پٹنہ

صدمے میں ہیں برخاست خواتین سپاہی، انصاف کی آس میں خواتین کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا

پٹنہ :خواتین سپاہیوں نے انصاف کی آس میں بہار ریاست خواتین کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔واضح رہے کہ پولیس لائن میں ہوئے ہنگامہ کے بعد 32 خواتین سپاہیوں کو برخاست کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اپنے اوپر کارروائی کو لے کر ہی جمعرات کو خواتین سپاہی ریاست خواتین کمیشن کی دفتر پہنچی اور اپنے ساتھ ہوئے امتیاز اور برے برتاؤ کی شکایت کمیشن کی صدر دلمنی دیوی سے کیں۔خواتین سپاہیوں نے کہا کہ ہمیں بڑے افسر اکیلے میں بلاتے تھے۔ ان لوگوں نے برطرفی کو غلط بتایا ہے۔ ان کی شکایت کو سنجیدگی سے سننے کے بعد کمیشن کی صدر نے انصاف کا بھروسہ دلایا ہے۔ ریاست خواتین کمیشن کی صدر دلمنی دیوی نے بتایا کہ DGP سے رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر جلد ہی میٹنگ بلائی جائے گی۔ریاست خواتین کمیشن کی رکن اوشا ودیارتھی نے کہا کہ خواتین کانسٹیبل کے ساتھ سخت کارروائی کر دی گئی ہے۔ ‘کسی کانسٹیبل نے سوسائڈ کر لیا تو کون ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سپاہیوں نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی کہ ان سخت سزا دی جائے۔واضح رہے کہ خاتون سپاہی کی موت کے بعد پولیس لائن میں ہوئے ہنگامہ معاملے میں حکومت نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 175 پولیس اہلکاروں کو سروس سے برطرف کر دیا۔ 167 نئے اور 8 پرانے سپاہیوں کو برخاست کیا گیا۔ساتھ ہی 23 پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کیا گیا۔ ان میں 1 حولدار اور 2 سپاہی ایسے شامل ہیں جنہیں ڈسپلن برقرار رکھنے کا ذمہ دیا گیا تھا۔سویتا پاٹھک کو چھٹی نہیں دینے پر تین پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا گیا۔ بتا دیں کہ دارالحکومت پٹنہ کے لودی پور میں جمعہ کو ہوئے سپاہی ہنگامہ کے معاملے میں بدھاکالونی تھانہ میں دو ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔پٹنہ کی سڑکوں پر 9 نومبر کوزبردست ننگا ناچ دیکھنے کو ملا تھا۔ خاتون پولیس اہلکار کی موت کے بعدمشتعل خواتین اور مردٹرینی سپاہیوں نے پٹنہ کے پولیس لائن کے اندر اور باہر سڑکوں پر ایس پی اور ڈی ایس پی دوڑا دوڑا کر پیٹا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close