اسلامیات

”غیبت”اسلامی تعلیمات کی روشنی میں


اسلام دین فطرت ہے اوریہ امن وآشتی کادرس دیتاہے ۔ایسے اعمال کرنے کی تلقین کرتاہے جن سے باہمی محبت والفت پیداہوتی ہے اوران تمام باتوں سے سختی سے روکتاہے ۔جن کے باعث معاشرہ کاامن وسکون بربادہوتاہے اورمحبت وپیارکے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔خون خرابہ شروع ہوجاتاہے ۔زبان سے دوسرے کامذاق اُڑاناجس سے اُس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہو۔اورایسی گفتگوکرناجس سے اس کی تذلیل وتحقیرکاپہلونکلتاہو۔نقلیں اُتارکرکسی کامنہ چڑانااس کے لباس وگفتارپرہنسنااس کے منہ پراس کی عیب جوئی کرنا،کسی کی اس کے پیٹھ پیچھے غیبت کرنا۔سرکے اشارہ سے یازیرلب آہستہ سے کسی پرنکتہ چینی کرنا،اس کی خامیوں اورکمزوریوں کواچھالنا۔ایسے القاب سے اس کوپکارناجن میں اس کی مذمت کرنامقصودہوتاہے اوروہ اُنہیں ناپسندکرتاہے کسی اندھے کواندھاکہنا،کانے کوکاناکہناوغیرہ سب ممنوع ہیںاورایسی باتیں کرنے والے کواسلام فاسق شمارکرتاہے اوراللہ تعالیٰ کویہ بات پسندنہیںکہ کوئی مسلمان ہوکرفاسق کہلائے اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے بڑے ہی پیارے اندازمیں اُنہیںتنبیہ فرمائی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعدتم میرے ہوچکے ہو۔اب تمہیں ایسی کوئی نازیباحرکت نہیں کرنی چاہئے جس کی وجہ سے تمہیں بدکاراورفاسق کہاجائے۔اگرتم اسلام قبول نہ کرتے ،میرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پرایمان نہ لاتے اورشتربے مہاربنے من مانیاکرتے رہتے توتم سے کسی کو شکایت نہ رہتی۔اب تم مشرف باسلام ہوچکے ہواورلوگ بجاطورپرتم سے توقع رکھتے ہیں کہ تم خیرواصلاح کی عملی نمونہ پیش کرتے رہوگے۔نیکی اورپارسائی تمہاراشعارہوگا۔غلامان مصطفی کہلاکراگرتم فسق وفجورسے اپنادامن نہیں بچاتے توبڑی بے حیائی اورافسوس کی بات ہے ۔شاعرمشرق علامہ اقبال نے کیاہی خوب فرمایاہے۔
گرنہ داری ازمحمدرنگ وبو اززبان خودمیالانام او
یعنی اگرتمہاری سیرت وکرداراپنے محبوب کے رنگ وبوسے بہرورنہیں توتمہیں قطعاًیہ زیب نہیں دیتاکہ اپنی ناپاک زبان سے اس پاک کانام لو۔یہی وجہ تھی کہ حضرات صحابۂ کرام ؓ اس بات کو سخت ناپسندکرتے تھے کہ کسی شخص کانام حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسم گرامی کی طرح ’’احمداورمحمد‘‘ہوپھروہ ناپسندیدہ کام کرے۔حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنے زمانۂ خلافت میں اطلاع ملی کہ ایک آدمی کانام محمدہے اوروہ اچھے کام نہیں کرتا۔بلکہ غلط کاموں کارسیاہے توآپؓ نے اُسے حاضرکرنے کاحکم دیاجب وہ آیاتوآپؓ نے اُسے ڈانٹ کرفرمایاکہ یاتواپنانام بدل ڈالواوریایہ نازیباافعال ترک کردو۔کیونکہ میں یہ گوارانہیں کرتاکہ کہاجائے کہ محمدنے یہ ناپسندیدہ عمل کیاہے۔یہ ہے ادب واحترام اورمحبت والفت جوحضورنبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے غلاموں کے دل میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔
غیبت کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتاہے کہ:’’اورایک دوسرے کی غیبت نہ کروکیاتم میں کوئی پسندرکھے گاکہ اپنے مرے بھائی کاگوشت کھائے تویہ تمہیں گوارانہ ہوگااوراللہ سے ڈروبے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والامہربان ہے‘‘۔(ترجمہ:کنزالایمان،الحجرات)
غیبت کی تعریف خودزبان رسالت نے بیان فرمائی ہے ۔ایک دن حضورپاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت کیاکہ کیاتم جانتے ہوکہ غیبت کیاہے؟صحابۂ کرام ؓ نے عرض کیا۔’اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ‘ اللہ اوراس کے رسول ہی بہترجانتے ہیں۔حضورنبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایاکہ :’’ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَایَکْرَہٗ-تیرااپنے بھائی کاایساذکرکرناجسے وہ ناپسندکرے‘‘۔صحابۂ کرام ؓنے عرض کیا۔اگروہ بات اس میں پائی جاتی ہو توبھی اس کاذکرغیبت ہوگی۔آپ ﷺ نے فرمایااگروہ بات اس میں پائی جاتی ہے اورتواس کاذکرکرے توتونے غیبت کی اوراگرایسی بات کاذکرکرے جواس میں نہیں پائی جاتی ہے توتونے اس پربہتان باندھااوربہتان بہت عظیم گناہ ہے۔
