بلاگمضامین

عالم اسلام کے حکمرانوں کے بدلتے رنگ

اسلاموفوبیا (اسلام ہراسی) لفظ ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے۔ اس سے غیر مسلم ’اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’نسلیت مسلم گروہ سے ڈرنا‘ مطلب لیتے ہیں۔ اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بڑھکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے۔11 ستمبر 2011 ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔
اسلام ایک سماجی اور تہذیبی قوت ہے۔ یہ اپنے وجود کی بقاء کے لیے کسی شخص کا محتاج نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ ہلاکواور انگریزوں کے دور میں ختم ہو گیا ہوتا۔اسے ترکی میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ دم توڑ دینا چاہیے تھا۔ہم مسلمانوں پر ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے،جب ہمارے پاس کوئی سیاسی قوت نہیں تھی۔ اس کے باوجود نہ صرف مذہب قائم رہا بلکہ نوآبادیاتی دور کے بعد، عالمی سیاست میں ایک بڑے کردار کے ساتھ، پھر سے نمودار ہواہے۔اسلام کو یہود و نصاریٰ اور کفار سے شروع سے خطرات بجاہے، لیکن جب مذہب اسلام سے جڑے لوگ ہی اسلامی تعلیمات کے منافی حرکتیں کرنے پر اتر آئیں تو اسلام کا تشخص زیادہ خراب ہو جاتا ہے۔ایک منصوبے کے تحت اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیایا دہشت گردی کو اسلام سے،ہندوستان کے بڑے سیاست داں نے اس الزام کو مزید فروغ دیا کہ’’ مانا کہ سب مسلمان دہشت گرد نہیں لیکن تعجب ہے کہ ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے‘‘
سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ زمباڈو کا خیال ہے کہ دہشت گردی میں عام آبادی کو خوف زدہ کیا جاتا ہے لوگوں کے خود پر موجود اعتماد کو مجروح کیا جاتا ہے اور ایک محفوظ اور آرام دہ دنیا کو خارزار میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ دہشت گرد غیر متوقع طور پر تشدد کی کارروائی کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ پروفیسر زمباڈو مزید کہتے ہیں کہ دہشت گرد لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اس صورت میں یا تو مقابلہ کیا جاتا ہے یا گریز اختیار کیا جاتا ہے۔منظور الحسن صاحب نے دہشت گردی کی ایک تعریف مستنبط کی ہے جو کچھ یوں ہے:
’’انسان خواہ مقاتلین ہوں یا غیر مقاتلین، ان کے خلاف ہر وہ تعدی دہشت گردی قرار پائے گی جس میں یہ تین شرائط پائی جاتی ہوں۔ 1۔ کارروائی دانستہ ہو۔ 2۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہو۔ 3۔ قانونی لحاظ سے ناحق ہو۔امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2001ء میں امریکی ٹریڈ سنٹر پر حملے کو جواز بنا کر ”دہشت گردی کے خلاف جنگ” (war on terror) کا اعلان کیا۔ اس جنگ کا پہلا نشانہ افغانستان بنا۔ اس کے بعد عراق۔ شروع ہی میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس جنگ کو صلیبی جنگ (Crusade warr) بھی کہا جس سے اس کی اصل نیت واضح ہوتی ہے اگرچہ بعد میں اس لفظ کو استعمال نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ دو تہذیبوں کی جنگ نہیں ہے۔افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباً تمام مغربی ممالک امریکہ کے حواری بن کر شامل ہو گئے۔ ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل ہیں۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں نے ہوائی طاقت کا بیشمار استعمال کرتے ہوئے فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہوئے انگنت بم افغانستان کے علاقہ پر گرائے۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوج انوکھے انداز سے جنگ لڑ رہی تھیں۔ اگر امریکی فوجی فائرنگ کی زد میں آ جائیں تو فوراً بمبار لڑاکا ہوائی جہازوں کی مدد مانگ لیتے تھیں۔ لڑاکا جہاز سارے علاقے پر اندھا دھند بمباری کر کے سینکڑوں رہائشیوں کو ہلاک کر دیتے تھیں۔