دہلیہندوستان

شیلٹر ہوم معاملے میں سپریم کورٹ کا سپریم فیصلہ

سبھی 17 معاملے سی بی آئی کے سپرد،ریاستی حکومت کو جانچ میں شامل بیورو کے افسران کو سبھی سہولیات مہیاکرانے اور متعلقہ افسران کا تبادلہ نہ کرنے کی ہدایت

نئی دہلی: بہار کےسبھی 17 شیلٹر ہوم میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق معاملات کی تفتیش اب سی بی آئی کرے گی۔بدھ کو سپریم کورٹ نے یہ حکم جاری کیا۔ مظفر پور شیلٹر ہوم کیس کی تحقیقات سی بی آئی پہلے ہی کر رہی ہے۔ باقی معاملات میں بہار پولیس کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئےجسٹس مدن بی لوکر کی صدارت والی بنچ نے یہ حکم دیا۔ اس تعلق سے گزشتہ سماعتوں میں عدالت عظمیٰ نے کئی بار نتیش حکومت کو پھٹکار لگائی اور جانچ میں تیزی لانے کے لیے کہا لیکن ریاستی حکومت اور پولس انتظامیہ دونوں کی جانب سے کارروائی میں تاخیر کی گئی جس سے لوگوں نے نتیش حکومت پر کیس کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے بھی اس معاملے میں لگاتار نتیش حکومت پر حملے کیے گئے۔28 نومبر کو اس سلسلے میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بہار حکومت کی اس اپیل کو خارج کر دیا کہ شیلٹر ہوم سے متعلق سبھی معاملوں کی جانچ سی بی آئی سے نہ کرائی جائے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم صادر کر دیا ہے کہ جانچ کے دوران کسی بھی جانچ افسر کا تبادلہ کسی دوسری جگہ نہ کرایا جائے۔اور جانچ کررہے افسران کو تمام ضروری سہولیات مہیا کرائی جائیں۔ 27 نومبر کو نتیش حکومت کو زبردست پھٹکار لگانے والی عدالت نے 28 نومبر کو بھی سخت رخ اختیار کرتے ہوئے بہار پولس کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ پولس اپنا کام ذمہ داری کے ساتھ نہیں کر رہی ہے جو افسوسناک ہے۔ سی بی آئی سے جانچ نہ کرائے جانے کی نتیش حکومت کی اپیل پر سپریم کورٹ نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ اگر بہار پولس نے ان معاملوں کی تحقیقات ذمہ داری کے ساتھ کی ہوتی تو سی بی آئی جانچ کی نوبت ہی نہیں آتی۔سی بی آئی سبھی معاملوں کی جانچ کے لیے تیار ہے اور اب وہی سبھی معاملوں کی جانچ کرے گی۔قابل ذکر ہے کہ مظفر پور شیلٹر ہوم معاملے میں ریاستی حکومت کی منگل کے روز بھی زبردست سرزنش ہوئی تھی اور صحیح طریقے سے ایف آئی آر درج نہ کرنے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ نتیش حکومت کے رویہ کو عدالت نے غیر انسانی اور غیر اخلاقی بتایا تھا۔ کورٹ نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایف آئی آر میں جنسی استحصال اور مالی بے ضابطگی کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر میں نئے دفعات جوڑیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close