اسلامیات

عید قرباں، عشقِ الٰہی کا عظیم مظہر!

تحریر: عاصم طاہر اعظمی
اللہ جل مجدہ کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی بندہ نارِ جہنم کا ایندھن بنے، اِسی لیے اس نے اپنے انبیائے کرام کے ذریعے اپنے بندوں کے لیے جنت کے راستے ہموار کیے اور ایسے ایسے عظیم اور آسان طریقے اور ذرائع مقرر کیے کہ جنہیں اپناکر انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوجاتا ہے، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے محفوظ ہوجاتاہے اور جنت الفردوس اس کا مقدر بن جاتی ہے، اُن طریقہ جات اور ذرائع میں سے قربانی کرنا بھی ایک ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوجاتی ہے اور اس کی دنیا و آخرت بھی سنور جاتی ہے.
عید قرباں اسلام کا دوسرا عظیم تہوار ہے جو اپنی اہمیت ،فضیلت ،معنویت،اور روحا نیت کے حوالے سے منفرد شنا خت اور خصوصیات کا حامل ہے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا عمل ایک طرف قرب خداوندی رضائے الہی اور پروردگار عالم کی خوشنودی کا با عث ہے تودوسری طرف ہر قدم پر سرفروشی، قربا نی، جاں نثاری اور صبر وشکر سے لبریز ہونے کے پیغام سے سرشار ہے، قربا نی ایک ایسا عمل ہے جو امت مسلمہ کی طرح سابقہ امتوں کی متنوع عبادات کا اٹوٹ حصہ رہا ہے ،البتہ طریقہ کار اور قبولیت کے مدار و شرائط مختلف رہے ہیں، یہود ونصاری کے ہاں بھی قربا نی کا تصور ملتا ہے، ایرانیوں کے یہاں بھی فلسفہ قربا نی موجود ہے ،اور ہندوستان کے دیگر مذا ہب کے یہاں بھی قربا نی کا عملی اظہار ہو تا ہے، اور اسے مختلف الفاظ کا لباس پہنا کے کسی نے نروان،،تو کسی نے بلیدان،،اور کسی نے بھینٹ ،،سے مو سوم کیا ہے مذہب اسلام میں اسے قربانی اور نحر کے سا تھ مختص کیا گیا ہے،
احادیث مبارکہ میں قربانی کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ابن آدم کا نحر (یعنی قربانی کا دن)ایسا کوئی عمل نہیں جو اللہ تعالی کے نزدیک خوں بہانے ( یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب ہو،اور قربانی کا جانور قیامت کے دن سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہو کر) آئیگا اور قربانی کا خون زمین گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی رضا اور قبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، پس اے اللہ کے بندو:دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کیا کرو،
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
مَنْ کَانَ لہ سعۃ فلم یضح ، فلا یقربن مصلانا (رواہ ابن ماجۃ:، 3123)
’’جو آسودہ حال ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے،
احکاماتِ خداوندی کو بجا لانے میں اخلاص کا ہونا بے حد ضروری ہے، نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کا فرمانِ مقدس ہے: ’’ بے شک! اللہ تعالیٰ تمہاری طرف اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا، بل کہ وہ تو تمہاری نیت کو دیکھتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرمایا، ’’ اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بل کہ اُسے تو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘
عیدِ قرباں کے منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر بھی وہ روحِ ایمانی پیدا ہو جس کا عملی مظاہرہ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ اور سیدنا اسمٰعیل ذبیح اللہ نے ہزاروں سال قبل کیا تھا لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ یہ عظیم الشان دن بھی فقط ایک تہوار بن کر رہ گیا اہلِ ثروت لوگ اس مقدس تہوار پر بھی نمود و نمائش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے جس سے معاشرے کے غریب اور نادار طبقوں میں اس روز احساسِ کمتری پوری شدت سے جنم لیتا ہے آج امتِ مسلمہ جن مسائل اور حالات سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اپنے دینی شعار کی اصل روح کو بھلا دیا، دنیا کی چاہت اور دیکھا دیکھی اپنے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام سے کوسوں دور ہو چکے ہیں اور دنیا تو ایسی ظالم ہے کہ جس کے بارے میں اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان مقدس ہے: ’’دنیا ایک مردار ہے، اور اس کے پیچھے ہرگز مت بھاگنا‘‘
چندسالوں سے ہمارے شہری و دیہی معاشروں میں قربانی کے گوشت کو فریز کرنے کا کلچر رواج پاگیا ہے، اس کلچر سے نجات پانے کی بھی ضرورت ہے، اسوۂ حسنہ کے مطابق قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہئے، ایک حصہ اپنے لیے، ایک اعز و اقارب کے لیے اور ایک غربا کے لیے،
عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ قربانی کے جانوروں کی گندگیوں کو گلی محلے میں چھوڑ دیتے ہیں یہ طریقہ اسلام کی روح اور حفظان صحت کے اصولوں کے سخت منافی ہے قربانی اگر دینی فریضہ ہے تو صفائی بھی نصف ایمان ہے، ہمیں عید قربان کے موقع پر صفائی کا بے حد خیال رکھنا چاہیے،
اللہ جل مجدہ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close