکتوبر تک بجلی پہنچادی گئی ہے اور گائوں میں بجلی کے پول پر ایک ٹیلی فون نمبر بھی لکھاگیاہے جس کے توسط سے شراب کے غیر قانونی دھندہ میں لگے لوگوں کی اطلاع کوئی بھی شخص دے سکتا ہے اطلاع دینے والے کا نام خفیہ رکھا جائیگا اور جو کارروائی ہوگی اس بارے میں شکایت کنندہ سے یہ پوچھا بھی جائے گا کہ وہ مطمئن ہیں یانہیں ۔
شراب بندی ، آبکاری اور رجسٹری محکمہ کے اڈیشنل چیف سکریٹری جناب عامر سبحانی کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک ایک چیز پر پینی نگاہ رکھئے اور اگر کوئی اعلیٰ افسر بھی گڑبڑی کر رہا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کر تے ہوئے نوکری سے برخاست کر نے کے ساتھ ہی جیل میں بھیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ شراب کا غیر قانونی دھندہ کر نے والا شان سے نہیں بلکہ سرجھکا کر چلے گا اور لوگ اس پر تھوتھوکریں گے ۔ بہار میں شراب بندی لاگو ہو نے کے بعد پورے ملک میں ایسی حالت آگئی ہے کہ شراب سے 18سے20ہزارکروڑروپے کی آمدنی ہو تی ہے اس کے باوجود جب کروناندھی زندہ تھے تو ہ کہتے تھے کہ اگر بہار میں نتیش کمار شراب بندی لاگو کر سکتے ہیں تو پھر تمل ناڈو میں ہم کیوں نہیں کر سکتے ۔کیرل میںعیسائی فرقہ کے لوگوں نے ہمیں بلا یا اور ہم نے انہیں بتا یا کہ شراب بندی سے بہار آنے والے سیاحوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ شراب بندی کے بعد بہی3کروڑسے زیادہ سیاح بہار آئے ہیں اور10لاگھ سے زیادہ سیاح بہار آمد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سال 1000کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا لیکن اس کے بعد کوئی فکر نہیں رہی ۔اقتصاحی صورت حال کا تخمینہ صرف سرکار کے خزانہ سرنہیں بلکہ لوگوں کی اقتصادی حالت سے بھی لگا یا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹیو پرنسپل اور سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ واضح کر دیتا ہے کہ شراب کا استعمال کوئی بنیادی حق نہیں ہے ۔
لوگوں سے اپیل کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جون مضبوط مہم چل رہی ہے اسے مسلسل بنائے رکھیں ۔ کیونکہ جو دھندے بازوں کے ایجنٹ ہیں وہ لوگوں کے درمیان بھرم پھیلانے میں لگے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کونے کونے سے شراب بندی کی آواز بلند ہو نے لگی ہے ۔ اس لیے شراب کے دھند میں لگے لوگ پریشان ہیں ۔ کہ کہیں بہار والا پورے ملک میں لاگو نہ ہو جائے ۔انہوں نے کہا کہ انصاف کے ساتھ ترقی کے تئیں ہمارا عہدہے اس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے لیکن جب تک کمسنی میں شادی اور جہیز جیسی سماجی برائی سے سماج کو آزادی نہیں ملے گی تب تک ترقی کاپورا فائدہ نہیں ملے گا ۔ ہمارا نشانہ ہے انصاف کے ساتھ ساتھ ترقی کے منصوبوں پر عمل درآمد کیساتھ ساتھ سماج سدھا ر کا کام کر نا ۔ بہار کو شراب بندی سے نشہ سے آزادی کی طرف لے جانے کیلیے ہم پابند عہد ہیں ۔
پروگرام کو نائب وزیر اعلیٰ جناب سشل کمار مودی ، شراب بندی ،آبکاری ،اور رجسٹری محکمہ کے وزیر وبجندر پرساد یادو، چیف سکریٹری دیپک کمار ، شراب بندی محکمہ کے اڈیشنل چیف سیکریٹری جناب عامر سبحانی نے بھی خطاب کیا ۔
اس م وقع پر ممبر اسمبلی جناب گیانندر سنگھ گیانو، اقتصادی جرائم یونٹ کے اے ڈی جی پی جناب جیتندر سنگھ گنگوار ، اے ڈی جی پی سی آئی ڈی جناب ونئے کمار ، نگرانی کے اے ڈی جی پی جناب سنل کمار ، آئی جی پروبیشن جناب رتن سنجے ، وزیر اعلیٰ کے سیکریٹری جناب منیش کمارورما ، آبکاری کمشنر جناب آدتیہ کمار داس سمیت دیگر کئی سینئر افسران ، شراب بندی ،آبکاری ،رجسٹری محکمہ کے افسران اور ملازمین ، عوامی تعلیمی ڈائریکٹوریٹ کے افسران ، جیویکا کی دیدیاں اور کلکاری بہار بال بھون کے بچے موجود تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close