ویڈٰیو گیم کی طرح لوگوں کو فضا سے نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا تھا۔پھر جنگ کے بعد جو علاقے تسلط میں آے، ان کے باشندوں کے ساتھ ظلم وستم کے نئے دور کا آغاز کی شکل میں،اور دیگر بہت سے بے گناہ مسلمانوں کو دنیا کے مختلف حصوں سے اغوا کر کے امریکہ نے کیوبا کی خلیج گوانتاناموبے میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کے زندانوں میں قید کر رکھا گیا۔ یہ قید خانہ امریکی نظامِ انصاف کے ماتحت نہیں آتا بلکہ امریکی فوج اور خفیہ ادارے اسے چلاتے تھیں، اس کے علاوہ CIA نے یورپ کے کئی ممالک میں نجی جیل قائم کیے ہیں،جن کا نشانہ کسی نہ کسی شکل میں مسلمان ہی ہیں،جو ہر طرح کی عدالتی نگرانی اور سب سے بڑھ کر انصاف سے محروم تھے کیوں کہ وہ انسان نہیں مسلمان تھیں؟ اس کے علاوہ بحری جہازوں میں بھی مسلمانوں کو قید کیا گیا تھا۔یہاں قیدوں پر اذیت ناک تشدد (torturee) کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ ”پانی تختہ” کی اذیت بھی استعمال کی گئی جس کی اجازت امریکی حکومت کے بالائی ایوانوں نے دی۔صلیب احمر (ریڈکراس) نے اس کی تصدیق کی ہے کہ امریکی جنیوا معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قیدیوں پر تشدد میں ملوث رہے ہیں۔ FBI کے کارندوں نے گوتانموبے میں امریکی فوجی اور CIA کے ہاتھوں ہونے والے تشدد پر ایک ملف کھولا جس کا عنوان ”جنگی جرائم” تھا۔ 2008ء میں بارک اوبامہ امریکہ کا صدر بنے، تو انہوں نے گوتاناموبے کا عقوبت خانہ بند کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر امریکی تشدد طریقوں کی تفصیل اخبارات کو جاری کی، کہا کہ تشدد کے جرائم پر کسی امریکی اہلکار کو سزاوار نہیں ٹھیڑایا جائے گا۔اگست 2009ء میں ACLU نے امریکی حکومت سے بگرام ہوائی اڈا کے شمال میں مبحوس 6000 سے زائد قیدیوں کے بارے استفسار کیا، اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ جگہ نیا گوتوانمو عقوبت خانہ بن چکا ہے۔اس جنگ کی آڑ لے کر امریکی حکومت نے اپنے عوام کی آزادیاں بھی سلب کرنا شروع کر دیں۔ امریکی کانگریس نے امریکی عوام پر وسیع پیمانے کی جاسوسی کی منظوری دی۔ اس قانون سے امریکی آئین کی چوتھی ترمیم عضو معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایک امریکی شہری ہوزے پاڈیلا پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے میں ناکامی کے بعد فلوریڈا کی ایک jury سے چھوٹے موٹے دہشت گردی الزامات میں سزا کا فیصلہ حاصل کر لیا۔فلوریڈا یونیوسٹی پروفیسر سمیع کے خلاف دہشت الزامات میں عدالتی ناکامی کے بعد امریکی انتظامیہ نے اسے ملک بَدر کر دیا۔امریکہ میں مقیم 5000 مسلمان افراد کو بغیر کسی الزام کے جیل میں بند کر دیا گیا۔ امریکی ایف۔بی۔آئی۔ باقاعدہ مسلمانوں کو پھانسنے کے لیے عادی مجرموں کو بھاری رقوم دیتی ہے جو باتوں باتوں میں نوجوان مسلمانوں سے ”قابلِ اعتراض” جملے کہلوا لیتے ہیں جس پر امریکی عدالتوں سے آسانی سے سزا کا فیصلہ حاصل کر لیا جاتا۔کینیڈا کے خفیہ ادارے شہریوں کو غیرقانونی طور پر دوسرے ممالک کے حوالے کرنے میں ملوث رہیں۔2006ء میں امریکی کانگریس نے سرکار کی طرف سے قید کو عدالت میں اعتراض کا بنیادی انسانی حق ((Habeas Corpus) معطل کر دیا۔دوسرے مغربی ممالک میں بھی آئینی آزادیاں سلب کرنے کے قانون بنائے گئے جن کی توثیق عدالتی فیصلوں سے ہوئی،اور جو ملک اسلام کینام پربنااس نے بھی اپنے بے گناہ شہریوں کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو بھی امریکی دہشت گردوں کے حوالے کر دیا۔ ابوغریب جیل میں مسلسل ہمارے بھائیوں، ہماری ماں،بہنوں،بیٹیوں کی چیخیں سنائی دیتی تھیں،ان مظلوموں کی آہیں،فضا کو سوگوار بناتی تھیں،لیکن نہ وہ ظالموں کادل پگھلا نہ ہم بیدار ہوئے؟
ان سب کے نتایج میں داعش کی پیدائش ہوئی۔
