بہارپٹنہ

ضلع اردو فروغ منصوبہ کے تحت باقی ماندہ پروگرام کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے

پٹنہ: ریاست کی دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے اردو کے خاطر خواہ نفاذو فروغ کے لئے ریاست کے تمام اضلاع کے ساتھ ساتھ سب ڈویزن اور بلاک دفاتر میں مامور اردو عملہ کی صلاحیت سازی کے لئے ریاست گیر اردو عمل گاہ منعقد کیا گیا۔یہ عمل گاہ اردو ڈائرکٹوریٹ ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ حکومت بہار کے زیر اہتمام بیلی روڈ واقع بہار ابھیلیکھ بھون کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔عمل گاہ میں شریک اردو عملہ سے خطاب کرنے سے قبل تمام اضلاع سے مطلوبہ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور ضلع وار رپورٹ کا جائزہ پیش کیا گیا۔ جائزہ کے دوران یہ پایا گیا کہ تمام اس عمل گاہ میں ریاست کے تمام 38 اضلاع کے منتخب اردو عملہ شریک ہوئے۔38 ضلع میں سے 26 اضلاع نے بہت ہی بہتر کام کیا ہے اور 12 اضلاع کے کام کاج میں کمی پائی گئی۔ان اضلاع سے آئے ہوئے اردو عملہ کو یہ تاکید کی گئی کہ اردو کے فروغ سے متعلق جو بھی منصوبے ان کے یہاں عمل میں نہیں آسکے ہیں انہیں کسی بھی حال میں 15جنوری تک عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈائرکٹر اردو نے کہا کہ اردو نے ضلع سطحی اردو عمل گاہ ، فروغ اردو سمینار اور طلباء کے حوصلہ افزائی پروگرام کے انعقاد کی اہمیت و افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک طرح کی ماحول سازی ہوتی ہے اور اس کے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں وہی ہمارا مقصد اور منشاء ہے تاکہ ہمارے پروگرام میں ضلع انتظامیہ کے تمام سنیئر افسران موجود رہیں ۔ ان کے سامنے اردو کے لوگ اردو کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اردو حوصلہ افزائی پروگرام کے تحت شریک بچے ڈی ایم اور دوسرے افسران کے سامنے اردو کے حوالے سے اپنی باتیں رکھیں اس سے ضلع انتظامیہ کے ذہن میں اردو کے لئے کام کرنے کی بات پیدا ہوگی اور وہ ریاستی حکومت کے اس منصوبے کو اہمیت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو بچے حوصلہ افزائی پروگرام میں ڈی ایم اور دوسرے افسران کے سامنے اپنی بات رکھتے ہیں اس سے ہمارے بچوں کی بھی تربیت ہوتی ہے اور ان کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ امتیاز احمد کریمی نے تمام اردو عملہ کو ہدایت دی کہ جس طرح سے آپ عیدین کی نماز ادا کرنے جاتے ہیں اور اپنی سکت کے مطابق لباس زیب تن کرتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں ، اسی طرح اردو کے پروگرام کو بھی با وقار بنائیے اور اس میں اسی وقار کے ساتھ شرکت کیجئے جس طرح آپ عیدین کی نماز میں شرکت کرتے ہیں۔اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ آپ اردو اور اردو کے پروگرام کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔انہوں نے رواں مالی سال میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے توسط سے بھیجی گئی رقم کو پوری طرح سے تصرف میں لینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے ضلع سے آنے والی سرینڈر رپورٹ میں باقی ماندہ رقم کے کالم میں صفر دیکھنا چاہتا ہوں۔