غیبت فتنہ اورفسادکی جڑہے ۔محبت کی قاطع ہے،قتل وغارت کاپیش خیمہ ہے اس لئے حضورنبی اکرم ،نورمجسم ،سیدعالم ﷺ نے فرمایاکہ :’’اَلغِیْبَۃُاَشَدُّمِنَ الزِّنا-کہ غیبت بدکاری سے بھی زیادہ شدیدگناہ ہے‘‘۔صحابۂ کرام نے عرض کی یارسول اللہ ﷺکس طرح؟توآپ ﷺ نے فرمایاکہ:’’کوئی آدمی کسی غیرمحرم عورت سے بدکاری کرکے منہ کالا کرتاہے پھروہ سچے دل سے ندامت کے آنسوبہاتے ہوئے توبہ کرتاہے تواللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتاہے اورغیبت کرنے والے کواس وقت تک معاف نہیں کیاجائے گاجب تک وہ اس شخص سے جس کی غیبت کی معاف نہیں کرالیتا۔اس سے معلوم ہواکہ غیبت کبیرہ گناہوں سے ہے۔
قرآن کریم نے لوگوں کوغیبت سے متنفرکرنے کے لئے ایک ایسی تشبیہ دی جس کوسن کرکوئی سلیم الطبع غیبت کی طرف راغب نہیں ہوسکتا۔فرمایاکیاکوئی شخص انسانی گوشت کھاناپسندکرے گااورانسان بھی وہ جومردہ ہواورمردہ بھی وہ جواس کابھائی ہو۔اسی چیزکوایک مرتبہ حضورپاک ﷺ نے ایک اوراندازے سے بیان فرمایاکہ جب ماعزنے اعتراف زِناکیااورحضورپاک ﷺ نے اُنہیں رجم کرنے کاحکم فرمایاتوحضورپاک ﷺ نے سُناکہ دوآدمی آپس میں اس طرح گفتگوکررہے تھے کہ اس شخص کودیکھوکہ اس کاگناہ اللہ تعالیٰ نے ڈھانپ دیاہے۔پھراس نے خودانکشاف کیاپھراس کواس طرح سنگسارکیاگیاجس طرح کتے کوکیاجاتاہے۔آقائے دوجہاں ﷺ نے یہ بات سُنی اورخاموش رہے پھرکچھ وقت حضورپاک ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ ایک مردارگدھے کے پاس سے گزرے فرمایافلاں فلاں آدمی کہاں ہیںان دونوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ہم حاضرہیں۔فرمایااُترواوراِس مُردارگدھے کوکھاؤ۔وہ کہنے لگا۔ائے اللہ کے نبی!ﷺ اس مردارکوکون کھاتاہے؟حضورپاک ﷺ نے ارشادفرمایاکہ :تم مردہ گدھاکھانے سے تونفرت کرتے ہولیکن اپنے بھائی کی عزت پرجوتم نے حملہ کیاہے وہ مُردارکھانے سے بھی بدترہے۔پھرفرمایااس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے وہ تواس وقت جنت کی نہروں میں نہارہاہے اس میں کوئی شک نہیں کہ غیبت کبیرہ گناہوں سے ہے اگرکوئی شخص غیبت کربیٹھے توہ توبہ کرے۔اوراگرہوسکے توجس کی غیبت اس نے کی ہے اس سے بخشوالے۔(ضیاء الواعظین،ج دوم،ص442)
حضرت عبدالرحمٰن بن غنم اوراسماء بنت یزیدرضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺ نے فرمایاکہ خدائے تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جولوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اوردوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔(احمد،بیہقی)
ایسی ہرایک بات جس سے کوئی برائی واضح ہوتی ہو،خواہ اس کاتعلق اس کے لباس ،جسم،اس کے فعل یاقول کے متعلق ہو،کہاجائے، مثلاً وہ طویل القامت یاسیاہ فام یازردفام یاگربہ چشم ہے یااحوال(بھینگا)ہے۔یاکسی کے باپ کے بارے میں کہاجائے ،ناجائزبچہ یاجولاہے کی اولادہے،یااخلاق کے بارے میں کہاجائے کہ وہ بری عادات والاہے،یامغرور،بدزبان،کمزوردل ہے،یاافعال کے بارے میں ہوکہ وہ چورہے ،خائن ہے،بے نمازی ہے،نمازمیں ارکان کوسکون سے ادانہیں کرتا۔قرآن پاک غلط پڑھتاہے،یاکہے کہ اپنے کپڑوں کوپیشاب سے پاک نہیں رکھتایازکوٰۃ ادانہیں کرتا،یاحرام مال کھاتاہے،زبان چلاتاہے،بہت کھاتاہے ،بہت سوتاہے۔لباس کے بارے میں کہاجائے کہ کھلی آستین کاکپڑاپہنتاہے،درازدامن یامیلاکچیلالباس پہنتاہے۔یہ سب باتیں غیبت میں شامل ہیں۔(کیمیائے سعادت)
