شخصیات

علامہ اقبال بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاٰعر


ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال متحدہ ہندوستان کےبیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون داں، اور سیا ستداں,کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے
ولادت و ابتدائی زندگی
علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء بمطابق 3 ذوالقعدہ 1294ھ کو متحدہ ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔والدہ امام بی نے محمد اقبال نام رکھا۔
اقبال کے آباء و اجداد قبول اسلام کے بعد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ چلے گئےاور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔ شیخ نُور محمد کشمیر کے برہمن نسل سے تعلق رکھتےتھے۔ غازی اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں ان کے اجداد نے اسلام قبول کیا۔ تھا, شیخ نور محمد دیندار آدمی تھے۔ بیٹے کے لئے دینی تعلیم ہی کافی سمجھتے تھے۔ سیالکوٹ کے اکثر مقامی علما کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے۔ اقبال بسم ﷲ کی عمر کو پہنچے تو انھیں مولانا غلام حسن کے پاس لے گئے۔ مولانا ابوعبد ﷲ غلام حسن محلہ شوالہ کی مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ شیخ نُور محمد کا وہاں آنا جانا تھا۔ یہاں سے اقبال کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ حسبِ دستور قرآن شریف سے ابتدا ہوئی۔ تقریباً سال بھر تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ شہر کے ایک نامور عالم مولانا سید میر حسن نے اقبال کودیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا بچّہ ہے۔ معلوم ہوا تو وہاں سے اُٹھ کر سیدھے شیخ نور محمد کے گھر کی طرف چل دیئے ۔ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے واقف تھے۔ مولانا نے زور دے کر سمجھایا کہ اپنے بیٹے کو مدرسے تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اسےجدید تعلیم بھی دلائیں جو بہت ضروری ہے انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ اقبال کو ان کی تربیت میں دے دیا جائے کچھ دن تک تو شیخ نور محمد کو پس و پیش رہا، مگر جب دوسری طرف سے اصرار بڑھتا چلا گیا تو اقبال کو میر حسن کے سپرد کر دیا۔ ان کا مکتب شیخ نور محمد کے گھر کے قریب ہی کوچہ میر حسام الدین میں تھا۔ یہاں اقبال نے اردو، فارسی اور عربی ادب پڑھنا شروع کیا۔ تین سال گزر گئے۔ اس دوران سید میر حسن نے اسکاچ مشن اسکول میں بھی پڑھانا شروع کر دیا۔ اقبال بھی وہیں داخل ہو گئے مگر پرانے معمولات اپنی جگہ رہے۔ اسکول سے آتے تو استاد کی خدمت میں پہنچ جاتے۔ میر حسن ان عظیم استادوں کی یادگار تھے جن کے لئے زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہوا کرتا تھا : پڑھنا اور پڑھانا۔ لیکن یہ پڑھنا اور پڑھانا صرف کتاب خوانی کا نام نہیں۔ بلکہ اس زمانے میں استاد طلبہ کےمرشدہواکرتھے,میرحسن تمام اسلامی علوم سے آگاہ تھے، جدید علوم پر بھی اچھی دسترس تھی۔ اس کے علاوہ ادبیات، معقولات، لسانیات اور ریاضیات میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ مولانا کی تدریسی مصروفیات بہت زیادہ تھیں مگر مطالعے کا معمول قضا نہیں کرتے تھے۔ قرآن کے حافظ بھی تھے اور عاشق بھی۔ شاگردوں میں شاہ صاحب کہلاتے تھے۔ انسانی تعلق کا بہت پاس ولحاظ تھا۔ حد درجہ شفیق، سادہ، منکسر المزاج اور خوش طبع بزرگ تھے۔ روزانہ کا معمول تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر قبرستان جاتے، عزیزوں اور دوستوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھتے۔ فارغ ہوتے تو شاگردوں کو منتظر پاتے۔ واپسی کا راستہ سبق سننے اور دینے میں کَٹ جاتا۔ یہ سلسلہ گھر پہنچ کر بھی جاری رہتا، یہاں تک کہ اسکول کو چل پڑتے۔ شاگرد ساتھ لگے رہتے۔ دن بھر اسکول میں پڑھاتے۔ شام کو شاگردوں کو لئےہوئے گھر آتے، پھر رات تک درس چلتا رہتا۔ اقبال کو بہت عزیز رکھتے تھےخوداقبال بھی استاد پر فدا تھے۔ اقبال کی شخصیت کی مجموعی تشکیل میں جو عناصر بنیادی طور پر کارفرما نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر شاہ صاحب کی صحبت اور تعلیم کا کرشمہ ہیں۔ سید میر حسن سر سید کے بڑے مداح تھے۔ علی گڑھ تحریک کو مسلمانوں کے لیے مفید سمجھتے تھے۔ان کے زیرتربیت اقبال کے دل میں بھی سرسید کیلئے محبت پیدا ہو گئی جو بعض اختلافات کے باوجود آخر دم تک قائم رہی۔ مسلمانوں کی خیر خواہی کا جذبہ تو اقبال کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئ تھی مگر میر حسن کی تربیت نے اس جذبے کو ایک علمی اور عملی سمت دے دی۔ اقبال سمجھ بوجھ اور ذہانت میں اپنے ہم عمر بچوں سے کہیں آگے تھے۔ بچپن ہی سے ان کے اندر وہ انہماک اور استغراق موجودتھا جو بڑے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ اقبال کوپڑھنے کےساتھ ساتھ کھیل کود کا بھی خوب شوق تھا۔ بچوں کی طرح شوخیاں بھی کرتے تھے حاضر جواب بھی بہت تھے۔ شیخ نُور محمد یہ سب دیکھتے مگر منع نہ کرتے جانتے تھے کہ بچوں کے لئے کھیل کود بھی بے حد ضروری اورصحت کیلئے مفید ہے۔ قدرت نے اقبال کو صوفی باپ اور عالم استاد عطا کیا تھا جس سے ان کا دل اور عقل یکسو ہو گیا ، باپ کے قلبی فیضان نے جن حقائق کو اجمالاً محسوس کروایا تھا استاد کی تعلیم سے تفصیلاً معلوم ہو گیا ۔ بچپن سے ہی اقبال اپنی شاعری کا باقاعدہ آغاز کرچکےتھے , مگر شعر نہ کسی کو سناتے نہ محفوظ رکھتے۔بلکہ لکھتے اور پھاڑ کر پھینک دیتے۔ لیکن اب شعر گوئی ان کے لئےفقط ایک مشغلہ نہ رہی تھی بلکہ روح کی غذا بن چکی تھی۔ اس وقت پورا برصغیر داغ کے نام سے گونج رہا تھا۔ خصوصاً اُردو زبان پر ان کی معجزانہ گرفت کا ہر کسی کو اعتراف تھا۔ اقبال نے شاگردی کی درخواست لکھ بھیجی جو قبول کر لی گئی۔ مگر اصلاح کا یہ سلسلہ زیادہ دن جاری نہ رہ سکا۔ متحدہ ہندوستان میں اردو شاعری کے تعلق سے جتنے بھی شعراءتھے، ان میں داغ کا قلم سب سے آگے تھا۔اس وقت تک اقبال کے کلام کی امتیازی خصوصیت ظاہر نہ ہوئی تھی مگر داغ اپنی بے مثال بصیرت سے بھانپ گئےتھے کہ اس ہیرے کو تراشا نہیں جاسکتا۔ یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ اصلاح کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ مگر اقبال اس مختصر سی شاگردی پر ہی ہمیشہ نازاں رہے۔
تعلیم
