ادبادبی مضامین

ـ ’’آئو اردو زبان کے قواعد و ضوابط (گرامر)سیکھیںـ‘‘

 جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ اردو ایک نہایت شیریں زبان ہے اسکی اسی نفاست و میٹھے لب و لہجہ کے چلتے کیا یگانہ کیا بیگانہ ہرکوئی اس کے ساتھ بے پناہ محبت  رکھتا ہے اور اردو کو سیکھنا چاہتے ہیں تا کہ معا شرے میں اپنی  ایک منفرد والگ پہچان بنا سکیں اور اپنی شخصیت میں اردو کے توسط سے نکھا ر لا تے ہوئے چار چاند لگا سکیں۔لیکن کسی بھی زبان کے سیکھنے کے لیے اس زبان کے قواعد وضوابط سے واقفیت حاصل کرلینے سے اس زبان کو سیکھنا بے حد آسان وسلیس ہوجا تا ہے ۔ آجکل ہمارے مشاہدہ میں آیا ہے کہ  اکثر  اردو زبان کی درس و تدریس سے وابستہ معلمین اور طلباء کو اردو سیکھنے کے تعلق سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔انھیں خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے  ہم نے کوشش کی ہے کہ  اردو گرامر کے تعلق سے اپنی ناقص معلومات آپ قارئین کے ساتھ مشترکہ کی جائے۔

اسم کی تعریف:اسم کسی شخص،جگہ یا چیز کے نام کو کہتے ہیں۔
جیسا کہ: لال قلع دہلی میں ہے ۔ ترانہء ہندی اقبال نے لکھا ہے۔ ہندوستان ایک عظیم ملک ہے۔
اوپردیے گئے جملوں میں ،لال قلع، دہلی،اقبال، ہندوستان اور ملک اسم یاnoun کہلاتے ہیں۔
آگے اسم کی بھی دو قسمیں ہیں: اسم معرفہ اور اسم نکرہ
اسم معرفہ کسی خاص شخص یا جگہ یا مختلف چیزوں کے نام کو کہتے ہیں۔ اسم معرفہ کو خصوصی نام بھی کہا جاتا ہے۔
مثال کے طورپر: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنئو ہے۔ ہندوستان کا قومی پنچھی مور ہے۔ آدمی نامہ نظیر اکبر آبادی کی مشہور نظم ہے۔انڈیا گیٹ دہلی میں ہے۔ مذکورہ جملوں میں اتر پردیش، لکھنئو، ہندوستان،آدمی نامہ،نظیر اکبر آبادی، انڈیا گیٹ دہلی، وغیرہ اسمِ معرفہ کہلائیں گے ۔
اسم نکرہ: کسی عام شخص یا عمومی چیز کے نام کو اسمِ نکرہ کہتے ہیں۔
مثال کے طورپر: گائے دوددھ دتیی ہے،مور ناچ رہا ہے،بس میں اسکولی بچے سوار ہیں ۔
مذکورہ جملوں میں گائے۔ مور ۔ بس اور بچے اسمِ نکرہ کہلاتے ہیں۔
فعل:وہ الفاظ یا کلمہ جن سے کسی کا م کا ہونا یا کرنا ظاہر ہوتا ہو، اسے فعل کہتے ہیں۔
مثال کے طورپر: یوسف پڑھ رہا ہے، گیتا ناچ رہی ہے، راشد کھیل رہا ہے۔
مذکورہ جملوں میں پڑھنا، ناچنا اورکھیلنا جیسے الفاظ کا شمار فعل میں ہوتا ہے۔
زمانہ کے لحاظ سے افعال کی قسمیں:
