ادبی مضامین

علّامہ شوق نیموی۔میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جائوں گا

علامہ شوق نیموی ایک عبقری شخصیت ، مستند شاعر ، با کمال محقق ، بے مثال فقیہہ اور پایے درجے کے محدث کا نام ہے۔ ایک ایسی شخصیت جس نے صرف علاقائی، صوبائی یا ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر علمی شخصیتوں کو اپنے علمی و ادبی کارناموں سے متاثر، معاصرین و اکابرین کو اپنے تبحر علمی کا معترف بھی کیا۔ وہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔
علامہ شوق نیموی کی پیدائش اسی سر زمین زر خیز اور خطئہ مردم خیز بہار کے ایک گائوں نیمی ضلع پٹنہ میں 1860ء میں ہوئی جو ادبی حلقوں میں آج بھی عظیم آباد کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس دبستان عظیم آباد اور اس سے وابستہ باکمال ادبی ہستیوں نے ہر عہد میں علم وادب کی آبیاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، اپنے کارناموں سے اپنی باوقار موجودگی کا احساس دلایا اور اپنی خدمات سے عظیم آباد کی عظمت میں چار چاند لگا دیے ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم نے بزرگوں اور اسلاف کو یاد رکھنے کے معاملے میں اپنے طرز تغافل سے بہار کی مردم خیزی کو مردم خوری میں تبدیل کردیا اور ان گوہر نایاب کو بھی فراموش کردیا جنھوں نے اپنی مدت حیات میں ہی لوگوں کو اپنی صلاحیت کا قائل کرکے یہاں کی عظمت کا پرچم بلند کردیا تھا،جو ہمارے لیے سرمایہ افتخار تھے اور آج بھی ہیں ،ان کے تہہ خاک جاتے ہی ہم نے اپنے خانہ دل تو کیا اپنے ذہن کے کسی گوشے میں بھی انھیں رکھنا روا نہیں رکھا ، اسے ہم صرف اپنی حرماں نصیبی ہی کہہ سکتے ہیں۔ میںاپنے اس کرب کے اظہار میں کوئی نیا نہیں ہوں اور نہ تفرد کا کوئی دعوی ہے ۔ آپ جب یہاں کے شعراء وادباء کا مطالعہ کریں گے تو اشارۃ یا صراحۃ اس کرب کا اظہار ضرور محسوس کریں گے ۔ شاد جیسا عظیم شاعر جب یہ کہے کہ:
پردہ پوشان وطن تجھ سے یہ بھی نہ ہوا
ایک چادر کو ترستی رہی تربت میری
اور شوق نیموی جیسی باکمال ہستی کو بھی یہ کہنا پڑ جائے کہ:
وہ خاک قبر پر آئے گا فاتحے کو میرے
جو دو قدم بھی جنازے کے ساتھ چل نہ سکا
تو ہمیں اپنے اس رویے میں تبدیلی کے سلسلے میں غور وفکر کرنا ہوگا۔
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
ممکن ہے بظاہر بے ربط سی معلوم ہوتی ہوئی یہ تحریر آپ کی طبیعت پر بار گزر رہی ہوگی لیکن شاعر کے مذکورہ احساس کے بر خلاف میری پوری کوشش یہی ہوگی کہ آپ اس تحریر کو حرف بہ حرف سمجھیں اور اس سے اتفاق بھی کریں ۔اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی اس کوشش میں ضرور کامیاب ہو جا ئوںگا۔
علامہ شوق نیموی کی شخصیت کا جب ہم نے گہرائی سے مطالعہ کیا تو انھیں مختلف میدان علم کا ماہر و کامل پایالیکن میری نظر میں ان کی شخصیت کے دو نمایاں اور روشن پہلو ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ شعر و سخن کا عمدہ ذوق رکھتے تھے ، مستند شاعر تھے، اورچوں کہ شوق نیموی کی پیدآئش اور پرورش و پرداخت ایک مہذب اور علمی گھرانے میں ہوئی تھی ، ان کے والد شیخ سبحان علی خود ایک ذی علم انسان تھے ۔ چناںچہ بچپن ہی سے ان کی ذات پر ان چیزوں کے اثرات نمایاں تھے، وہ حصول علم کی طرف آغاز عمر میں ہی متوجہ ہو گئے ، شوق نیموی فطرتاً شاعر تھے اور کم عمری میں ہی اشعار موزں کر لیا کرتے تھے، اپنی شعر گوئی کے حوالے سے اپنی خود نوشت’’یادگار وطن‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں :۔’’لڑکپن میں خدا نے طبیعت ایسی موزں بنائی تھی کہ جب میں گلستاں ہی پڑھتا تھا تو فی البدیہہ شعر موزں کر لیتا تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ بیت بازی کے مقابلے میں حریف سے کبھی شکست نہیں ہوئی،بارہا ایسا ہوا کہ حریف کو بھی کسی خاص حرف کے اشعار بہت یاد تھے ۔ جن کی وجہ سے مجھ کو دقت پڑتی، مگر جب استادکا کوئی شعریاد نہیں آتا تو نظم کرکے جواب دے دیتااور ان بے چاروں کو یہ وہم تک نہ ہوتاکہ یہ شعر اس کا طبع زاد ہے۔‘‘ یہ سب صلاحیتیں شوق نیموی میںاللہ نے ودیعت تو رکھی ہی تھیں۔ لیکن جب حصول علم کی غرض سے اس وقت کے علمی و ادبی مرکز لکھنئو کا سفر کیا اور وہاں شمشاد لکھنوی اور تسلیم لکھنوی جیسے بڑے شعراء کی شاگردی اختیار کی تو ان کی اصلاح وتربیت نے شوق نیموی کے فن کو پختگی اور ادبی وشعری صلاحیت کو عروج و سر بلندی بخشنے کا کام کیا اور لکھنئو قیام کے دوران ہی انھیں ایک قادر الکلام اور باکمال شاعروں کی صف میں شمارکیا جانے لگا ۔شوق نیموی کی شعری عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہم عصر اور نامور شعراء میں سے داغ دہلوی، تسلیم لکھنوی ، احسن مارہروی اور حسرت عظیم آبادی جیسے بڑے شاعروں نے بھی ان کی شعری خوبیوں کو سراہا۔ اور آزاد ہند کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد جیسی نابغہ روزگار شخصیت جن کی فکری بلندی اور بالیدہ ذوق کاہر شخص معترف ہے ۔ وہ بھی با ضابطہ طور پران سے شعر وسخن کی اصلاح لینے لگے اور نہ صرف شوق کی شاگردی اختیار کی بلکہ ان کی شاگردی پر فخر بھی کیاجس کا تذکرہ انھوں نے’’ آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی ‘‘میں’’ شاعری میں شاگردی ‘‘کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ اقتباس۔
’’ اس زمانے میں ایسا ہوا کہ شاعری کے متعلق کتابوں کی جستجو میں رسالہ ’’اصلاح‘‘ اور ازاحۃ الاغلاط‘‘ لکھنئو سے منگوایا۔ یہ دونوں رسالے مولوی ظہیر احسن شوق نیموی کے تھے‘ اور فوائد متعلقہ ، شعر گوئی اور مبحث متروکات و تصحیح الفاظ میں بہت مفید ہیں۔ان رسالوں سے ان کی دیگر تصانیف کا حال معلوم ہوا ‘ اور پھر پٹنہ سے براہ راست انھیں لکھ کر تمام کتابیں منگوائیں۔ ان میں’’ سرمئہ تحقیق ‘‘اور ’’یادگار وطن‘‘ بھی تھی۔ اس وقت جیسی طبیعت اور معاملات تھے ‘ اس کے لحاظ سے ان حالات کا بہت زیادہ اثر پڑا اور ان کی شاعرانہ واقفیت دل پر نقش ہو گئی۔نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے ان سے خط و کتابت کی اور اصلاح لینا شروع کر دیا۔ اس میں شک نہیں کہ وہ بہت جی لگاکر اصلاح دیتے تھے اور بعض اوقات غزل کے ساتھ ایک ایک صفحے کے فوائد بھی‘ جن کا کچھ تعلق اشعار زیر اصلاح سے ہوتا تھا ‘ لکھتے تھے۔‘‘ ( آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی ، ص 149,148) اس کے علاوہ شوق نیموی کے بیٹے مولانا عبد الرشید فوقانی کی ملاقات جب کلکتہ میں مولانا آزاد سے ہوئی تو انھوں نے اس کا تذکرہ ان کے سامنے بھی کیا ۔ یہ واقعہ بالتفصیل عبد الرشید فوقانی کی کتاب ’’القول الحسن ‘‘ کے صفحہ170 پر درج ہے ۔ شاعری میں مولانا آزاد کی شاگردی کے سلسلے میں مشہور اہل علم جناب مالک رام اپنے علمی مجلہ ’’تحریر‘‘ میں لکھتے ہیں ۔
’’مولانا آزاد نے امیر مینائی مرحوم اور داغ مرحوم سے ابتداء میں اصلاح لی مگر اصلاح پسند نہ آئی تو ظہور میرٹھی سے جو نسبتاً کم معروف تھے اپنے کلام پر اصلاح لینے لگے، اس کے بعد تا آخر مشق سخن مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کے حلقئہ تلمذ میں داخل رہے۔‘‘(مجلہ تحریر ، 1968 ) ۔یہ وہی مولانا آزاد ہیں جنہوں نے غبار خاطر میں ایک جگہ ذوق ؔکے اشعار کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار اس طور پر کیا کہ ذوقؔ کے اشعار میں ہم اپنا ذوق نہیں پاتے۔ گویا ذوقؔ کو خاطر میں نہ لانے والا شخص شوقؔ کی شاگردی پر فخر کر رہا ہے۔ شوق نیموی کے شاگردوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے ،اپنی خود نوشت ’’یادگاروطن‘‘ میں انھوں اپنے باضابطہ اور صاحب دیوان شعراء شاگردوں کی تعداد 17 شمار کی ہے ۔ آزاد کے علاوہ شوق کے شاگردوں میں ضیاء عظیم آبادی اور زبیر دہلوی جیسے بڑے شاعروں کا بھی نام آتا ہے۔ علامہ کاخود اپنے اشعارکے بارے میں واضح نقطئہ نظر یہ تھاکہ:
