بہارسیمانچل

طلبا و اساتذہ کو یرغمال بناناافسوسناک:اسرارالحق قاسمی

کشن گنج:جھارکھنڈکے بوکارواسٹیشن پر تلنگانہ جانے والی ٹرین سے ۷۸بچوں اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے چھ دیگر لوگوں کوجوعلماءو حفاظ تھے اور ان بچوں کو مدرسوں میں داخل کرنے کے لیے لے جارہے تھے،انہیں مقامی ریلوے پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے شبہے میں ٹرین سے اتار کرپوچھ تاچھ کے لیے روک لیا،جس کی وجہ سے ایک بار پھر میڈیامیں ہنگامہ برپاہوگیااورملک بھر کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔اس پورے معاملے پر میڈیانمائندوں سے بات کرتے ہوئے معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کہاکہ بنیادی طورپر پولیس کی کارروائی نامناسب ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانے والے بچوں اوران کے اساتذہ کوایسے مجرموں کی طرح بندھک بنالینا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جب بچوں نے خود کہہ دیاکہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جارہے ہیں تومعاملہ صاف ہوگیااور انہیں چھوڑدیناچاہئے تھا،مگر پولیس نے انھیں بلاوجہ روکے رکھاجس کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی و نفسیاتی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ مولانااسرارالحق ان دنوں کشن گنج کے دورے پر ہیں جہاں وہ حلقے میں جاری متعددترقیاتی و فلاحی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں،اس کے علاوہ ان کے ذریعے کئی نئے ترقیاتی پروجیکٹ کی شروعات بھی کی گئی ہے۔ مولاناقاسمی نے مدارس کے علماءو اساتذہ اور ذمہ داروں کوبھی توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ جب آپ بچوں کو لمبے سفر پر لے کرجاتے ہیں توموجودہ حالات کے پیش نظران کے والدین اور سرپرستوں سے کوئی خط یا تحریر لے لینی چاہئے تاکہ وقت ضرورت کام آئے،سات آٹھ سال سے کم عمر کے ایک ساتھ اسی سے زائد بچوں کولمبے سفر پر لے جانااورساتھ میں ان کے والدین کی جانب سے کسی قسم کی کوئی تحریر نہ ہوتویہ ملک کے موجودہ ایک بڑے طبقے کے خطرناک رجحانات کے پیش نظر مصلحت کے خلاف عمل ہے،مولانانے کہاکہ ہم اگر خود کوقانونی اعتبار سے مضبوط رکھیں توکسی بھی قسم کی مصیبت کا سامنا کرنے سے بچ سکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی بہار میں اسی قسم کا ایک واقعہ رونما ہوچکاہے جس میں سات آٹھ سال کی کئی بچیوں اور انہیں لے کر جانے والے علماءکو اسمگلنگ کے شبہے میں ٹرین سے اتارلیاگیاتھا ، لہذا ہمیں خود احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ اب دینی تعلیم کے ادارے تقریباً ہر علاقے میں قائم ہیں ،ایسے میں معصوم اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو حصولِ تعلیم کے لیے دوردراز کے شہروں میں بھیجنے اور لے جانے کی چنداں ضرورت بھی نہیں ہے۔اس موقع پر مولانااسرارالحق قاسمی نے مدارس کے ذمہ داران و اساتذہ کرام سے دردمندانہ اپیل بھی کی کہ مقامی تعلیمی ادارے اپنے اپنے اداروں میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے ساتھ تربیتی نظام اور سسٹم کو مضبوط بنانے پر ہمدردانہ غورکریں تاکہ والدین کو مجبوری کے ماتحت اپنے بچوں کودوسری ریاستوں میں نہ بھیجنا پڑے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close