مضامین

غذائی اشیا تو موجود ہے ، مگر بھوک پھر بھی مٹتی نہیں

بشر’ی ارم
غذا انسان کی وہ ضرورت جسکا پورا نہ ہونا اسے موت کی دہلیز پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اور ایک دن انسان موت کی آغوش میں قید ہوکر اس دنیا سے رہائی اختیار کر لیتا ہے۔ پچھلے سال جھارکھنڈ سے ایک چہرہ جو اخباروں اور ٹیلی ویژن کی سرخیوں کا خاص حصہ رہا جس پر بہت تبصرے ہوئے ، جو اب ہماری سماعتوں سے اس قدر دور ہے کہ دماغ پر زور ڈالنے سے ہی یاد آ پاتا ہے ، ایک ایسا چہرہ جسےہم کوئیلی دیوی کے نام سے جانتے تھے، جس نے پورے ہندوستان کو کھانے کی اہمیت اور اس کے نہ میثر ہونے پر پیش آنے والے حادثہ سے روبرو کروایا اور تمام افراد کوجو اس ملک کا حصہ ہیں ،اپنا درد محسوس کرنے پر مجبور کردیا کہ کسطرح آدھار کارڈ کا راشن کارڈ سے نہ لنک ہونا ایک ماں کو اسکی معصوم بچی کی موت دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے، کس طرح ایک معصوم بچی بھات بھات کی رٹ لگاتی ہوئی اپنی ماں کی آغوش میں دم توڑ دیتی ہے ، اس ماں کی آغوش میں جو خود بھی بھوکی ہے ، اور اس چاول کہ میثر نہ ہونے پر موت اسے نگل لیتی ہے جو ایک بچے کی متوازن غذا بھی نہیں۔ نہ جانے ہر روز غذا کے قلت کی وجہ سے کتنے افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ کوئیلی دیوی کے معاملے میں آدھار کارڈ کا لنک نہ ہونا موت کی وجہ بنا ، مگر کیا ہر بار جب کوئی شخص بھوک سے مرتا ہے تو وجہ آدھار کارڈ ہی ہوتا ہے جواب ہے نہیں ۔لیکن ہر مرتبہ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص بھوک سے تڑپ تڑپ کرمر جائے تو حکومتیں ان کو ششوں کی راہ میں گامزن ہو جاتی ہیں کے کسطرح اس موت کو بھوک سے الگ کر دیا جا ئے ، کسطرح موت کے اصل وجہ کی پردہ پوشی کی جائے ۔ پھر چاہے وہ سرکار کسی بھی ریاست کی ہو یا کسی بھی پارٹی کی ہو۔ سرکار کی طرف سے پردہ پوشی کی کوششیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ کس قدر شرمناک بات ہے کسی فرد کا کسی حکومت میں بھوک سے مر جانا۔ جبکہ مرنے والا فرد ایسے ملک کا شہری ہے جہاں سے اناج باہر کے ملکوں میں بھیجا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک ہندوستان میں ہر سال 270 ملین ٹن اناج پیدا کیا جاتا ہے جو کے آبادی کے لہاز سے کافی ہے مگر ان کے حفاظت سے رکھنے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ کر کبھی یہ اناج بارش کی نظر ہو کر سڑ جاتے ہیں تو کبھی دھوپ کی تپش انہیں برباد کر دیتی ہے اور اس بربادی کی صورت میں یہ اناج ان کے منھ تک نہیں پہنچ پاتا جو اسکے حقدار ہیں ، جنکی زندگیوں کو انکی ضرورت ہے۔ بھوک نے لوگوں کو اس قدر بے حال کر رکھا ہے کہ لوگ گھروں سے پکے چاول کا پانی مانگ کر اپنی زندگی کے دن کاٹنے پر مجبور ہیں۔ کچھ علاقے تو ایسے ہیں جہاں لوگ کھانا نہ حاصل ہونے کی صورت میں نشے کی پتیوں کا استعمال کر دن گزار رہے ہیں تاکہ کچھ دیر کیلئے ہی صحیح پیٹ میں اناج کے نہ ہونے پر اٹھنے والے درد سے نجات حاصل ہو ۔کچھ ماہ پہلے ہم نے دیکھا کے دلی میں بھی تین بچیاں بھوک کی وجہ کر موت کی نیند سو گئیں ۔بلکہ لگاتار ہندوستان کے کسی نہ کسی ریاست سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں جہاں بھوک موت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