16سال کی عمر میں 6 مئی 1893ءکو اقبال نے میٹرک کاامتحان فرسٹ ڈویزن سے پاس کرکے تمغہ حاصل کیا اور وظیفہ کے حقدار بنے اورپھر 1895ء میں اقبال نے ایف اے کیا اور مزید تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ یہاں گورنمنٹ کالج میں بی اے کی کلاس میں داخلہ لیا اور ہاسٹل میں رہنے لگے۔ اپنے لئے انگریزی، فلسفہ اور عربی کے مضامین منتخب کیے۔ انگریزی اور فلسفہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتے اور عربی پڑھنے اورینٹل کالج جاتے جہاں مولانا فیض الحسن سہارنپوری جیسے بے مثال استاد تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت تک اورینٹل کالج گورنمنٹ کالج ہی کی عمارت کے ایک حصّے میں قائم تھا اور دونوں کالجوں کے درمیان بعض مضامین کے سلسلے میں باہمی تعاون اور اشتراک تھا۔ 1898ء میں اقبال نے بی اے پاس کیا اور ایم اے فلسفہ میں داخلہ لے لیا۔ یہاں پروفیسر ٹی ڈبلیوآرنلڈ کا تعلق میسّر آیا۔ جنھوں نے آگے چل کر اقبال کی علمی اور فکری زندگی کا ایک حتمی رُخ متعین کر دیا۔
مارچ 1899ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پنجاب بھر میں اوّل آئے۔ اس دوران شاعری کا سلسلہ بھی چلتا رہا، مگر مشاعروں میں نہ جاتے تھے۔ نومبر 1899ء کی ایک شام کچھ بے تکلف ہم جماعتوں نے انھیں حکیم امین الدین کے مکان پر ایک محفلِ مشاعرہ میں کھینچ لے گئے۔ بڑے بڑے شعراء شریک تھے۔ سُننے والوں کا بھی خاصا ہجوم تھا۔ اقبال چونکہ بالکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام ابتدا میں ہی پُکارا گیا۔ غزل پڑھنی شروع کی، جب اس شعر پر پہنچے کہ :
موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے مرے عرقِ انفعال کے
تو سبھی شعراء اُچھل پڑے۔ بے اختیار ہو کر داد وتحسین دینے لگے۔ یہاں سے اقبال کی بحیثیت شاعر شہرت کا آغاز ہوا۔ مشاعروں میں باصرار بُلائے جانے لگے۔ اسی زمانے میں انجمن حمایتِ اسلام لاہور سے تعلق پیدا ہوا جو آخر تک قائم رہا۔ اس کے ملّی اور رفاہی جلسوں میں اپنا کلام سناتے اور لوگوں میں ایک سماں باندھ دیتے۔ اقبال کی مقبولیت نے انجمن کے بہت سارے کاموں کو آسان کر دیا۔ کم از کم پنجاب کے مسلمانوں میں سماجی سطح پر دینی وحدت کا شعور پیدا ہونا شروع ہو گیا جس میں اقبال کی شاعری نے بنیادی کردار ادا کیا۔
ایم اے پاس کرنے کے بعد اقبال 13 مئی 1899ء کو اورینٹل کالج میں میکلوڈ عربک ریڈر کی حیثیت سے متعین ہو گئے۔ اسی سال آرنلڈ بھی عارضی طور پر کالج کے قائم مقام پرنسپل مقرر ہوئے۔ اقبال تقریباً چار سال تک اورینٹل کالج میں رہے۔ البتہ بیچ میں چھ ماہ کی رخصت لے کر گورنمنٹ کالج میں انگریزی پڑھائی۔ اعلی تعلیم کے لئے کینیڈا یا امریکہ جانا چاہتے تھے مگر آرنلڈ کے کہنے پر اس مقصد کے لیے انگلستان اور جرمنی کا انتخاب کیا۔ 1904ء کو آرنلڈ جب انگلستان واپس چلے گئے تو اقبال نے ان کی جدائ کو بے حد محسوس کیا۔ دل کہتا تھا کہ اُڑ کر انگلستان پہنچ جائیں,
اورینٹل کالج میں بطور عربک ریڈر مدت ملازمت ختم ہو گئی تو 1903ء میں اسسٹنٹ پروفیسر انگریزی کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج میں تقرر ہو گیا۔ بعد میں فلسفے کے شعبے میں چلے گئے۔ وہاں پڑھاتے رہے یہاں تک کہ یکم اکتوبر 1905ء کو یورپ جانے کے لیے تین سال کی رخصت لی۔
اعلیٰ تعلیم اور سفر یورپ
