پٹنہ

شریف قریشی کا شعری مجموعہ ’’بیتے ہوئے لمحے‘‘ کی رسم اجرا

پٹنہ :معروف ملی و سماجی رہنما الحاج محمد شریف قریشی کے شعری مجموعہ ’’بیتے ہوئے لمحے‘‘ کا آج مقامی اردو بھون میںمنعقدہ ایک تقریب میں اجراء عمل میں آیا ۔اس موقع پر دانشوروں اور ملی رہنمائوں نے شریف قریشی کے اس گراں قدر خدمات کےلیےانہیں خراج تحسین پیش کیا۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے بہار قانون ساز کونسل کے سابق نائب چیر مین اور ملی وسماجی رہنما ،اردو شعر گوئی اور شعر فہمی کا اعلیٰ ذوق رکھنے والے سلیم پرویز نے شرکت کی۔جلسہ کی صدارت معروف ماہر تعلیم اور روز نامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر محمد گوہر نے کی۔اس موقع پر مہمانان اعزازی کی حیثیت سے روز نامہ راشٹریہ سہارا کے ایڈیٹر ڈاکٹر سید شہباز ،روز نامہ خبریں دہلی کےایڈیٹر قاسم سید شریک جلسہ ہوئے۔مہمان ذی وقار کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو پٹنہ کے پروگرام اکزکیوٹیو شنکر کیموری ،سابق رکن کونسل ڈاکٹر اسلم آزاد ،سابق ضلع وسیشن جج اکبر رضا جمشید جلوہ افروز تھے۔جلسہ کی نظامت معروف صحافی ومصنف اشرف استھانوی نے انجام دیا۔پروگرام کاآغاز حافظ قاری مسعود احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعد ازاں شنکر کیموری نے بارگاہ رسالت مآب ؐ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے اردو کی عظمت پر ایک خوبصورت نظم بھی پیش کی۔
اشرف استھانوی نے کتاب کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’بیتے ہوئے لمحے‘ الحاج محمد شریف قریشی کا شعری مجموعہ ہے ۔جس میں حمد ،نعت،غزل،نظم اور قطعات جیسے کئی اصناف پر انہوں نے طبع ازمائی کی ہے۔لیکن کتاب میں نظموں کا بڑا حصہ شامل اشاعت ہے۔جن میں نوٹ بندی ،رشوت ،مسلمان ،اردو ،بھجن پورا سانحہ،پیارا بہار اور ملک کے گدار اہمیت کی حامل چیزیں ہیں۔جس میں انہوں نے اپنے جذبات اورا حساسات کا موثر اظہار کیا ہے۔اشرف استھانوی نے کہا کہ الحاج محمد شریف قریشی شش جہات شخصیت کے مالک ہیں ۔وہ اس سے قبل ایک قلمکار کے حیثیت سے مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا نثری اظہار پہلے کر چکےہیں اور اب شعری پیرائے میں اپنی باتیں رکھی ہیں ۔
بہار قانون ساز کونسل کے سابق نائب چیر مین محمد سلیم پرویز نے کتاب کی اجراء کے لیے شریف قریشی کو دلی مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ شریف قریشی صاحب کو میں عرصے سے جانتا ہوں ۔ان کی کتاب’بیتے ہوئے لمحے ‘میں انہوں نے اپنے درد وکرب کا اظہار برملا کیا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ملک کی موجودہ مکدر فضاء میں ہم مسلمانوں کو مسلکی نظریاتی اور ذات پات کے اختلاف کو ترک کرنا ہی ہوگا۔ملی اتحاد وقت کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے نتیش حکومت پر دغابازی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے اپنا صد فیصد ووٹ انہیں دیا لیکن انہوں نے اس کا پاس و لحاظ مطلق نہیں رکھابلکہ فرقہ پرست طاقتوں سے ہاتھ ملالیا۔جو ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ سکیولر پارٹی کی ٹکٹ پر لوک سبھا انتخاب میں اپنی قسمت آزمائیں گے۔انہوں نے لوگوں سے دعاء کی درخواست بھی کی۔
بہار قانون ساز کونسل کے سابق رکن اور اردو کے نامور اسکالر ڈاکٹر اسلم آزاد نے کہا کہ محمد شریف قریشی اسم با مسمی ہیں ۔ان کی نئی تصنیف کی میں پذیرائی کرتا ہوں۔انہوں نے کہا ک نتیش حکومت میں اقلیتوں کے مفادات محفوظ ہیں کچھ مصلحت کے پیش نظر انہوں نے بی جے پی سے سمجھوتا ضرور کیا ہے۔لیکن وہ ملک کی چند گنے چنے ہوئے سیکولرلیڈروں میں ہیں ۔
صدارتی خطاب میں روز نامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر محمد گوہر نے کتاب کی اشاعت کے لیے محمد شریف قریشی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان وادب کی آبیاری میں آپ گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ہمیشہ وسیع النظر رہیں ۔آپ ہمیشہ مثبت سونچ رکھیں ۔ایمانداری ،دیانت داری سے کام کریں ۔انشاء اللہ آپ ہر شعبہ حیات میں کامیاب ہوں گے۔انہوں نے اپنے ملک عزیز سے بے پناہ محبت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کثرت میں وحدت اس ملک کی شان ہے۔ہم تمام لوگوں کو ملک کی تعمیر وترقی کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی اور خیر سگالی کے قیام میں اپنا تعاون پیش کرنا چاہیے۔کتاب کے مصنف الحاج محمدشریف قریشی نے کتاب کے سلسلے میں اپنا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے آئے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں شعری نشست کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں ریاست کے اہم شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعہ ریاست وملک کے حالات پر روشنی ڈالی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close