ہمارے یہاں اناج کی حفاظت سے لے کر غریبوں تک اسکی فراہمی کے قانون موجود ہیں مگر اسے زمینی سطح پر حقیقی شکل نہ دینے کی وجہ کر عوام پریشان ہے ، بد حال ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کے سرکار اپنے بنائے گئے قوانین کو نافذ کرنے میں پوری توجہ مرکوز کرے۔ اور اس کام میں غیر سرکاری اداروں کی بھی مدد حاصل کی جائے ۔ ان لوگوں پر شکنجہ کسا جائے جو اناج کی کالا بازاری کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد کو خالی ہاتھ گھر لوٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں کسان پریشان ہیں ، بد حال ہیں، اپنی بدحالی کی وجہ کر موت کو گلے لگانے پر مجبور ہیں ، اناج کی واجب قیمت نہ مل پانے کی وجہ کر احتجاجی مظاہرے میں لاکھوں کی قیمت کے اناج سڑکوں پر برباد کرنے کیلئے مجبور ہیں۔ جبکے دوسری جانب اسی اناج کیلئے ترستی ہوئی لاکھوں افراد کی تعداد ہے۔
ایک طرف ریسٹورنٹ یا ہوٹل کی ٹیبل پر دکھاوے کے نام پر آرڈر کی گئ کئی ڈشیز کے ساتھ موجود شخص ہے تو دوسری جانب اسی ریسٹورنٹ کے باہر 2 روٹی کی امید میں میلے کچیلے پھٹے کپڑوں کے ساتھ ہاتھ پھیلاتا ہوا شخص ہے ، جسے دروازے پر کھڑا دربان حقارت کی نظر سے پھٹکار تا ہوا دور بھاگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ حالانکہ ان ریسٹورنٹ کی ٹیبل پر اتنا کھانا ضرور بچ جاتا ہے جسے اگر ہوٹل یا ریسٹورنٹ کے زمےداران باہر موجود افراد میں تقسیم کرنے کا کوئی طریقہ اختیار کریں تو کم از کم کسی کو فاقہ کشی سے نجات حاصل ہو جائے ۔
ہمارے یہاں اناج موجود ہے ، ضرورت سے زیادہ غذا موجود ہے اگر کسی چیز کی کمی ہے تو” دینے” کے روایت کی ، ہم شادیوں کے بچے کھانے کو کوڑے دان کی نظر کرنا تو ضروری سمجھتے ہیں مگر اسی کھانے تک غریبوں کی پہنچ پر نہ جانے کتنے رسومات اپناتے ہوئے پابندی عائد کر دیتے ہیں۔ ہمارا یہ طریقہ کار ہندوستانی تہزیب کا دامن چھلنی کر دیتا ہے اور ہمیں افسوس تک نہیں ہوتا۔
تقریبا ہر روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ پر مہنگی شادیوں اور مہنگے تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کے زمےداران کی جانب سےایسے علاقے میں، ایسی جگہوں پر ، جہاں مہنگے تقریبات اور شادیوں کا انتظام ہوتا ہے اس طرح کا نظم قائم کیا جائے کے یہاں کے بچے ہوئے کھانوں کو غریبوں تک با آسانی پہنچایا جا سکے۔ تاکہ بچے ہوئے کھانوں کو کوڑے کی نظر ہونے سے روکا جا سکے۔ ممکن ہے کے اسطرح کے اقدامات سماج میں غذائی سطح پر پھیلی نا ہمواریوں کو دور کرنے میں کچھ حد تک مدد گار ثابت ہوں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close