ہندوستان

غریب اعلیٰ ذات کو 10 فیصد ریزرویشن پر کابینہ کی مہر

نئی دہلی:مرکزی حکومت نے اقتصادی طور پر پسماندہ اعلی ذات کو بھی دس فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ریزرویشن سالانہ آٹھ لاکھ روپے سے کم آمدنی والے اعلیٰ ذات کو نوکری اور تعلیم کے شعبے میں دیا جائے گا۔ یہ موجودہ ریزرویشن نظام سے بغیر کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کئے اعلی ذاتوں کو فراہم کیا جائے گا۔مرکزی وزیر شیو پرتاپ شکلا نے اس فیصلہ پر کہا کہ یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ اب تک صرف باتیں ہوتی تھیں ، لیکن اب اس حکومت نے دکھادیا ہے کہ وہ فیصلہ بھی لے سکتی ہے۔ اس سے بہت سارے لوگوں کو فائدہ ملے گا۔ اس سلسلہ میں آگے کا فیصلہ کمیٹی کرے گی۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں پیر کو ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ حکومت منگل کو پارلیمنٹ میں اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کے لئے ریزرویشن پر آئینی ترمیم بل پیش کر سکتی ہے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے مطابق اقتصادی طور پر پسماندہ اعلیٰ ذات کو 10 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ یہ 50 فیصد ریزرویشن کی حد کے علاوہ ہوگا۔ اس کے لئے حکومت نے آئین کے آرٹیکل 15 اور 16 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اقتصادی طور سے پسماندہ طبقات کو سیکشن 15 کے تحت تعلیمی اداروں میں ریزرویشن جہاں اور دفعہ 16 کے تحت نوکری میں ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔ حکومت کے اس فیصلے سے برہمن، ٹھاکر، بھومیہار، کایستھ، بنیا و دیگراعلیٰ ذات کے لوگوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔ملک میں موجودہ وقت میں 49.5 فیصد ریزرویشن کا بندوبست ہے۔ اس میں ایس سی کو 15 فیصد،ایس ٹی کو 7.5 فیصد اور دیگر پسماندہ طبقہ (او بی سی) کے لئے 27 فیصد ریزرویشن طے ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد یہ بڑھ کر 59.5 فیصد ہو جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close