سیاستہندوستان

عوام فیصلہ کرے کہ پردھان سیوک ایماندار چاہئے یا چغل خور اور ناکارہ: وزیر اعظم

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہکے روز کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں ملک کے ووٹروں کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ مرکز میں مضبوط حکومت چاہتے ہیں یا مجبور حکومت۔ ووٹروں کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں رات دن کام کرنے والا ایک وفادار خادم چاہئے یا ایک چغل خور اور ناکارہ خادم۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قومی کونسلکے دو روزہ اجلاس میں اپنے اختتامی خطاب میں مودی نے کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات راج شاہی بمقابلہ لوک شاہی اور سلطنت بمقابلہ آئین کی جنگ ہے۔ انہوں نے ملک کو آگاہ کیا کہ عوام کی ملکیت کو اپنی ذاتی ملکیت ماننے والے بدعنوان لوگ مرکز میں مجبور حکومت چاہتے ہیں تاکہ لوٹ کھسوٹ کا ان کا کھیل چلتا رہے۔
کانگریس پارٹی پر بدعنوانی اور ملک میں پھوٹ ڈالنے کی سیاست کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس پارٹی کے رہنماؤں نے ملک کے آئینی اداروں کا کبھی احترام نہیں کیا۔ بدعنوانی میں گھرے ہوئے لیڈر ہمیشہ قانون سے بچنے کی کوشش میں لگے رہے۔ ان لیڈروں نے عدلیہ، الیکشن کمیشن اور مختلف جانچ ایجنسیوں پر حملے کئے اور انکو نظر انداز کیا۔
مودی نے اپنے تقریبا ًڈیڑھ گھنٹے کے خطاب میں آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے عظیم اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کسی نظریے یا ملک کی ترقی کے نقطہ نظر پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ اتحاد صرف ایک شخص کے خلاف ہو رہا ہے۔ انہوں یاد دلایا کہ کانگریس کی مخالفت میں پیدا ہوئی یہ سیاسی جماعتیں آج کانگریس کے سامنیسرینڈر کر رہی ہیں۔ ان اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو یاد رکھنا چاہئے کہ عوام نے انہیں کانگریس کے متبادل کی شکل میں حمایت دی تھی۔ اب یہ رہنما عوام کے ساتھدھوکہکر کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے میں لگے ہیں۔
کانگریس کے رہنماؤں پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مودی نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ پراپرٹی قبضہ کے معاملہ میں ضمانت پر رہا رہنما ان کی حکومت پر بدعنوانی کے الزام لگا رہے ہیں۔ کانگریس کے لیڈروں کو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ بغیر بدعنوانی کے حکومت چلائی جا سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس لیڈروں نے سرکاری خزانے کو اپنی ذاتی تجوری میں تبدیل کر دیا تھا۔ من مانے طریقے سے اپنے چہیتوں کو بغیر تحقیقات اپنا رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ کروڑوں اربوں روپے کے قرض تقسیم کئے۔ آزادی کے بعد 60 سالوں میں 18 لاکھ کروڑ روپے کے قرض دیے گئے تھے لیکن کانگریس کے 2008 سے 2014 کے 6 سال کی مدت میں 52 لاکھ کروڑ روپے کے قرض تقسیم کئیگئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب 2014 میں انہوں نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو انہیں ملک کے بینکاری نظام پر آئے اس بھاری بوجھ کی اطلاع ملی۔ انہوں نے ان قرضوں کے بارے میں اس وقت ظاہر نہیں کیا کیونکہ ایسا کرنے کے معیشت میں افرا تفری پھیل جاتی۔