داعش کیا ہے؟داعش چار حروف کا مرکب ہے۔ انگریزی میں اسے ISISیعنی Iraq Syria Islamic State کا نام دیا گیا ہے۔ عربی اور اردو میں”داعش” یعنی دولت اسلامیہ عراق وشام ہے۔داعش نے مختصر وقت میں عراق اور شام کے بیشتر علاقوں میں اپنے پنجے گاڑ لیے۔ اس تنظیم کی جنگی طاقت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ایک طرف شامی فوج کا مقابلہ کیا اوردوسری طرف شام کے باغی گروپوں کے خلاف بھی بھر پور جنگ جاری رکھی۔داعش کے قیام کا بنیادی مقصد عراق اور شام کے کچھ علاقوں پر مشتمل ایک اسلامی ریاست کا قیام عمل ہے۔داعش کی کاروائیوں کا مرکز عراق، لبنان، لیبیا، شام اور یمن ہیں۔جبکہ دوسرے مرحلے میں داعش کی پیش قدمی میں کئی اورممالک کا نام شامل ہے۔
اس وقت داعش کو دنیا کا سب سے امیر ترین جنگجو گروپ قرار دیا جارہا ہے۔ بی بی سی لندن کے رپورٹ کے مطابق داعش کے اثاثے صومالیہ، الجزائر، افغانستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں موجود شدت پسندوں کے کل اثاثوں سے تجاوز کر گئے ہیں۔دور حاضر میں دنیا کے دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند اسے ایک محفوظ ٹھکانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔عراقی خانہ جنگی مشرق وسطی میں ایک مسلح تنازع ہے جو 2014ء کے جنوری میں شروع ہوا۔ 2014ء میں، عراقی شورش اس وقت خانہ جنگی کی صورت اختیار کر گئی جب فلوجہ، موصل، تکریت اور شمالی عراق کے اکثر علاقوں پر داعش (آئی ایس آئی ایل، جو آئی ایس آئی ایے یا آئی ایس، اردو میں داعش کے نام سے جانی جاتی ہے) نے قبضہ کر لیا۔ جس کے نتیجے میں وزیر اعظم عراق نوری المالکی کو مجبوراً استعفا دینا پڑا، اس کے ساتھ ہی امریکا ایران، شام اور کم سے کم ایک درجن دیگر ممالک نے ہوائی حملے کیے،اور ایرانی فوجی بھی شامل رہے،اور روس نے عراق کو عسکری اور انصرامی امداد مہیا کی۔دسمبر 2017 ء کو، وزیر اعظم حیدر العبادی نے داعش پر فتح کا اعلان کیا،لیکن خبردار کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی ایل شورش کے ذریعے اور دوسرے ذرائع سے لڑنے کی کوشش کر سکتی ہے،اور آج بھی وہاں جنگ جاری ہے۔
15 دسمبر 2015ئکو سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان جو آج ملک کے نائب ولی عہد بھی ہیں،نے کچھ ممالک کو اعتماد میں لیے بناہی یہ اعلان کردیاکہ سعودی عرب کی قیادت میں مسلم ممالک کا ایک اتحاد قائم کیاگیاہے جو مسلمانوں کے مفادات کاتحفظ کرتے ہوئے شدت پسندی و دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑے گا۔سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں اس کا مشترکہ آپریشن سنٹر بھی قائم کردیاگیااورپھر6جنوری 2017ء کوپاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو اس اتحاد کے فوجی کمان کا کمانڈر ان چیف مقرر کیاگیاجنہوں نے ملک میں رائے عامہ منقسم ہونے کے باوجود عہدہ قبول کرلیا اور نئی ملازمت کی خاطر سعودی عرب روانہ بھی ہوگئے۔کچھ حلقوں کی طرف سے ایران، عراق، شام جیسے ممالک کو اتحاد کا حصہ نہ بنائے جانے پر سعودی حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایاگیاوہیں امریکہ نے اس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے سنی نیٹو کانام دیا اور امریکہ کا مقصد اس اتحاد کوایران کے خلاف استعمال کرناتھاتاہم ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔نہ اِدھرکے رہے نہ اُدھر کے رہے‘‘کے مصداق یہ اتحاد اپنے مقاصد پورے کرنے کے بجائے اِدھر اُدھر بھٹک گیا اور نہ ہی شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکا اور نہ ہی مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہی ہو سکا۔ادھرشام اور عراق کے اندر تنازعات میں ایران براہ راست ملوث رہا ہے،ج?بکہ وہ یمن میں لڑنے والے باغیوں، لبنان میں حزب اللہ اور ’فلسطینی اسلامی جہاد` نامی تنظیم کی بھی مدد کر رہا ہے۔ایران کے اثر و رسوخ پر قابو رکھنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی زبردست حامی ہے۔تنظیمِ آزادئی فلسطین (پی ایل او) کی سینیئر اہلکار حنان عشراوی کہتی ہیں کہ ’اسرائیل کو خطے میں اس طرح ایک معمول کا ملک بنانے کی کوشش، جس میں اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لاتا اور ایک قابض طاقت بنا رہتا ہے، اپنے مقاصد کے خلاف جائے گی اور یہ خطرناک بھی ہے۔