بین الاقوامی

صومالیہ: دھماکے میں سکول کی عمارت منہدم

موغادیشو:صومالی پولیس کے مطابق ایک خودکش بمبار نے دارالحکومت موغادیشو میں ایک سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں قریب واقع سکول کی عمارت تباہ ہو گئی ہے۔بی بی سی صومالی سروس کے مطابق ہولواڈاگ ڈسٹرکٹ میں ہونے والے کار بم حملے میں تین سپاہی ہلاک جبکہ 14 زخمی ہو گئے ہیں۔دھماکے کے نتیجے میں قریبی گھروں اور مسجد کی چھت بھی اڑ گئی ہے۔ شدت پسند گروہ الشباب نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ گروہ گذشتہ 10 برس سے اس قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔مقامی افسر صالح حسن عمر کا کہنا ہے کہ تین سپاہی اس وقت ہلاک ہوئے جب انھوں نے سرکاری دفتر کے اندر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو داخل ہونے سے روکا۔رقیہ محمد علی کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت کمپاؤنڈ میں معمول کا کام سرانجام دے رہے تھے جب دھماکہ ہوا۔خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں ٹیبل کے نیچے چھپ گئی۔ ہمارے دفتر کے گیٹ پر بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی تھی۔ جب میں باہر نکلی تو میں نے بہت سے لوگوں کو زخمی حالت میں دیکھا اور دیگر کی لاشیں دیکھیں۔‘صومالیہ سنہ 1991 میں فوجی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد سے اب تک تشدد اور عدم استحکام کا سامنا کر رہا ہے۔ملک کا زیادہ تر علاقہ جنگ زدہ قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی مدد سے سنہ 2012 میں یہاں اتحادی حکومت بنائی گئی تھی۔ تب سے الشباب کو بہت سے شہری علاقوں سے نکالا گیا تھا تاہم اب بھی وہ بہت سے دیہی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور گن اور بمبوں کے ذریعے فوجی اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بناتی ہے۔یہ شدت پسند گروہ سخت شرعی قوانین کو لاگو کرتا ہے جن میں عورتوں کو سنگسار اور چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹے جانے بھی شامل ہیں۔صومالیہ میں گذشتہ برس اکتوبر میں ایک ٹرک حملے کے نتیجے میں 500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ الشاب سے منسلک اس حملے کے ذمہ دار شخص کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close