مودی نے کہا کہ کانگریس کے لیڈروں کو نہ قانون پریقین ہے، نہ سچائی پر اور نہ ہی آئینی اداروں پر۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے اپنی ساڑھے چار سال کی مدت میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ حکومت بغیر بدعنوانی کے چلائی جا سکتی ہے۔ اس حکومت نے اقتدار کے گلیاروں سے دلالوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور لوگوں میں یہ یقین پیدا کیا ہے کہ عام آدمی کے مفاد میں ملک میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کے خلاف جانچ ایجنسیوں کی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ کانگریس لیڈر انہیں جیل بھیجنے کی سازش میں لگے تھے۔ کانگریس کے ایک مرکزی وزیر نے کھلے عام کہا تھا کہ مودی تو جیل جانے والا ہے۔ گجرات اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر کہتے تھے کہ اب وزیر اعلیٰ کے عہدے چھوڑ کر جیل جانے کی تیاری کرو۔ کانگریس کی ان سازشوں کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے قانونی طریقہ کار پر عمل کیا اور تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کیا۔
مودی نے کہا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انہیں 12 سال تک کانگریس نے ستایا۔ ایسے مقدمے دائر کئے گئے جن کے ذریعے انہیں پھنسایا جا سکے۔ ان ساری سازشوں کے باوجود انہیں ملک کے قانون اور سچائی پریقین تھا اور وہ خود سپریم کورٹ کے خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے سامنے حاضر ہوئے۔ انہوں نے ضلع سطحی پولیس افسر کے سامنے 9 گھنٹے تک اپنی صفائی دی۔یہ سب انہوں اس یقین کے ساتھ کیا کہ آخر میں حق کی جیت ہوگی۔ مودی نے کہا کہ حال ہی میں سہراب الدین تصادم معاملے میں ممبئی کی عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس طرح سے کانگریس حکومت نے انہیں اور امیت شاہ کو پھنسانے کی کوشش کی۔
مرکز میں مضبوط حکومت بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ بدعنوانی میں ملوث لوگ ایک مجبور حکومت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ‘ہم مضبوط حکومت چاہتے ہیں تاکہ کسانوں کو فصلوں کی مناسب قیمتیں ملیں۔ اپوزیشن لیڈر مجبور حکومت چاہتے ہیں تاکہ یوریا گھوٹالہ کیا جاسکے۔ ہم مضبوط حکومت چاہتے ہیں تاکہ آیشمان بھارت جیسی مفت صحت کی خدمات چلائی جا سکیں، وہ مجبور حکومت چاہتے ہیں تاکہ صحت کی خدمات میں گھوٹالہ کیا جاسکے۔ ہم مجبور حکومت چاہتے ہیں تاکہ ملک کے فوج کی دفاعی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے، وہ مجبور حکومت چاہتے ہیں تاکہ دفاعی سودوں میں دلالی کھائی جا سکے، ہم مضبوط حکومت چاہتے ہیں جس سے ملک کا کسان مضبوط بنے، وہ مجبور حکومت چاہتے ہیں تاکہ قرض معافی میں گھوٹالہ کیا جاسکے ‘۔
خود کو 18 گھنٹے تک مکمل ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ کام کرنے والا خادم بتاتے ہوئے انہوں نے ملک شہریوں سے پوچھا کہ انہیں کیسا پردھان سیوک چاہئے؟
انہوں نے کہا کہ ‘کیا آپ ایسے خادم پسند کریں گے جو آپ کے گھر کا پیسہ چوری کرے اور پڑوسیوں کو گھر کی بات بتائے۔ آپ کو دن رات کام کرنے والا خادم چاہئے یا موج مستی کرنے کے لئے چھٹیوں پر رہنے والا خادم چاہئے۔ انہوں ووٹروں سے کہا کہ جس بنیاد پر گھر کا خادم طے کرتے ہیں ویسے ہی آپ کو ملک کا پردھان سیوک مقرر کرنا چاہئے ‘۔
مودی نے بی جے پی کارکنوں کو آگاہ کیا کہ وہ آئندہ انتخابی مہم میں ان کے ہی اوپر انحصار نہ رہیں۔ یہ نہ سوچیں کہ مودی آئے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی تنظیم کی پیدائش ہیں اور تنظیم کے ذریعے ہی فتح کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اجودھیا میں رام مندر مسئلے کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنے وکلاء کے ذریعے عدالتی عمل میں رکاوٹ پہنچانے کی کوشش کی۔ ملک کے لوگوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کانگریس اجودھیا کیس کاحل نہیں چاہتی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے اور تمام اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں۔ اتنا یقین ہے کہ حکومت صحیح راستے پر پورے عزم کے ساتھ ایمانداری اور شفافیت سے آگے بڑھ رہی ہے اور آنے والے سالوں میں ہم ملک کو دنیا کالیڈر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close