شعر وشاعری

"عرش سے فرش پر لے آئی می ٹو "

کرسی چھِننے کی رُت لائی می ٹو
کیریئر کتنوں کا ڈبو آئی می ٹو
پارسا کل تک جو بنے پھرتے تھے
داغ ان پر بھی لگا آئی می ٹو
وقت کی بے آواز لاٹھی کی طرح
قہر مجرموں پہ بن آئی می ٹو
تھی خطا جن سے ہوئی جوانی میں
ہے سزا ان کو دلانے آئی می ٹو
کیسے کیسوں کو دیکھ سبق سِکھا
عرش سے فرش پہ لے آئی می ٹو
کس قدر ذہنوں میں غلاظت ہے
راز سب افشاں کر آئی می ٹو
جو کبھی خوفزدہ تھی عورت عباس
خود اعتمادی اس میں لائی می ٹو
محمد عباس دھالیوال.

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close