فعلِ ماضی: وہ جس سے گزرے ہو ئے زمانے کی معلومات ملتی ہو۔اس کو فعل ِ ماضی کہا جاتاہے۔
مثال کے طور پر : رحمان اسکول سے آیا تھا۔ میں نے افسانہ لکھا تھا۔ ہم ٹو ر پہ گئے تھے۔
فعلِ حال: وہ فعل ہے جس کا ہونا ،موجوہ زمانے میں سرجد ہا رہا ہو۔وہ فعل حال کہلاتا ہے۔
میں دوڑ رہا ہوں۔ جنیدنعت سنا رہاہے۔ لڑکے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
فعل ِ ،ستقبل :وہ فعل جو آنے ولے زمانے میں کیا جانے والا ہو ،اس کو ہم فعلِ مستقبل کہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاعل: کسی بھی طرح کے کام کو کرنے والا فاعل کہلاتا ہے۔
مثال: جاوید آج دہلی جائے گا۔ اشرف لکھ رہا ہے۔گیتا بھجن گاتی ہے۔
مذکورہ جملوں میں ۔ جاوید ۔ اشرف اور گیتا فاعل کہلایئں گے۔
مفعول: جہا ں تک مفعول کا تعلق ہے ۔ وہ اسم جو کسی کام کی وجہ سے اثر انداز ہوتا ہو، یعنی جس پر کسی کام سیدھا سیدھا اثر ہوتا ہو، مفعول کہلائے گا۔
مثال: عشرت فٹبال کھیلتا ہے۔نوشاد ستار بجاتا ہے۔ سلطان سائیکل چلاتا ہے۔
مذکورہ جملوں میں : فٹ بال۔ ستار اور سائیکل مفعول کہلائیں گے۔
اسم ِفاعل: کسی بھی فعل کی نسبت سے کام کرنے والے کو جو نام دیا جاتا ہے وہی اسمِ فاعل کہلاتا ہے۔
مثال: لکھنے والا لکھاری۔ سیاست کرنے والے سیاستدان۔ کھیلنے والے کھلاڑی۔ نماز ادا کرنے والے نمازی۔ پاٹھ کرنے والے پاٹھی۔
اسمِ مفعو ل : فعل کی نسبت سے جو نام لے کر پکارا جائے اسے اسمِ مفعول کہتے ہیں۔
مثال: مظلوم ۔محکوم ۔ مرحوم ۔ مقتول۔مفتوح وغیرہ
صفت Adjective
وہ الفاظ جن سے کسی noun یعنی اسم کی اچھائی یا برائی معلوم ہوتی ہواسے صفت کہا جاتاہے۔
مثال: اچھا بچہ۔ بے ایمان لیڈر ۔ ذہین لڑکی۔ بہادر لڑکا۔ بزدل گیدڈ۔باتونی عورت۔نیک آدمی۔
مذکورہ مکالموں میں سے اچھا۔ ذہین۔ بہادر۔ بزدل۔ باتونی ۔ نیک تمام کا شمار اسم کی صفت میں ہوتا ہے۔
صفت ِ نسبت : وہ صفت جس سے کسی اسم یاnoun کا تعلق کسی دوسری جگہ ،اشیاء یا شخص سے ظاہرہوتا ہو ۔صفتِ نسبتی کہلائے گا۔
مثال؛ جوش ملیح آبادی۔ داغ دہلوی۔ ساحر لدھیانوی۔ گجراتی تاجر۔ چائینیز موبائل۔
مذکورہ جملوں میں ملیح ّآ بادی۔ دہلوی۔ گجراتی۔ چائینیز وغیرہ الفاظ صفتِ نسبتی کہلائیں گے۔
صفتِ عددی: وہ صفت جس سے کسی اسم کی تعداد معلوم ہو اس کو صفت عددی کہا جاتا ہے۔
مثال: دس گھوڑے۔ سو کتابیں۔ تھوڑا سااناج۔ بڑے گھوٹالے۔
