بہارپٹنہ

عظیم صحافی کلدیپ نیئر کاجانادنیائے صحافت کابڑانقصان:ڈاکٹراظہاراحمد

پٹنہ: دنیائے صحافت کے ایک اہم ستون ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار کلدیپ نیئر کے دنیا سے جانے پر ڈاکٹر اظہار احمد چیف ایڈیٹر پیاری اردو پٹنہ، سابق ایم ایل اے وسینئر لیڈر جے ، ڈی ، یو نے کہاکہ میں اپنی جانب سے کلدیپ نیئر کی رحلت پراظہار تعزیت پیش کرتاہوں ساتھ ہی کہاکہ ایک ایسا صحافی جوحق، انصاف اور انسانیت کی آواز کو سڑک سے لے کر سدن تک بلند کرتارہا ہے ان کی رحلت سے مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے ۔ روزنامہ پیاری اردو بہت جلد پٹنہ میں ایک سمینار منعقد کرے گا، انجینئرشاہ عظمت اللہ صدر سیو لائف فائونڈیشن نے اپنے گہرے رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ کلدیپ نیئر ایک غیر جانب دار اور بے باک صحافی تھے ہمیشہ حق کی آواز بلند کرتے رہے اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف ہمیشہ حق کی آواز اٹھائی حضرت حسرت موہانی کے کہنے پر انہوں نے انگریزی اخباروں سے بھی رشتہ جوڑا کسی بھی حکومت کے تلوے نہیںچاٹے انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہاکہ اس وقت ان کاجاناہندوستان کیلئے بہترنہیںہے ان کا نام ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا میں وزیراعظم سے اپیل کرتاہوں کہ جلد سے جلد ان کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ کی بنیاد رکھیں۔ شمس تبریز قاسمی چیف ایڈیٹرملت ٹائمز نے کہاکہ کلدیپ نیئر جیسے ایماندار صحافی کارخصت ہوناہندوستان سمیت پوری دنیا کیلئے بڑانقصان ہے اورکہاکہ آج ہم ایک ادیب، مصنف ، کالم نگار، اور برصغیر میں امن وشانتی کے نقیب سے محروم ہوگئے۔ عبدالرقیب شامی ندوی نوجوان صحافی نے کہاکہ ان کے جانے سے مجھے ایسا لگتاہے کہ صحافتی دنیا یتیم ساہوگیا ہے کلدیپ نیئر کے رحلت فرمانے سے ہندوستان ایک ایماندار صحافی سے محروم ہوگیا ہے ۔ امان اللہ سبحانی جوائنٹ سکریٹری سیولائف فائونڈیشن نے کہاکہ کلدیپ نیئر نے اردو صحافت سے آغاز کیاوہ آفتاب کی طرح پوری صحافتی دنیاپرچمکے وہ ہمیشہ پڑوسی ملکوں سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے ۔ سماجی کارکن وصی اللہ تمکین نے کہاکہ انہوںنے ہمیشہ انصاف اور حق بیانی کے ساتھ قلم اٹھایا کلدیپ نیئر جیسے ایماندار صحافی اور سیاست داں کی ملک کوسخت ضرورت ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close