25 دسمبر 1905ء کو اقبال اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لے لیا چونکہ کالج میں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے داخلہ لئےتھے اس لئے ان کے لئے عام طالب علموں کی طرح ہاسٹل میں رہنے کی پابندی نہ تھی۔ قیام کا بندوبست کالج سے باہر کیا۔ ابھی یہاں آئے ہوئے ایک مہینے سے کچھ زیادہ ہی ہوا تھا کہ بیرسٹری کے لیے لنکنز اِن میں داخلہ لے لیا۔ اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی
ڈاکٹریٹ ملتے ہی لندن واپس چلے آئے۔ بیرسٹری کے فائنل امتحانوں کی تیاری شروع کردی۔ کچھ مہینے بعد سارے امتحان مکمل ہو گئے۔ جولائی 1908ء کو نتیجہ نکلا۔ کامیاب قرار دیے گئے۔ اس کے بعد وطن واپس آ گئے۔
لندن میں قیام کے دوران اقبال نے مختلف موضوعات پر لیکچروں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا، مثلاً اسلامی تصوّف، مسلمانوں کا اثر تہذیب یورپ پر، اسلامی جمہوریت، اسلام اور عقلِ انسانی وغیرہ,
مئی 1908ء میں جب لندن میں آل انڈیا مسلم لیگ کی برٹش کمیٹی کا افتتاح ہوا تو ایک اجلاس میں سیّد امیر علی کمیٹی کے صدر چُنے گئے اور اقبال کو مجلسِ عاملہ کا رُکن نامزد کیا گیا۔
اسی زمانے میں انھوں نے شاعری ترک کردینے کی ٹھان لی تھی، مگر آرنلڈ اور اپنے قریبی دوست شیخ عبد القادر کے کہنے پر یہ ارادہ چھوڑ دیا۔ فارسی میں شعر گوئی کی ابتدا بھی اسی دور میں ہوئی۔
یورپ پہنچ کر انھیں مغربی تہذیب و تمدّن اور اس کی روح میں کارفرما مختلف تصوّرات کو براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ مغرب سے مرعوب تو خیر وہ کبھی نہیں رہے تھے، نہ یورپ جانے سے پہلے نہ وہاں پہنچنے کے بعد۔ بلکہ مغرب کے فکری، معاشی، سیاسی اور نفسیاتی غلبے سے آنکھیں چرائے بغیر انھوں نے عالمی تناظر میں امتِ مسلمہ کے گزشتہ عروج کی بازیافت کے لیے ایک وسیع دائرے میں سوچنا شروع کیا۔
جولائی 1908ء میں وطن کے لیے روانہ ہوئے۔ بمبئی سے ہوتے ہوئے 25 جولائی 1908ء کی رات دہلی پہنچے۔
تدریس ،وکالت اور سماجی خدمات
ابتدا میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعر و شاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔ اقبال انجمن حمایت اسلام کے اعزازی صدر بھی رہے۔
اگست 1908ء میں اقبال لاہورآ گئے۔ ایک مہینہ کے بعد چیف کورٹ پنجاب میں وکالت شروع کردی۔ اس پیشے میں کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایم ۔ اے ۔ او کالج علی گڑھ میں فلسفے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تاریخ کی پروفیسری پیش کی گئی مگر اقبال نے اپنے لئے وکالت کو مناسب جانا اور دونوں اداروں سے معذرت کرلی۔ البتہ بعد میں حکومت پنجاب کی درخواست اور اصرار پر 10 مئی 1910ء سے گورنمنٹ کالج لاہور میں عارضی طور پر فلسفہ پڑھانا شروع کر دیا، لیکن ساتھ ساتھ وکالت بھی جاری رکھی۔اسی درمیان کئی اداروں اور انجمنوں سے تعلق بھی پیدا ہو گیا۔
