بہارسیاست

شیلٹر ہوم کی نگرانی این جی او نہیں حکومت کرے گی:نتیش

وزیراعلیٰ نے کہا؛قصوروار وزیر ہویا کوئی اور بخشا نہیں جائے گا،اپوزیشن کو دیا کرارا جواب

پٹنہ: مظفر پور گرلس شیلٹرہوم میں بچیوں کی عصمت دری کے واقعے سے سبق لیتے ہوئے حکومت نے بچوں سے متعلق تمام اصلاحی گھروں کی نگرانی خود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے آج اپنی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد ‘لوک سنوادپروگرام کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ریاست میں بچوں سے متعلق تمام اصلاحی گھروں کی نگرانی کسی بھی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے ذریعے نہیں کرائی جائے گی۔ ریاستی حکومت ایسے اصلاحی گھروں یا شلٹر ہوم کی نگرانی خود کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے چیف سکریٹری کو اس سلسلے میں اسکیم بنانے اور جلد سے جلد لڑکے-لڑکیوں کیلئے شیلٹرہوم تعمیرکرانے اور ضروری ملازمین کے تقررکی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مظفر پور شیلٹرہوم کی بچیوں کے لئے فوری طور پرکوئی الگ مکان کا بندوبست کرائیں تاکہ انہیں جلد سے جلد وہاں رکھا جا سکے۔وزیر اعلی نے کہا کہ مظفر پور معاملے پر کچھ لوگ نصیحت تو بہت کرتے ہیں لیکن نصیحت کرنے والے یہ بھی بتا دیں کہ پورے ملک میں ایسے گھروں کی کیا صورت حال ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ اس معاملے میں جو بھی قصوروار پایا جائے گاخواہ وہ وزیر ہویاکوئی اور، اسے بخشا نہیں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ہدایت پر غیرسرکاری تنظیموں(این جی اوز) کا سوشل آڈیٹنگ کرنے والے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس (ٹی آئی ايس ایس) کی رپورٹ سے مظفر پور کےگرلس شیلٹرہوم میں آبروریزی کا انکشاف ہوا۔ اس سے پہلے حکومت کو اس بارے میں کسی نے کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔حکومت نےاطلاع ملتے ہی کارروائی کی۔ اس معاملے میں بہار پولیس اچھا کام کر رہی تھی لیکن کسی طرح کے شکوک وشبہات نہ رہیں اس لئے اس کی جانچ مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) سے کرانے کی سفارش کی گئی۔ ساتھ ہی حکومت نے ہائی کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ مظفر پور گرلس شیلٹرہوم کی نگرانی کے لئے سماجی بہبود محکمہ کے جو بھی افسر ذمہ دار تھے، انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔انہوں نے سماجی بہبودکی وزیر منجو ورما کے استعفی کے سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ اس معاملے میں جوبھی وزیر ذمہ دار ہوگا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ لیکن اس معاملے میں وزیر منجو ورما سے انہوں نے پہلے ہی دن وضاحت طلب کی تھی۔ اس پر منجو ورما نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کےرول سے انکار کیا تھا۔انہوں نے مظفر پور کے واقعہ کے 72 دن بعد ہفتے کو دہلی میں ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے دھرنےکے سلسلے میں پوچھے جانے پر کہا کہ کیا کوئی ایسے مسائل پر ہنستےہوئےدھرنا دیتا ہے اور کیا یہ دھرنا ان کے لئے (بچیوں کی حفاظت کے لئے) ہو رہا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ دھرنا کیوں دیا جا رہا تھا۔ ایسے دھرنوں میں کیا کوئی مسکراتےہوئے موم بتی جلاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close