اس موقع سے روز نامہ قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر ایس ایم اشرف فرید نے بھی اردو ڈائرکٹوریٹ کی کارکردگی کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی کی خدمات کی خوب ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ یہی اردو ڈائرکٹوریٹ ہے جس کی چند برسوں قبل کوئی پہچان نہیں تھی۔ افسر یہاں آنا نہیں چاہتے تھے اور جو آتے تھے وہ ہمیشہ مایوسی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ لیکن اب ان چند برسوں میں اردو ڈائرکٹوریٹ کا وقار بلند ہوا ہے اور اس کا کریڈٹ اردو ڈائرکٹوریٹ کے فعال ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی اور ان کے تمام رفقاء کو جاتا ہے۔
پروگرام کے دوران اردو ڈائرکٹوریٹ میں چل رہے اردو تربیتی مرکز کے ذمہ دار محمد نور عالم نے تربیتی مرکز کی خدمات کے حوالے سے یہ بات واضح کی کہ منصبی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ہماری یہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ ہمارے ہم وطن بھائی ہماری تہذیب ، ہماری ثقافت ، ہمارے اخلاق اور ہمارے کردار سے بھی بخوبی واقف رہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ان سے ہم بہترین تعلقات استوار کریں ،ان کے دکھ سکھ میں شریک رہیں اور اپنے دکھ سکھ میں بھی انہیں شریک رکھیں۔ ان کے دلو ں میں ہم اپنے لئے جگہ بنائیں اور ان کے دلوں میں خود بھی اترنے کی کوشش کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے لئے سب سے بڑا پلیٹ فارم غیر اردو دانوں کو اردو سکھانا ہے انہو ں نے کہا کہ اپنے پڑوسی خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان انہیں اردو پڑھائی جائے اور اپنے تہذیب و ثقافت سے انہیں واقف کرایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اردوڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ چلائے جا رہے اردو آموزی کورس میں فی الحال سنیئر آئی ایس افسر ان کے ساتھ ساتھ بہار پولس سروس ، بہار ایجو کیشن سروس اور دوسری سروسیز کے افسران کے ساتھ ساتھ صحافت ،سماجی خدمات، تعلیمی خدمات انجام دینے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے اس کے علاوہ انگریزی اسکولوں میں پڑھنے والے چند غیر اردو داں طلباء و طالبات بھی اردو پڑھنا ، لکھنااور بولنا سیکھ رہے ہیں۔ پروگرام کے درمیان اردو ڈائرکٹوریٹ کا سہ ماہی رسالہ ’بھاشا سنگم ‘ کے تازہ شمارہ کا اجراء عمل میں آیا ۔
ورکشاپ میں اضلاع سے آئے ہوئے عملہ کی طرف سے بھی چند سوالات کئے گئے جن کے جواب ڈائرکٹر اردو کے ذریعہ تشفی بخش طور پر دئیے گئے۔ اس موقع پر امتیاز احمد کریمی نے یہ یقین دہانی کی کہ تمام حالات میں ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ۔ آپ لوگوں کے ساتھ کسی بھی سطح سے زیادتی نہیں ہوگی ۔ ہم اس کا یقین دلاتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ آپ جس طرح سے اردو کی روزی روٹی سے وابستہ ہیں اسی طرح آپ خود بھی اردو سے متعلق کاموں سے اپنے آپ کو وابستہ کرلیں۔
ورکشاپ کا آغاز غلام رسول قریشی کے ذریعہ قتیل شفائی کی ایک خوبصورت غزل سرائی سے ہوا۔جب کہ تمہیدی کلام ڈاکٹراسلم جاوداں نے پیش کئے۔انہوں نے ورکشاپ میں شامل تمام پروگرام کی وضاحت کرتے ہوئے ان کی اہمیت و افادیت سے بھی روشناس کرایا۔پروگرام کے اختتام میں چند اردو عملہ نے اپنے کلام پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ ؎
کہہ دو میر و غالب سے ہم بھی شعر کہتے ہیں
وہ صدی تمہاری تھی، یہ صدی ہماری ہے
محفل سخن میں جن اردو عملہ نے خوبصورت کلام پیش کئے ان میں مصباح الزماں کامنی، غلام رسول قریشی، مصلح الدین کاظم، محمد اختر، محمد توقیر کے نام قابل ذکر ہیں۔ محفل سخن کی نظامت واصف جمال نے کی۔ پروگرام کا اختتام ڈائرکٹر امتیاز احمد کریمی کی ناصحانہ گفتگو سے ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close