18 مارچ 1910ء کو حیدرآبار دکن کا سفر پیش آیا۔ وہاں اقبال کے قدیمی دوست مولانا گرامی پہلے سے موجود تھے۔ اس دورے میں سر اکبر حیدری اور مہاراجہ سر کشن پرشاد کے ساتھ دوستانہ مراسم کی بنا پڑی۔23 مارچ1910ء کو حیدرآباد سے واپس آئے۔ اورنگزیب عالمگیر کے مقبرے کی زیارت کے لئے راستے میں اورنگ آباد اُتر گئے۔ دو دن وہاں ٹھہرے۔ 28 مارچ 1910ء کو لاہور پہنچے اور پھر سے اپنے معمولات میں مشغول ہو گئے۔ اب معلمی اور وکالت کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ آخرکار 31 دسمبر 1910ء کو گورنمنٹ کالج سے مستعفی ہو گئے، مگر کسی نہ کسی حیثیت سے کالج کے ساتھ تعلق برقرار رکھا۔ ایک گورنمنٹ کالج ہی نہیں بلکہ پنجاب اور برصغیر کی کئی دوسری جامعات کے ساتھ بھی اقبال کا تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ پنجاب، علی گڑھ، الہ آباد، ناگ پور اور دہلی یونیورسٹی کے ممتحن رہے۔ ان کے علاوہ بیت العلوم حیدرآباد دکن کے لئے بھی تاریخ اسلام کے پرچے مرتب کرتے رہے۔ بعض اوقات زبانی امتحان لینے کے لیے علی گڑھ، الہ آباد اور ناگ پور وغیرہ بھی جانا ہوتا۔ ممتحن کی حیثیت سے ایک اٹل اصول اپنا رکھا تھا عزیز سے عزیز دوست پر بھی سفارش کا دروازہ بند تھا۔
2 مارچ 1910ء کو پنجاب یونیورسٹی کے فیلو نامزد کیے گئے۔ لالہ رام پرشاد پروفیسر تاریخ گورنمنٹ کالج لاہور کے ساتھ مل کر نصاب کی ایک کتاب "تاریخ ہند”مرتب کی جو 1913ء کو چھپ کر آئی۔ آگے چل کر مختلف اوقات میں اورینٹل اینڈ آرٹس فیکلٹی، سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے ارکان بھی رہے۔ 1919ء میں اورینٹل فیکلٹی کے ڈین بنائے گئے۔ 1923ء میں یونیورسٹی کی تعلیمی کونسل کی رکنیت ملی، اسی سال پروفیسر شپ کمیٹی میں بھی لیے گئے۔ اپنی بے پناہ مصروفیات سے مجبور ہو کر تعلیمی کونسل سے استعفا دے دیا تھا مگر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سرجان مینارڈ نے انھیں جانے نہ دیا۔ اس طرف سے اتنا اصرار ہوا کہ مروتاً استعفا واپس لے لیا۔ اسی دوران پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کے بھی رکن رہے۔ میٹرک کے طلبہ کے لیے فارسی کی ایک نصابی کتاب ’’آئینہ عجم‘‘مرتب کی جو 1927ء میں شائع ہوئی۔ غرض، پنجاب یونیورسٹی سے اقبال عملاً 1932ء تک متعلق رہے۔
سیاست
علامہ اقبال کا مزار
بیسویں صدی کے عشرہ اول میں پنجاب کی مسلم آبادی ایک ٹھہراؤ میں مبتلا تھی۔ کہنے کو مسلمانوں کے اندر دو سیاسی دھڑے موجود تھے مگر دونوں مسلمانوں کے حقیقی تہذیبی، سیاسی اور معاشی مسائل سے بیگانہ تھے۔ ان میں سے ایک کی قیادت سر محمد شفیع کے ہاتھ میں تھی اور دوسرا سر فضل حسین بھی اپنے اپنے حمایتیوں کو لے کر پہنچے، طے پایا کہ پنجاب میں صوبائی مسلم لیگ قائم کی جائے۔ اس فیصلے پر فوری عمل ہوا۔ میاں شاہ دین صدر بنائے گئے اور سر محمد شفیع سکریٹری جنرل۔ سر فضل حسین عملاً الگ تھلگ رہے۔ اقبال کے ان سب قائدین کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے مگر عملی سیاست سے انھوں نے خود کو غیر وابستہ ہی رکھا
یکم فروری 1912ء کو موچی دروازہ لاہور میں مسلمانوں نے ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا، جس میں اقبال نےخطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’ مسلمانوں کو اپنی ترقی کے لیے خود اپنے ہاتھ پاؤں مارنے چاہیئں۔ اسلام کی تاریخ دیکھو وہ کیا کہتی ہے۔ عرب کے خطّے کو یورپین معماروں نے ردّی اور بیکار پتھر کا خطاب دے کر یہ کہہ دیا تھا کہ اس پتھر پر کوئی بنیاد کھڑی نہیں ہوسکتی۔ ایشیا اور یورپ کی قومیں عرب سے نفرت کرتی تھیں مگر عربوں نے جب ہوش سنبھالا اور اپنے دم پر کام کیا تو یہی پتھر دنیا کے ایوانِ تمدن کی محراب کی کلید بن گیا اور خدا کی قسم , روما جیسی باجبروت سلطنت عربوں کے سیلاب کے آگے نہ ٹھہر سکی ‘‘علامہ اقبال کے اس تقریر سے مجمع میں زبردست جوش و خروش پیدا ہوگیا,
