جمو ں وکشمیرہندوستان

شہری ہلاکتوں سے لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہورہا ہے: فاروق عبداللہ

سری نگر:نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت سے لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ جیسے واقعات سے کشمیریوں کے دل مجروح ہورہے ہیں اور سیکورٹی فورسز و پولیس کو ایسے واقعات ٹالنے کے لئے احتجاجی مظاہرین پر گولیوں کی بجائے پانی کی بوچھاریں یا آنسو گیس کے گولے استعمال کرنا چاہیے۔
فاروق عبداللہ نے گورنر یا صدر راج کو آمرانہ راج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ریاست میں انتخابات چاہتے ہیں تاکہ ایک عوامی منتخب حکومت معرض وجود میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ گورنر ایسے کوئی اقدامات نہیں اٹھائیں گے جس سے جمہوریت کو دھچکا پہنچے۔فاروق عبداللہ بدھ کے روز یہاں اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک تقریب جس میں پی ڈی پی کے دو سینئر ترین لیڈران اور سابق وزراءسید بشارت بخاری اور پیر محمد حسین نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرلی، کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا ‘ابھی آپ نے دیکھا کہ پلوامہ میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا۔ اس میں بے گناہ شہری مارے گئے اور خون ناحق بہہ گیا۔ فوج کو پانی کی بوچھاریں استعمال کرنی چاہیں۔ آنسو گیس کے شیل استعمال کرنے چاہیے۔ مگر عوام پر گولیاں نہیں چلانی چاہیں۔ گولیوں سے انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ ایسے واقعات سے ہمارے دل مجروح ہوجاتے ہیں۔ اور لوگوں میں آزادی کا ولولہ پیدا ہورہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ فوج اور پولیس ایسی کاروائیاں آگے نہیں کریں گے۔
میں توقع کرتا ہوں کہ مرکزی حکومت اور گورنر صاحب س جانب توجہ دیں گے’۔
فاروق عبداللہ نے گورنر یا صدر راج کو آمرانہ راج قرار دیتے ہوئے کہا ‘ہم امید کرتے ہیں کہ صدر راج جلد ختم ہو اور انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔ ہم لوگ انتخابات چاہتے ہیں۔ لوگوں کی حکومت آئے گی۔ لوگ پسند کریں گے کہ کس کو آنا ہے اور کس کو نہیں آنا ہے۔ یہ تو آمرانہ نظام حکومت ہے۔ گورنر راج لوگوں کی حکمرانی نہیں ہے۔ یہ ایک آمرانہ نظام ہوتا ہے۔ جس وہ جو وہ چاہیں کرسکتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے جمہوریت کو دھچکا پہنچے گا’۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مرکز میں ایک ایسی حکومت معرض وجود میں آئے گی جو مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پہل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا ‘ہم لوگ انسان ہیں۔ انسان سے غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ مگر انسان سیکھتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ملک میں ایسی حکومت بنے گی جو انسان دوست ہوگی۔ ایسی حکومت بنے جو مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرے گی’۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close