مذکورہ جملوں میں دس۔ سو۔ تھوڑاسا۔ بڑے ۔ صفتِ عددی کہلائیں گے۔

صفتِ مقداری: وہ صفت جو کسی چیز کی مقدار ، وزن، پیمائیش یا ناپ تو ل کو ظاہر کرے صفتِ مقداری کہلاتی ہے۔
مثال : مٹھی بھر گیہوں ۔ دو کلو چاول۔ پانچ لیٹر دودھ۔ تین میٹر کپڑا ۔
مذکورہ جملوں میں : مٹھی بھر۔ دو کلو۔ پانچ لیٹر اور تین میٹر صفتِ مقداری کی واضح مثالیں ہیں۔
موصوف : جس اسم کی کوئی اچھائی یا برائی بیان کی گئی ہو اسے موصوف کہا جاتاہے۔
گرم شال۔ ٹھنڈا کمرا ۔چوڑی سڑک۔ کچا راستہ۔ ٹوٹی سڑکیں۔
مذکورہ جملوں میں شال۔ کمرا۔ سڑک۔ راستہ ۔ سڑکیں۔موصوف کی مثالیں ہیں۔
ٓمصدر :
اسکی دو قسمیں ہیں مصدراو ر حاصلِ مصدر:
مصدر: فعل کی اصلی شکل مصدر ہے جیسے کہ ۔۔ دوڑنا،ناچنا، بولنا، جاگنا،کھیلنا،بھاگنا وغیرہ۔
حاصل مصدر:مصدر سے ہی حاصلِ مصدر وجود میں آتا ہے۔
مثال کے طوپر : شگفتہ سے شگفتگی ،دوڑنا سے دوڑ ، مسکرانا سے مسکراہٹ ، سجانا سے سجاوٹ ،گھبرانا سے گھبراہٹ اور جھیلنا سے جھیل وغیرہ
ضمیر: اصل میں ضمیر ان الفا ظ کا مجموعہ ہے جن کو ہم اسم کی جگہ پہ بولتے ہیں۔
مثال کے طورپر : میں۔ تم ۔ وہ۔اس نے ۔ میںنے ۔ ہم نے ۔ میرا تمہارا ۔ اسکا وغیرہ وغیرہ۔
خصوصی طور پر ضمیر کی تین قسمیں ہیں۔
ضمیر متکّلم : گفتگو یا بات چیت کرنے والا جو الفاظ خود کے لیے استعمال میں لاتا ہے اسے ضمیر ِ متکلّم کہتے ہیں۔
جیسا کہ: میں ۔ ہم ، میرا ، ہمارا ، مجھے وغیرہ۔
ضمیر حاضر: گفتگو کرنے والا جس کے ساتھ بات چیت کرتا ہے وہ ضمیر حاضر کہلا تا ہے۔
جیسا کہ: تم ، تمہارا، تیرا ، تجھے یا آپ وغیرہ۔
ضمیرغائب: جس کے بارے میں بات چیت ہو رہی او ر وہاں موجود نہ ہو اسے ضمیرِ غائب کے نام سے پہچانا جا تا ہے۔
جیسا کہ: وہ۔ اسے ۔ اسکو ۔ اسکا ۔ انھیں ۔ انھو ں نے ، انکو وغیرہ۔
واحد اور جمع
جہاں تک واحد کا سوال ہے یہ لفظ کسی ایک شخص ، جگہ یا چیز کا اظہار کرتا ہے۔
جیساکہ:لڑکا ، کرسی، کتاب ، بچہ۔
اسکے بر عکس جمع ایک سے زائد اشخاص ، چیزوںاور جگہوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
جیسا کہ : لڑکے، کرسیاں،کتابیں (کتب) ، بچّے۔
مذکّر و موئنث
’’نر ‘‘ کو عمومی طورپر مذکر کہا جاتا ہے ۔
جیسا کہ : لڑکا ، بکرا، باپ، مرد ، مرغا، گدھا
مادہ کو موئنث کہا جاتا ہے
جیسا کہ : لڑکی، بکری، ماں، عورت، مرغی، گدھی
متضاد الفاظ
جو الفاظ ایک دوسرے کے مخالف یا ضد ہوں وہ متضا د کہلاتے ہیں
