سیاست

ضرورت پڑی تو رام مندر کے لیے 1992 جیسا بھی آندولن کریں گے:آر ایس ایس لیڈر

نئی دہلی: ممبئی میں چل رہے آر ایس ایس کے 3 روزہ شیور کے اختتام کے موقع پرتنظیم کے جنرل سکریٹری بھیا جی جوشی نے کہا ہے کہ رام مندر کو لے کر ضرورت پڑی تو 1992 جیسا آندولن کریں گے۔خبر رساں اے این آئی کے مطابق؛ انھوں نے کہا کہ اس مدعے پر آرڈیننس جن کو مانگنا ہے وہ مانگیں گے، لا سکتے ہیں یا نہیں یہ فیصلہ سرکار کو کرنا ہے۔ آر ایس ایس رہنما نے سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر جلد شنوائی کی جائے۔ آر ایس ایس لیڈر نے کہا کہ شنوائی کے دوران سپریم کورٹ کے ذریعے یہ کہے جانے پر کہ ہماری پرائرٹی الگ ہے، اس سے ہندو سماج بے عزت محسوس کر رہا ہے۔
جوشی نے مزید کہا کہ رام سب کے دل میں رہتے ہیں لیکن وہ ظاہر ہوتے ہیں مندروں کے ذریعے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مندر بنے۔ انھوں نے کہا،’ کام میں کچھ رکاوٹیں ضرور ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ کورٹ ہندوؤں کے جذبات کو سمجھ کر فیصلہ کرے گی۔’ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ دیوالی سے پہلے کوئی اچھی خبر مل جائے لیکن سپریم کورٹ نے شنوائی غیر متعینہ مدت تک کے لیے ٹال دی ہے۔ رام مندر پر انتظار لمبا ہوتا جا رہا ہے۔ رام مندر سبھی کی بھاونا ہے۔’
شیور کے آخری دن بی جے پی صدر امت شاہ بھی آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت سے ملنے پہنچے ۔ یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب آر ایس ایس کی طرف سے مانگ کی گئی ہے کہ سرکار اس مدعے پر آرڈیننس لائے۔ وہیں بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی راکیش سنہا پارلیامنٹ کے ونٹر سیشن میں پرائیوٹ بل لانے کا اعلان کر رہے ہیں۔
غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نے سوموار کو ایودھیا معاملے کی شنوائی پر کہا تھاکہ وہ جنوری 2019 میں اس معاملے کی شنوائی کی تاریخ طے کرے گا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس اے کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف اس معاملے کی شنوائی کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ رام جنم بھومی – بابری مسجد زمین تنازعہ معاملے میں دائر اپیلوں کو جنوری 2019 میں ایک مناسب بنچ کے سامنے سماعت کے لیے رکھا جائے گا۔ زمین تنازعہ معاملے میں یہ اپیل الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے۔ مناسب بنچ اس معاملے میں اپیل پر شنوائی کی تاریخ طے کرے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close