ادبی رسائلجھارکھنڈہندوستان

ششماہی ریسرچ جرنل دستک کا اجرا اور مذاکرہ

دستک ایک معیاری اور حوالہ جات جرنل ہے جس کے مضامین ذہن سازی کا حکم رکھتے ہیں…پروفیسر احمد سجاد

رانچی:جامعاتی سطح پر نکلنے والے رسائل میں شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی سے شائع ہونے والا ششماہی ریسرچ جرنل دستک نے علمی و ادبی حلقے میں اپنے پہلے شمارے سے ایک نئی پیش رفت کی ہے اور علاحدہ شناخت قائم کی ہے .یہ ہمارے لئے خوشی اور باعث افتخار ہے کہ اس کے مدیر ڈاکٹر افتاب احمد افاقی ہیں جو ہمارے عزیز شاگرد اور شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی کے ایک ذہین اور تعمیری فکر رکھنے والے طالب علم رہے ہیں .اس رسالے کی ترتیب و تنظیم اور مشمولات ان کے ادبی ,فکری اور تنظیمی صلاحیتوں کی ترجمان ہے .بلا شبہ اس رسالے  میں طلبا ,اساتذہ اور سنجیدہ قاری کےلئے وافر مواد،معیاری مقالات و مضامین کی شکل میں موجود ہیں. اس کا اداریہ اور مضامین نئے اذہان کی ذہن سازی کا حکم رکھتے ہیں. 

متذکرہ خیالات کا اظہار ریسرچ جرنل دستک کے رسم  اجرا کی تقریب میں مہمان خصوصی پروفیسر احمد سجاد نے کیا ,انھوں نے مزید فرمایا کہ تازہ شمارہ جو قاضی عبدالودود پر مشتمل ہے وہ یقینا قاضی صاحب کی شخصیت اور تحقیقی خدمات کی افہام و تفہیم میں معاون ثابت ہوگا.ڈاکٹر منظر حسین نے رسالے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ اس لحاظ سے قابل قدر ہے کہ اس کے مشمولات میں تحقیقی و تنقیدی مضامین اور گوشے بے حد معیاری ہیں اس میں نظری و عملی مضامین نئ نسل میں شعرو ادب کی تحقیق اور تنقید کاشعور اور نئی فکر کے دروازے وا کرتے ہیں .ڈاکٹر جمشید قمر نے دستک کو اہم رسالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے محتویات کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ رسالہ عصری تقاضوں اور کلاسیکی ادب فہمی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے ایک ایسے وقت میں جب شعبوں میں تحقیق پر توجہ کم دی جا رہی ہے یہ رسالہ تحقیق و تنقید کے مبادیات اور اطلاقی پہلو پر ہماری توجہ مبذول کراتا ہے ہمار ے طلبا اس سے خاطر خواہ مستفید ہوں گے.پروفیسر ابوذرعثمانی نے اداریے کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ زبان کے تحفظ اور فروغ کے تعلق سے بنیادی سوال قائم کئے گئے ہیں یہ درست ہے کہ زبان کے تحفظ کا مسئلہ اردو تعلیم سے وابستہ ہے اس کے پھیلاو اور اردو کے حقوق کی بحالی سے ہے ,مدیر کایہ سوال کہ اردو نے ہم کو سب کچھ دیا لیکن ہم نے اردو کو کیا دیا واقعی احتساب کی دعوت دیتا ہے.اس موقع پر شیاماپرشاد مکرجی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد ایوب نے دستک کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ ہمارے ذہن کو علمی معلومات سے کشادگی عطا کرتا ہے اور علمی و ادبی معلومات سے ذہن کو روشن و منور کرتا ہے .رسالہ کے مدیر صدر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی ڈاکٹر افتاب احمد افاقی نے دستک کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد اردو طلبا میں اد ب کی جوت جگانا،ان میں شعر فہمی اور ادب فہمی کا شعور پیدا کرنا ہے.نئ نسل کو اپنی مادری زبان کی عظمت اور شعروادب سے دلچسپی نیز تحقیقی و تنقید ی ذہن کو صیقل کرکے ایک ذمہ دار ادیب بنانا ہے ایک ایسی نسل تیار کرنا ہمارا مقصد ہے جو اردو شعرو ادب کے پہلو بہ پہلو زبان کے ترویج و اشاعت کی ذمہ داری قبول کریے.اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر شہناز رعنا نے فرمایا کہ اس رسالے کے اجرا اور مزاکرہ کا موقع فراہم کرنے پر ہم ممنون و مشکور ہیں ,جس میں  ہونے والی علمی و ادبی گفتگو سے ہمارے ریسرچ اسکار اور ظلبا و طالبات فیضیاب ہوئے .اس مزاکرے میں ڈاکٹر شمیم احمد اور ڈاکٹر کہکشاں پروین نے بی نیک خواہشات کا اظہار کیا .اس موقع پر بڑی تعداد میں علم دوست اور طلبا و طالبات شریک ہوئے .نظامت کے فرئض ڈاکٹر منظر حسین نے اور اظہار تشکر کی رسم شہناذ رعنا صدر شعبہ اردو  رانچی یونیورسٹی رانچی نے ادا کی۔

 
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close