جیسا کہ : نیک ۔ بد، عام ۔ خاص، دور ۔ پاس، نیا ۔ پرانا، دوست ۔ دشمن
مترادف الفاظ
جوالفاظ معنی اعتبار سے ایک جیسے ہوں وہ مترادف کہلاتے ہیں عمومی طورپر ایسے مترادف کا استعمال کسی عبارت زور پیدا کرنے کے کیا جاتا ہے۔
مثا ل کے طورپر: رسم و رواج، غوروفکر، عشق ومحبت، نام و نسب، عجیب و غریب ، زیر و زبر، ہوش و ہواس ، رنج و غم وغیرہ۔
اسکے علاوہ بعض مترادف ایسے بھی ہیں جو (و) کے ساتھ نا تو لکھے جا تے ہیں اور نہ ہی بولے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر:باغ ۔چمن ۔ گلشن ۔۔۔دوست ۔حبیب ۔ رفیق۔۔۔آسمان ۔ فلک ۔عرش
سورج۔ شمس۔ آفتاب۔۔۔چاند ۔قمر ۔ ماہتاب ۔۔ وغیرہ وغیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم صور ت الفاظ
ہم صورت وہ الفاظ ہوتے ہیں جنکا تلفظ یا آواز ایک جیسا ہو اور ساتھ ہی جنکا یکساں حروف پہ اختتام ہوتا ہو۔
مثال کے طورپر:
سدا۔صدا، آم ۔عام، جعلی ۔جالی، باد ۔ بعد ، گل۔ غل، بعض ۔ باز ، نذر ۔ نظر وغیرہ
سابقے او ر لاحقے
لفظ (سابقے )دراصل عربی زبان کے سابقہ کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہیں پہلے آیا ہوا ۔یعنی وہ حروف جو کسی لفظ کی ابتدا یا شروع میں جو ڑ دیئے جا ئیں سابقے کہلاتے ہیں اور دوسری زبان میں مرکب الفاظ بھی کہا جاتا ہے۔
مثا ل کے طورپر: ان: انجان ، انمول، ان تھک، ان پڑھ
بے: بے خبر، بے سبب، بے گناہ، بے شرم ، بے شمار ، بے غرض، بے وفا
با: باادب ، باقاعدہ، باوفا، ، باوضو، باشعور، باوقار،
بد: بدکردار، بد شکل ،بد مزاج، بد اخلاق، بد نصیب،بد بو
لاحقے :
عربی زبان کے لفظ ( لاحقہ) کی جمع ہے لاحقے۔جس کے معنی ہیں پیچھے جوڑنا یا بعد میں ملانا۔ یعنی جو حروف کسی لفظ کے آخر میں جو ڑ دیئے جا ئیں۔لاحقے کہلاتے ہیںان کو ہم مرکب کا نام بھی دیتے ہیں۔
مثال کے طورپر: من
مند: عقل مند، دولت مند، صحت مند، فکر مند، ضرورت مند، درد مند
دان : خاندان ، پاندان ، نمک دان آتش دان، سرمہ دان، سنگار دان
خوار: غم خوار، خونخوار، مے خوار، سود خوار،
گاہ: عید گاہ، آرام گاہ، تماش گاہ،
ور: نام ور، طاقت ور، جانور، پیشہ ور ، دانشور،دیدہ ور،

ناک: افسوس ناک ، درد ناک ، الم ناک، خطر ناک، ہولناک، غضب ناک
مجھے امید ہے مذکورہ گرامر سے وابستہ فراہم کردہ معلومات درس و تدریس سے جڑے لوگوں کے ساتھ عام قارئین کے لیے بھی معاون و مدد گار ثابت ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close