بین الاقوامیسیاست

عمران خان پاکستان کے نئے کپتان

بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے ،دوطرفہ تجارت کوفروغ دینے اور کشمیر مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کے لئے تیار

اسلام آباد: ‘نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ عام انتخابات لڑنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان کے سر پر فتح کا سہرا سجنا تقریبا طے ہوگیا۔ ان کی پارٹی 115 سیٹوں پر برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ اہم اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) 64 اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 42 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ حافظ سعید کے امیدواروں کا صفایا ہو گیا۔بدعنوانی کے معاملے میں راولپنڈی کی جیل میں بند سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ (ن) اور مسٹر بلاول بھٹو کی قیادت والی پی پی پی نے ووٹوں کی گنتی میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے اب تک کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ مسٹر نواز شریف کے بھائی شہباز شریف اور مسٹر بلاول بھٹو الیکشن ہار گئے ہیں۔ حافظ سعید کی حمایت یافتہ پارٹی ‘اللہ اکبر نے 265 امیدوار کھڑے کئے تھے مگر پارٹی کھاتہ کھولنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ سال 1992 میں اپنی کپتانی میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والے عمران خان کی جیت کی امید سے پاکستان میں شیئر بازار کافی برتری کے ساتھ کھلاہے۔ پاکستان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ انتخابی نظام ٹھیک رہا۔ رپورٹ کے مطابق 50 فیصد سے زیادہ پولنگ ہوئی۔ قومی اسمبلی میں کل 342 نشستیں ہیں جن میں سے 272 سیٹوں پر انتخاب ہوتے ہیں۔ 60 نشستیں خواتین کے لئے جبکہ دس نشستیں اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ 272 میں سے دو سیٹوں پر الیکشن نہیں ہوا ہے اور حکومت بنانے کے لئے 137 سیٹیں درکار ہیں۔ انتخابی نتائج کل شام سے آنے شروع ہوئے لیکن تقریبا 16 گھنٹے گزر جانے کے بعدبھی مکمل نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ کئی مقامات پر دھاندلیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی جہاں جشن منارہے ہیں وہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی۔ جیت کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں عمران خان نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ساتھ ہی کشمیر مسئلے کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے، دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور تعلقات کو بہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے۔ عمران نے کہا کہ آپ ایک قدم اٹھائیں تو ہم دو قدم اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستانی میڈیا نے مجھے بالی ووڈ کے ویلن کے طورپر پیش کیاہے لیکن میں ایسا نہیں ہوں۔ میں خطے میں قیام امن کے ساتھ غربت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کام کرناچاہتا ہوں۔ انتخابی دھاندلی کے الزام پر انہوں نے کہا کہ ہم اس کی جانچ میں مکمل تعاون کریں گے اور جس حلقے میں بھی دھاندلی کی شکایت ہوگی، اسے ہم کھلوا کردیکھیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close