حضورنبی اکرم ،نورمجسم ،سیدعالم ﷺ جب جہادکے لئے روانہ ہوتے اورسفرفرماتے توہردومالداروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کوکردیتے کہ وہ غریب ان کی خدمت کرے۔وہ اُسے کھلائیں پلائیںتاکہ ہرایک کاکام چلے۔اسی طرح ایک موقع پرحضرت سلمان ؓ دوآدمیوں کے ساتھ کئے گئے تھے۔ایک روزوہ سوگئے اورکھاناتیارنہ کرسکے توان دونوں نے اُنہیں کھاناطلب کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجا،حضورپاک ﷺ کے خادم مطبخ حضرت اُسامہ ؓ تھے اُن کے پاس کچھ نہ رہاتھا،انہوں نے فرمایاکہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔حضرت سلمان ؓ نے یہی آکرکہہ دیاتواُن دونوں رفیقوں نے کہاکہ ;اسامہ ؓنے بخل کیاہے۔جب وہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے توآپ ؐنے فرمایا،میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتاہوں،انہوں نے عرض کیاہم نے گوشت کھایاہی نہیں۔فرمایا!تم نے غیبت کی اورجومسلمان کی غیبت کرے ،اس نے مسلمان کاگوشت کھایا۔(خزائن العرفان)
غیبت کتنی ہلاکت خیز بلاہے،اس بات سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یہ نمازوروزہ جیسے بلندپایہ عظمت والی عبادت کی نورانیت کوبھی ختم کردیتی ہے۔ایک مرتبہ دوروزہ دارنمازعصرسے فارغ ہوئے توحضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا!وضوکرواورنمازازسرنوپڑھواورروزہ پوراکرواوراگلے دن اس کی قضاکرنا،عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ ! یہ حکم کس کہے؟آپ ﷺ نے فرمایاتم نے فلاں کی غیبت کی ہے۔(بیہقی شریف)
غیبت صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ ہاتھ آنکھ اوراشاروں سے بھی کی جاسکتی ہے اوریہ بھی حرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے۔حضرت حسّان بن مخارق ؓکہتے ہیں کہ :ایک عورت اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس آئی۔جب وہ جانے کوکھڑی ہوئی توحضر ت عائشہ ؓ نے پیارے آقاﷺ کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیاکہ یہ عورت پست قدہے توآپؐ نے فرمایاکہ تم نے غیبت کی ہے۔‘‘(ابن کثیر)
بعض لوگ غیبت کرتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ یہ غیبت نہیں ہے۔مثلاًجب اُن کے سامنے کسی کاذکرہوتاہے توکہتے ہیں کہ الحمدللہ!اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے محفوظ رکھاتاکہ لوگوں کوپتہ چل جائے کہ وہ آدمی ایساکرتاہے۔یاجیسے کہتے ہیں کہ فلاں توبہت نیک تھالیکن وہ بھی اہل دنیامیں پھنس گیااوروہ بھی ہماری طرح لوگوں میں مبتلاہوگیا۔اسی قسم کی باتیں کہتے ہیں اورکبھی اپنی برائی ایسے کرتے ہیں جس سے دوسرے کی برائیاں واضح ہوجائیں اورجب کبھی ان کے روبروکسی کی غیبت کی جاتی ہے تواس بات پراظہارتعجب کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ کتنی انوکھی بات ہے،تاکہ غیبت کرنے والاہوشیارہواوردوسرے بھی جانیں اورجوغافل تھے وہ بھی اس کوسن لیں،کہتے ہیں بھائی !ہمیں اس کے بارے میں سُن کربہت رنج پہنچاہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ محفوظ رکھیں۔غرض اس سے یہ ہے کہ دوسرے لوگ آگاہ ہوجائیں۔(کیمیائے سعادت)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورنبی مکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐنے ارشادفرمایاکہ جس شخص نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ غیبت کی تواللہ تعالیٰ اُسے دس سزائیں دیتاہے۔
(۱)اللہ تعالیٰ اُسے اپنی رحمت سے دورہٹادیتاہے۔(۲)اُسے ملائکہ کی صحبت نصیب نہیں ہوتی۔(۳)موت کے وقت اس کی روح شدت سے قبض کی جاتی ہے۔(۴)وہ دوزخ کے قریب ہوجاتاہے۔(۵)وہ جنت سے دورہوجاتاہے۔(۶)اُسے قبرمیں شدیدعذاب دیاجاتاہے۔(۷)اُسکے عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔(۸)حضوراکرم ﷺ کی مقدس روح کواس سے اذیت پہنچتی ہے۔(۹)اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتاہے۔(۱۰)قیامت کے دن نیکیاں بدیاں تولنے کے وقت وہ مفلس ہوگا۔(ضیاء الواعظین،ج دوم،ص444)
اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کوغیبت اورجملہ صفات مذمومہ سے اپنے حبیب مکرم ؐکے صدقے وطفیل محفوظ رکھے ۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ…….

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close