13 اپریل، 1919ء کو امرتسر شہر کے جلیانوالہ باغ میں ایک احتجاجی جلسہ کیا گیا۔ رُسوائے زمانہ جنرل ڈائر نے لوگوں کو گھیڑے میں لے کر اندھا دھند فائرنگ کرواکرسیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتروادیا۔ گو کہ اقبال نے اس زمانے میں خانہ نشینی اختیار کر رکھی تھی لیکن اس حادثے کی دھمک ان کے دل تک بھی پہنچی۔ انھوں نے مرنے والوں کی یاد میں یہ اشعار کہے:
ہر زائرِ چمن سے یہ کہتی ہے خاکِ پاک
غافل نہ رہ جہان میں گروں کی چال سے
سینچا گیا ہے خونِ شہیداں سے اس کا تخم
تو آنسوؤں کا بخل نہ کر اس نہال سے
16 اپریل، 1922ء کو انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے سالانہ جلسے میں اقبال نے اپنی طویل نظم’’خضر راہ‘‘سنائی۔ عبدالمجید سالک وہاں موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ایک تو اس نظم میں اقبال کے شاعرانہ تخیل اور بدیع اسلوب کا جمال پوری تابانیوں کے ساتھ جلوہ گر تھا اور ایک ایک شعرت پر اربابِ ذوقِ وجد کر رہے تھے، دوسرے اس میں اقبال نے جنگ عظیم کے سلسلے میں فاتح اقوام کی دھاندلی، ان کی ابلیسانہ سیاست، سرمایہ داری کی عیارّی، مزدور کی بیداری پر مؤثر اور بلیغ تبصرہ کیا اور اسی سلسلے میں نسلی قومیت اور امتیاز رنگ و خون کے خیالات پر بھرپور چوٹ کی ہے ۔‘‘
جنوری 1923ء کو اقبال کو سَر کا خطاب ملا۔ ان کے پُرانے دوست میر غلام بھیک نیرنگ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب آپ شاید آزادیٔ اظہار سے کام نہ لے سکیں تو اقبال نے جواب میں تحریر کیا’’ میں آپ کو اس اعزاز کی اطلاع خود دیتا آپ اور ہم ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہیں، اس دنیا میں اس قسم کے واقعات احساس سے فرو تر ہیں۔ سیکڑوں خطوط اور تار آئے اور آ رہے ہیں اور مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ لوگ ان چیزوں کو کیوں گراں قدر جانتے ہیں۔ باقی رہا وہ خطرہ جس کا آپ کے قلب کو احساس ہوا ہے۔ سو قسم ہے خدائے ذوالجلال کی جس کے قبضے میں میری جان اور آبرو ہے اور قسم ہے اس بزرگ و برتر وجود صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جس کی وجہ سے مجھے خدا پر ایمان نصیب ہوا اور مسلمان کہلاتا ہوں، دنیا کی کوئی قوت مجھے حق کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ ان شاء اﷲ۔
30 مارچ 1923ء کو انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں اقبال نے اپنی معروف نظم ’’طلوع اسلام‘‘ پڑھی۔ یہ نظم یونانیوں پر ترکوں کی فتح کے واقعے پر لکھی گئی تھی۔ نظم کیا ہے، مسلمانوں کے روشن مستقبل کا پیغام ہے
دلیلِ صبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خومیںت
