متھلانچل

شراب کے نام پر جیلوں میں بندلاکھوں کی رہائی کیلئے دھرنا

دربھنگہ :انتظامیہ کے تحفظ میں پھل پھول رہے شراب کارو بار اور شراب مافیاؤں پر نکیل کسنے ، شراب بندی قانون کے تحت جیلو ںمیں بند ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ دلت ، غریب لوگوں کو رہاکرنے اور مناسب معاوضہ دینے سمیت دیگر مطالبات کی حمایت میں آج بھاکپا مالے ضلع کمیٹی کے زیر اہتمام پولو میدان دھرنا گاہ پر مہانگر سکریٹری صدیق بھارتی کی صدارت میں منعقد نشست سے خطاب کرتے ہوئے بھاکپا ضلع سکریٹری بیدناتھ یادو نے کہا کہ بہار کے عوام کی لمبی تحریک کے بعد بہار میں شراب بندی قانون نافذ ہوا تھا اور بھاکپا مالے نے کئی نکات کو کالے قانون کا نام دیا تھا آج ان کالے قانون کا اثر سماج میں بڑے پیمانہ پر دکھ رہا ہے ۔ یہ قانون شراب بندی کے بجائے غریب ، دلت اور کمزوروں پر ظلم و زیادتی کا ذریعہ بن گیا ہے ۔ تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگ بہار کے مختلف جیلو ںمیں بند ہیں اور جانوروں جیسی زندگی جینے کو مجبور ہیں ۔ قتل عام کے معاملے میں برسوں برس تک انصاف کا انتظار کرنے کے بعد بھی انصاف نہیں ملااور شراب بندی قانون کے تحت انہیں سزا یافتہ قرارد دے دیا گیا ۔ اتنی فوری کاروائی شاید ہی کسی معاملے میں ہو ئی ہو ۔ دوسری طرف سیاسی لیڈر ان پولیس کے تحفظ میں شراب مافیاشراب کے کارو بار کو انجام دے رہے ہیں ۔ دوس سالو ںمیں شاید ہی کسی شراب مافیاپر کوئی کاروائی ہوئی ہو ۔ شراب کی فیکٹریاں بھی پہلے کی طرح چالو ہیں ۔ بھاکپالیڈر آر کے سہنی نے کہا کہ شراب بندی قانون کی چوطرفہ مذمت کے بعد اس میں معمولی ترمیم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شراب بندی قانون کے تحت جیل میں بند ڈیڑھ لاکھ لوگو ںکو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔ بے روزگار نوجوانوں کیلئے روزگار کا نظم کیا جائے ۔ 2019انتخاب میں نتیش مودی حکومت کو سبق سکھایا جائے گا ۔ دھرنا میں بھاکپا مالے ضلع کمیٹی رکن اودھیش سنگھ ، پپو پاسوان ،للن پاسوان ، پرنس کرن ، بیدناتھ یادو ، دسمبر پاسوان وغیرہ موجود تھے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close