وہی اشعار جن میں لطف کچھ رہتا ہے رکھتے ہیں
غزل میں شوق ہم بھرتے نہیں ہر رطب و یابس کو
یہ تو شوق نیموی کی شخصیت کی ایک جہت تھی جس سے کسی نہ کسی حدتک لوگ واقف ہیں لیکن میں آپ کی توجہ ان کی شخصیت کے ایک اور نمایاں اور روشن باب کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جس سے عموماً لوگوں کی واقفیت کم ہے۔ جب کہ وہ ایک ایسا درخشاں پہلو ہے کہ جس نے انھیں شوق نیموی سے علامہ شوق نیموی بنا دیااور وہ یہ ہے کہ انھوں نے علم حدیث کے میدان میں بھی ایک بڑے حلقے کو متاثرکیا ہے اور فن حدیث میں’’ آثار السنن ‘‘ جیسی لازوال اور بے مثال تصنیف چھوڑی جس نے اس وقت کے اکابرین اورمشائخ علماء کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ چناں چہ مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ جن کا شمار ہندوستان کے مشہور عالموں میں ہوتا ہے اور خاص طور پر فن حدیث میں انھیں بڑا مقام حاصل ہے ، انھوں نے اپنی تصنیفات میں کثرت کے ساتھ علامہ نیموی کی تحقیقات تحریر کی ہیں اور بذل المجہود کی مستفاد کتابوں کی فہرست میں آثار السنن اور اس کی تعلیق کو بھی شمار کیا ہے ۔ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی کتاب اعلاء السنن میں جا بجا علامہ نیموی کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے اور بطور سند انھیں پیش کیا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا سہارنپوریؒ نے جب مؤ طا امام مالک کی شرح اوجزالمسالک لکھی تو علامہ نیمویؒ کی تحریروں کو حوالے کے طور پر پیش کیا ۔اسی طرح مولانا حکیم عبد الحیی لکھنویؒ،مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒاورشیخ عبد الحق مہاجر مکی ؒ جیسے ماہرین علم حدیث کو انھوں نے اپنے تبحر علمی کا معترف کیا ، لیکن ان اکابرین کے علاوہ بھی ایک اور شخصیت جو علامہ شوق نیموی ؒ کی علمی صلاحیت سے سب سے زیادہ متا ثر ہوئی اور اس گوہر نایاب کی قدر و قیمت کا کھل کر اعتراف کیا وہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ہے۔آخر جن کے نام میں شاہ لگا ہوا ہو‘ اور فن حدیث میں جن کی حیثیت جوہری کی ہو وہ اس گوہر نایاب کی قدر وقیمت کو نہ پہچانتے تو اور کون پہچانتا؟ جب کہ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ ’’ قدرے گوہر شاہ داند یا بداند جوہری‘‘۔ چنانچہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے یہ اعتراف کیا کہ ’’ تین سو برس سے ہندوستان میں اس پایے کا محدث پیدا نہیں ہوا ۔‘‘(ہندوستانی مسلمان،ص ۵۰) ، واضح ہو کہ علامہ کا یہ اعتراف آج سے 114 سال قبل کا ہے ۔ گویا آج کے تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی چار صدی میں اس پایے کا محدث ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا ، اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے مجھے مشہور شاعر عرب ابو الطیب المتنبی کے شعر سے زیادہ بلیغ کوئی شعر نظر نہیں آتا کہ:
مضت الدھور وما اتین بمثلہ
ولقد اتی فعجزن عن نظرائہہ
(ترجمہ:زمانے گزر گئے اور ان جیسا کوئی نہیں آسکا اور اگر آبھی جائے تو اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر رہ جائے۔)
یہی نہیں بلکہ علامہ انور شاہ کشمیری جب طلبہ کو درس حدیث دینے جاتے تھے تو بطور ریفرنس اور حوالہ علامہ شوق نیمویؒ کی آثار السنن کو ساتھ میں رکھتے تھے،انھوں نے شوق نیموی کی شان میں عربی زبان میں دو طویل قصیدے بھی لکھے ہیں جو آثار السنن کے اخیر میں مذکوربھی ہے، ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ عظیم آباد آکر علامہ شوق نیمویؒ سے ملاقات کرتے لیکن قبل اس کے وہ آتے پیام اجل آپہونچا اور ان کی آرزو ‘ آرزو ہی رہ گئی ۔