1926ء میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے انتخاب میں اقبال کامیاب قرار دے گئے کونسل کے اندر یونینسٹ پارٹی اکثریت میں تھی۔ اس کی قوّت کو مسلمانوں کے قومی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے اقبال یونینسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے مگر جب اس جماعت کی ناقابلِ اصلاح خرابیاں مشاہدے میں آئیں تو اقبال نے علیحدگی اختیار کرلی۔ باقی مدت ایک تنہا رُکن کی حیثیت سے گزار دی۔ اسی سال پنجاب کی صوبائی مسلم لیگ کے سیکریٹری بنائے گئے جس سے برّصغیر کی مسلم سیاست کا دروازہ ان پر کھل گیا۔ اب اقبال عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھ چکے تھے۔
’’میرے نزدیک تبلیغ اسلام کا کام اس وقت تمام کاموں پر مقدم ہے۔ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کا مقصد سیاسیات سے محض آزادی اور اقتصادی بہبودی ہے اور حفاظت اسلام اس مقصد کا عنصر نہیں ہے جیسا کہ آج کل کے قوم پرستوں کے رویّے سے معلوم ہوتا ہے، تو مسلمان اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔‘‘
2 جنوری 1929ء کو اقبال دہلی سے جنوبی ہند کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ وہاں الہٰیات اسلامیہ کی نئی تشکیل کے موضوع پر مدراس، میسور، بنگلور اور حیدرآباد دکن میں خطبات دیے۔ جنوری کے آخر میں لاہور واپس پہنچ گئے۔
1929ء ہی میں افغانستان کے ساتھ اقبال کے عملی تعلق کی ابتدا ہوئی۔ 17 جنوری 1929ء کو بچّہ سقّہ نے امیرامان ﷲ خان والیٔ کو افغانستان سے ملک بدر کر کے کابل پر قبضہ کر لیا۔ پورا ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ آخر جنرل نادر خان بچہّ سقاّ کی سرکوبی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اقبال انھیں جانتے تھے۔ علامہ نے مختلف ذرائع سے ان کی مدد کی۔
جنرل نادر خان کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے اقبال نے برّصغیر کے مسلمانوں کے نام ایک اپیل شائع کی جسے دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج ہم بھی اس کے مخاطب ہیں: ’’اس وقت اسلام کی ہزا رہا مربع میل سر زمین اور لاکھوں فرزندان اسلام کی زندگی اور ہستی خطرے میں ہے اور ایک درد مند اور غیور ہمسایہ ہونے کی حیثیت سے مسلمانان ہند پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ افغانستان کو بادِ فنا کے آخری طمانچے سے بچانے کے لیے جس قدر دلیرانہ کوشش بھی ممکن ہوکر گزریں۔‘‘
فلسطین میں یہودیوں کے بڑھتے ہوئے پُرتشدّد غلبے اور خاص طور پر مسجدِ اقصیٰ پر ان کے ناپاک قبضے کے خلاف ہندوستان بھر میں مسلمانوں کے احتجاجی جلسے ہو رہے تھے، 7 ستمبر 1929ء کو اقبال کی صدارت میں ایسا ہی ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ اقبال نے اپنے خطبے میں فرمایا: ’’یہ بات قطعاً غلط ہے کہ مسلمانوں کا ضمیر حبّ وطن سے خالی ہے۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ حبّ وطن کے علاوہ مسلمانوں کے دل میں دینیت و محبّت اسلام کا جذبہ بھی برابر موجود رہتا ہے اور یہ وہی جذبہ ہے جو ملّت کے پریشان اور منتشر افراد کو اکٹھا کر دیتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گاعلامہ اقبال کا انتقال 21اپریل 1938ءکو61سال کی عمر میں متحدہ ہندوستان کے مشہور شہر لاہور میں ہوئ جوتقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ بن گیا ہے علامہ اقبال کا مزار لاہور پاکستان میں واقع ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close