شعر وشاعری

ـ آہ ۔۔! بابری مسجد

دل کا سکوں روح کا قرار تھی بابری مسجد
تاریخ کا عظیم شاہکار تھی بابری مسجد

خود غرض سیاست نے جسے شہید کیا تھا
تہذیب کا وہ اک وقّار تھی بابری مسجد

فرقہ پرستی کے جنوں نے جسے پامال کیا کل
وہ محب وطن کی پاسدار تھی بابری مسجد

مساوات کا دیا جس نے سبق اہلِ وطن کو
یکسانیت کی وہ معمار تھی بابری مسجد

شہادت پہ ملک جس کی شرمندہ ہوا تھا
بقائے جمہور کا اعتبار تھی بابری مسجد

مل جل کے رہنے کا دیا درس سبھی کو
وہ اخلاقِ اعلی کا کردار تھی بابری مسجد

عبّاس دل میں ہے وابستہ اب بھی اسکی یاد
کس قدر عظیم و شاندار تھی بابری مسجد

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close