‘ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ حالیہ بیان کہ اسرائیل کو اس کی بقا کا حق حاصل ہے، انہوں نے کہا کہ یہودیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ”پیغمبرِ اسلام نے تو ایک یہودی خاتون سے شادی بھی کی تھی۔”سعودی ولی عہد کا یہ بیان اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خلیج کی یہ بااثر ترین عرب ریاست اب اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہے۔ ساتھ ہی محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا تھا، ”اسرائیل کے رقبے کو دیکھا جائے تو تقابلی بنیادوں پر اس کی معیشت ایک بڑی معیشت ہے اور اسرائیل اور سعودی عرب کے بہت سے فائدے برابر ہیں۔ اگر اس خطے میں امن قائم ہو جائے تو اسرائیل، خلیجی تعاون کی کونسل کے رکن ممالک اور مصر اور اردن جیسی عرب ریاستوں کے مابین بہت سی قدریں مشترک ہوں گی۔”عمان کے خارجہ امور کے وزیر یوسف بن علاوی نے کہا ہے کہ ‘اسرائیل خطے میں ایک ملک ہے اور ہم سبھی اس بات کو سمجھتے ہیں۔’انھوں نے مزید کہا کہ ‘دنیا بھی اس حقیقت سے واقف ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اسی طرح سلوک روا رکھا جائے اور اسرائیل پر بھی وہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔بڑی عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو اسرائیلی جارحیت میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف خلیجی ممالک نے اپنے مسلمان بھائیوں کے قاتل اسرائیل کے لیے اپنی باہیں پھیلا دی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عرب ممالک اندرونی طور پر اسرائیل کے ساتھ ہیں جس نے قبلہ اول پر قبضہ بھی کررکھا ہے اور مسلسل اس کی بے حرمتی کررہا ہے۔ مسلمانوں کو جمعہ کی نماز تک ادا نہیں کرنے دی جاتی۔
بحرین نے بھی اسرائیل کی جانب سے اس (جھوٹی امن کی کوشش)کے ’واضح موقف‘ کو اسی طرح سراہا ہے جیسا اس نے گذشتہ دنوں عمان کو اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر سراہا تھا۔وزیراعظم نیتن یاہو نے مسلم ملک عمان کا دورہ کیا اور سلطان قابوس بن سعید نے اس کا اور اس کی اہلیہ کا اپنے محل میں استقبال کیا۔ دونوں کی گرمجوش ملاقات کی تصویریں بھی عام کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق عمان کے سلطان نے نیتن یاہو کو باضابطہ دعوت دی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر کھیل اپنی کراٹے ٹیم کو لے کر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔ قطر کی جمناسٹک فیڈریشن نے یہودی کھلاڑیوں کی دوحہ میں میزبانی کی۔ اسرائیلی کھلاڑیوں کو اس سے پہلے بھی قطر میں بلایا جاتا رہا ہے جبکہ قطر کا سرکاری موقف فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت ہے۔ عملاً بیشتر عرب ممالک اسرائیل کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کی بنیادی وجہ تو امریکا ہے جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ ہے اور کسی بھی مسلم ملک میں امریکا کو ناراض کرنے کی جرأت نہیں ہے۔وزیراعظم نیتن یاہو نے مسلم ملک عمان کا دورہ کیا اور سلطان قابوس بن سعید نے اس کا اور اس کی اہلیہ کا اپنے محل میں استقبال کیا۔ دونوں کی گرمجوش ملاقات کی تصویریں بھی عام کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق عمان کے سلطان نے نیتن یاہو کو باضابطہ دعوت دی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیلی وزیر کھیل اپنی کراٹے ٹیم کو لے کر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔ قطر کی جمناسٹک فیڈریشن نے یہودی کھلاڑیوں کی دوحہ میں میزبانی کی۔ اسرائیلی کھلاڑیوں کو اس سے پہلے بھی قطر میں بلایا جاتا رہا ہے جبکہ قطر کا سرکاری موقف فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت ہے۔ عملاً بیشتر عرب ممالک اسرائیل کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں جس کی بنیادی وجہ تو امریکا ہے جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ ہے اور کسی بھی مسلم ملک میں امریکا کو ناراض کرنے کی جرأت نہیں ہے۔امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اور نئے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے اپنے دورہ مشرقِ وسطیٰ کے دوران سعودی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ امریکا ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔پومپیو نے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا، ’’ایران نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔ ایران پراکسی ملیشیا اور دہشت گرد گروپوں کی معاونت کرتا ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں کو ہتھیار مہیا کرنے میں بھی ایران پیش پیش ہے۔ ایران ہی بشارالاسد کی قاتل حکومت کی حمایت بھی کرتا ہے۔‘‘
پومپیو نے زور دے کر کہا کہ خلیجی ممالک کے درمیان موجود اختلافات اور قطر کے ساتھ موجود کشیدگی اس صورت حال میں نادرست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک ایران کے خلاف متحد ہو جائیں۔جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک دفعہ کہا تھا کہ:’’پاکستان اسرائیل کی طرح ایک نظریاتی ریاست ہے 150 اگر اسرائیل سے یہودیت نکال دی جائے تو یہ ریاست تاش کے پتوں کی طرح دھڑام سے گرجائے اور اسی طرح اگر پاکستان سے اسلام کو نکال دیا جائے او ر اسے سکیولر بنایا جائے تو یہ بھی بہت جلد ختم ہوجائے گا’’اسی نظریہ کی بنیاد پر جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرنیکے لیے کئی اقدامات اٹھارکھے تھے۔13 دسمبر 2018 ء کو اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں دی گئی ضیافت کے موقع پر کہا ہے کہ عرب اور دنیا کے کئی اسلامی ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پہلے سے بہتر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ”اب زیادہ تر ممالک اسرائیل کی اہمیت کو قبول کرنے کے علاوہ ہمارے ساتھ تعلقات کو اہم سمجھتے ہیں۔تین یاہو متعدد موقعوں پر فخریہ انداز میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اعتدال پسند عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر توانائی یوول اسٹینٹز نے اسرائیلی آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ روابط ہیں جن میں سے زیادہ تر ممالک کے ناموں کو ان ہی کی درخواست پر خفیہ رکھا گیا ہے‘۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیشہ ان کے سامنے والے ملک نے ہی ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں خفیہ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم سعودی عرب ہو یا دیگر عرب ممالک ہوں یا پھر کوئی بھی مسلم ملک ہو، ہم ان کی اس خواہش کی عزت کرتے ہیں۔
نائن الیون کے بعد سے پوری امت مسلمہ پر ایک ایسا دباو آگیا ہے جو کسی صورت میں ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ المیہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں حکمراں اور مسلمان جاگنے کیلئے تیار ہی نہیں۔ وہ آج تک اس بات کو ہی نہیں سمجھ پائے کہ ان کے گرد کس سازش کے تحت گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ مسلم ممالک کو اپنے ملک کے اندر تو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر ہی دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ ایک ملک کو دوسرے کے سامنے بھی لا کھڑا کیا ہے اور ہر ملک ایک دوسرے کے خاتمے کے در پے ہے۔کرپشن، لوٹ مار، اقرباء پروری اور ذاتی مفاد کی وجہ سے مسلم حکمراں مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

Show More

ریاض فردوسی

محمد ریاض الدین فردوسی ابن محمد شرف الدین قادری(ریٹائرڈ وائرلیس آپریٹر۔پٹنہ۔۔۔پولیس بہار)۔سکہ ٹولی عالم گنج ڈاکٹر ضیاء الہدى لین۔نزد سکہ ٹولی مسجد پٹنہ۔7۔بہار۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close