ہم ان کی شخصیت کے مذکورہ دونوں جہتوں کو سامنے رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شخصیت اس شعر کی حق دار تھی کہ:
برکفے جام شریعت ،برکفے سندان عشق
ہر ہوسناکے نداند ، جام و سنداں باختن
علامہ شوق نیموی نے اپنے44 سالہ مختصر سے عرصئہ حیات میں بہت سی کار آمد ،مفید ،معلوماتی اور عمدہ تصانیف چھوڑی ہیں ۔مثلاً ’’ازاحۃ الاغلاط ‘‘ یہ فارسی زبان کا ایک مفید رسالہ ہے ،1893ء میں قومی پریس لکھنؤ سے شایع ہوا ۔ ’’اصلاح‘‘ یہ اصلاح زبان کے حوالے سے لکھا گیا انتہائی مفید اور اہم رسالہ ہے اور اردو زبان وبیان کی درستگی کے لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے ، 1893ء میں قومی پریس لکھنؤ سے شایع ہوا ۔ ’’سرمئہ تحقیق‘‘ یہ رسالہ جلال لکھنوی کے اعتراضات کی رد میں لکھا گیا ہے ، 56صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ ان کا شعری مجموعہ ’’ دیوان شوق‘‘ کے نام سے نور الہدی نیموی نے مرتب کیا جو ان کے انتقال کے بعد 1326 ھ میں مطبع سیدی پٹنہ سے شایع ہوا۔’’نغمئہ راز‘‘ یہ اردو زبان میں لکھی گئی ایک پردرد مثنوی ہے ، جس پر قطعئہ تاریخ ہندوستان کے مشہور شاعر امیرمینائی کا درج ہے ، یہ کتاب 38صفحات پر مشتمل ہے اور 1303ھ میں قومی پریس لکھنؤ سے چھپی۔ ’’سوزو گداز‘‘ یہ شوق نیموی کی معرکۃ الآراء مثنوی ہے، جس پر قطعئہ تاریخ مشہور شاعر داغ دہلوی نے لکھا ہے ، نظامی پریس پٹنہ سے 1312ھ میں چھپی ، 46صفحات پر مشتمل ہے ۔ ’’یادگار وطن‘‘ یہ شوق نیمی کی خود نوشت سوانح ہے ۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی تصانیف ہیں جن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے اور لوگوں نے ان تمام کتابوں کو پڑھ کر ان کی عظمت کا اقرار بھی کیا ہے، لیکن فن حدیث میں لکھی گئی ان کی تصنیف آثار السنن کو شاہکار کی حیثیت حاصل ہے ، اس کتاب کے ما بہ الامتیازپر اگر ہم غور کریں تو اس کا سب سے بڑا امتیاز یہ نظر آتا ہے کہ علامہ شوق نیموی کا تحقیقی رنگ اس میں نمایاں ہے اور اسے پڑھ کر ان کی گراں قدر تحقیقات بلکہ ان کے صاحب رائے ہونے کا اندازہ ہوتا ہے ، متن کتاب میں 47 اور تعلیقات کی شمولیت کے ساتھ150مقامات پر علامہ شوق نیموی نے مظبوط دلائل کی روشنی میں ’قال النیموی‘ کے ذریعے اپنی رائے کا برملا اظہار کیا ہے اور ایسی نادر تحقیقات پیش کی ہیں جس پر متقدمین و متأخرین علماء کی زبانیں خاموش نظر آتی ہیں ، گویا اس زاویے سے یہ کہنا چاہیے کہ وہ اپنی بعض تحقیقات میں موجد کی حیثیت رکھتے ہیں یقینایہ ان کی علمی صلاحیت کی واضح دلیل ہے اور اس کتاب کی عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ علامہ شوق نیموی کی آثار السنن آج بھی مختلف مدارس اور دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں داخل نصاب ہے۔ اور ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں بھی نصاب کا حصہ رہی ہے ۔
مذکورہ تفاصیل کی روشنی خلاصئہ تحریر کے ظور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان کی شخصیت ایک متوازن شخصیت تھی ،ان کی عظمت ملکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی گئی ، علامہ شوق نیموی 1904ء میں زبان حال سے دنیا کو یہ پیغام دیتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوئے کہ:
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جا ؤں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جا ؤں گا

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close